اس سیکیورٹی واقعے کا انکشاف 16 جولائی 2026 کو ہوا، جس کے بعد متعلقہ فائل شیئرنگ سسٹم کو فوری طور پر اپ ڈیٹ کیا گیا
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایک اہم ڈیٹا سسٹم میں سیکیورٹی خامی کے باعث تقریباً 30 لاکھ افراد کی ذاتی معلومات غیر مجاز افراد تک پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے ڈیفنس مین پاور ڈیٹا سینٹر (DMDC) کے مطابق ایک فائل شیئرنگ سرور میں موجود غیر خفیہ شدہ ذاتی معلومات تک غیر مجاز صارفین نے تقریباً نو ماہ تک رسائی حاصل کی۔
محکمہ دفاع کے مطابق اس سیکیورٹی واقعے کا انکشاف 16 جولائی 2026 کو ہوا، جس کے بعد متعلقہ فائل شیئرنگ سسٹم کو فوری طور پر اپ ڈیٹ کیا گیا اور سیکیورٹی خامی کو دور کر دیا گیا۔
متاثرہ افراد کو بھیجے گئے نوٹس کے مطابق تحقیقات میں معلوم ہوا کہ اکتوبر 2025 سے 16 جولائی 2026 کے دوران محدود تعداد میں غیر مجاز صارفین نے سرور پر محفوظ فائلوں تک رسائی حاصل کی۔
امریکی حکام کے مطابق متاثرہ ڈیٹا میں فوج سے وابستہ افراد کے سوشل سیکیورٹی نمبرز اور ملازمت سے متعلق معلومات بھی شامل تھیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سیکیورٹی بریچ سے تقریباً 27 لاکھ 60 ہزار زندہ افراد جبکہ 2 لاکھ 94 ہزار مرحوم افراد سے متعلق معلومات متاثر ہوئی ہیں۔
محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ فی الحال ایسی کوئی شہادت سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ متاثرہ معلومات کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ڈیٹا کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ واقعہ امریکی محکمہ دفاع کے لیے ایک اہم سائبر سیکیورٹی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ متاثرہ ڈیٹا کا تعلق فوجی افرادی قوت کے ایک بڑے حصے سے بتایا گیا ہے۔
