• ستمبر 22, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 22, 2026 5:07 شام
  • پاکستان

اراکین کمیٹی کی پاکستان اسٹیل ملز میں مؤثر سکیورٹی مانیٹرنگ کے لیے جدید نگرانی کے کیمروں کی تنصیب کی سفارش

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ذیلی کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز کی سیکیورٹی مضبوط بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے پاکستان اسٹیل ملز کی 2025-26 کی تازہ ترین آڈٹ رپورٹ ایک ہفتے میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

اراکین کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز میں مؤثر سکیورٹی مانیٹرنگ کے لیے جدید نگرانی کے کیمروں کی تنصیب کی سفارش کی۔

ذیلی کمیٹی کا اجلاس منگل کو سینٹر سید مسرور احسن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر خالدہ عطیب، سینیٹر دنیش کمار، وزارت صنعت و پیداوار اور پاکستان اسٹیل ملز کے سینیئر افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) میں چوری کے واقعات، سیکیورٹی خدشات اور انتظامی و آپریشنل امور کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز میں 36 ٹن سامان کی چوری کے معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ 36 ٹن سامان چوری کیس میں پولیس کی جانب سے چالان جمع کروایا جا چکا ہے تاہم چوری شدہ سامان کی ریکوری تاحال زیر التوا ہونے پر سینیٹ سب کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا۔

کنوینئر کمیٹی نے چوری میں ملوث ملازمین کے خلاف سخت کارروائی اور ملوث افراد کا پاکستان اسٹیل ملز کی حدود میں داخلہ روکنے کی ہدایت کی۔

ذیلی کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان اسٹیل ملز میں اس وقت ڈی ایس ایف اہلکار سیکیورٹی پر مامور ہیں جبکہ وزارت دفاع کی جانب سے ڈی ایس ایف اہلکاروں کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے، پاکستان اسٹیل ملز تقریباً ایک ہزار ایکڑ رقبے پر محیط ہے اور بڑا حصہ تاحال کھلا ہے، اربوں روپے مالیت کی مشینری اور سامان کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں کی شدید کمی ہے۔

کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز میں جدید نگرانی کے کیمرے نصب کرنے کی سفارش اور غیر مجاز داخلے کا ذریعہ بننے والی زیر زمین سرنگیں مستقل بند کرنے کی ہدایت کی، ایف آئی اے کو پاکستان اسٹیل ملز سے متعلق زیر التوا ریکوری کیس کی انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی، پاکستان اسٹیل ملز کی زمین پر تجاوزات کے معاملے پر سینیٹ سب کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا، تجاوزات کے خلاف حالیہ آپریشن ناجائز قابضین کی مزاحمت کے بعد روک دیا گیا تھا۔

کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر ملیر اور سیکرٹری داخلہ سندھ کی آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثے قومی اثاثے ہیں، ان کے تحفظ کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔

ذیلی کمیٹی نے 2025-26 کی تازہ ترین آڈٹ رپورٹ جمع نہ کروائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور پاکستان اسٹیل ملز کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ رپورٹ ایک ہفتے کے اندر پیش کی جائے۔

کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز سے 36 ٹن سامان کی چوری کے معاملے کا بھی جائزہ لیا اور چوری شدہ سامان کی واپسی کے حوالے سے پیش رفت پر سوالات کیے۔

اراکین نے کہا کہ چوری کے متعدد مقدمات میں ملازمین کے خلاف انتظامی کارروائی کی گئی تاہم چوری شدہ سامان کی واپسی تاحال زیر التوا ہے۔ کنوینئر کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ چوری کے واقعات میں ملوث ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایسے افراد کو پاکستان اسٹیل ملز کی حدود میں داخلے سے روکا جائے۔

ذیلی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ 36 ٹن سامان کی چوری کے مقدمے میں پولیس کی جانب سے چالان جمع کروا دیا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ چوری کے مقدمات میں متعلقہ حکام اور عدالتوں کے ذریعے انتظامی کارروائی کے ساتھ ساتھ فوجداری کارروائی بھی جاری ہے، جبکہ متعدد مقدمات میں سامان کی ریکوری بھی کی گئی ہے۔

سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت پاکستان اسٹیل ملز میں ڈی ایس ایف اہلکار تعینات ہیں جبکہ وزارت دفاع نے حال ہی میں ان کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارت صنعت و پیداوار نے دفاع ڈویژن کے ساتھ ڈی ایس ایف اہلکاروں کی مرحلہ وار واپسی کا معاملہ اٹھایا ہے، تاکہ پاکستان اسٹیل ملز کو متبادل سیکیورٹی انتظامات کرنے کے لیے مناسب وقت مل سکے۔

ذیلی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان اسٹیل ملز تقریباً ایک ہزار ایکڑ رقبے پر محیط ہے، جس کا ایک بڑا حصہ تاحال کھلا ہے اور کوئی چار دیواری یا باڑ نہیں ہے، جس کی وجہ سے سیکیورٹی کے مزید چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔ ذیلی کمیٹی نے اربوں روپے مالیت کی مشینری اور سامان کی حفاظت پر مامور ضروری سیکیورٹی اہلکاروں کی شدید کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔

ذیلی کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ ضروری انتظامی، اکاؤنٹس اور سیکیورٹی عملے کی بھرتی کی تجویز وزارت خزانہ کے ساتھ اٹھائی گئی ہے۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد ذیلی کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز کی انتظامیہ کو مطلوبہ عملے کی تعداد کے حوالے سے جامع جواز پیش کرنے کی ہدایت کی۔

کنوینئر کمیٹی نے وزارت خزانہ کو بھی ہدایت کی کہ پاکستان اسٹیل ملز کے لیے ضروری عملے کی بھرتی کے معاملے پر آئندہ اجلاس میں اپنے نمائندے کی شرکت یقینی بنائی جائے تاکہ اس مسئلہ کا قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔

اراکین کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز میں مؤثر سیکیورٹی مانیٹرنگ کے لیے جدید نگرانی کے کیمروں کی تنصیب کی سفارش کی۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ احاطے میں غیر مجاز داخلے کا ذریعہ بننے والی زیر زمین سرنگوں کی نشاندہی کرکے انہیں مستقل طور پر بند کیا جائے تاکہ چوری اور غیر مجاز داخلے کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

کنوینئر کمیٹی نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھی پاکستان اسٹیل ملز سے متعلق ریکوری کیس کے حوالے سے زیر التوا انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ ذیلی کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز کی زمین پر تجاوزات کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور قرار دیا کہ یہ زمین ایک قیمتی قومی اثاثہ ہے جس کا تحفظ ضروری ہے۔

ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ حالیہ انسداد تجاوزات آپریشن ناجائز قابضین کی طرف سے مزاحمت کے بعد روک دیا گیا تھا۔

کنوینئر کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر ملیر اور سیکرٹری داخلہ سندھ کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ان کی موجودگی یقینی بنائی جائے اور کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی زمین سے تجاوزات کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

ذیلی کمیٹی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثے قومی اثاثے ہیں اور ان کے تحفظ، سیکیورٹی کی بہتری اور انتظامی و افرادی قوت کی کمی کو دور کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کی جانب سے مربوط اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے