• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 12:27 شام
  • پاکستان

اس میں اومیگا 3 اور اومیگا 6 فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں جبکہ سیچوریٹڈ فیٹس کی مقدار نسبتاً کم بتائی جاتی ہے

برصغیر کے کھانوں میں سرسوں کا تیل صدیوں سے استعمال ہوتا آرہا ہے۔ اس کی مخصوص خوشبو، سرخ بھورا رنگ اور تیز ذائقہ اسے دوسرے خوردنی تیلوں سے منفرد بناتا ہے، تاہم غذائی اجزا کی وجہ سے اسے صحت کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

سرسوں کے تیل کو بعض اوقات ’سرسن‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں اومیگا 3 اور اومیگا 6 فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں جبکہ سیچوریٹڈ فیٹس کی مقدار نسبتاً کم بتائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے متوازن غذا میں ایک ممکنہ صحت مند خوردنی تیل کے طور پر زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔

سرسوں کے تیل میں موجود بعض اجزا اور اس کی اینٹی سوزش خصوصیات کے باعث اسے مختلف صحت سے متعلق فوائد سے جوڑا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اس کا استعمال دل کی صحت کے حوالے سے کیا جاتا ہے، کیونکہ اس میں سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے اسے بعض دیگر چکنائیوں کے مقابلے میں بہتر انتخاب سمجھا جاتا ہے۔

روایتی طور پر سرسوں کا تیل سردی، کھانسی اور بعض سانس کی تکالیف کے دوران بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ سرد موسم میں اس کی مالش بھی ایک عام گھریلو طریقہ ہے، اگرچہ ایسے استعمال کو طبی علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

سرسوں کے تیل میں گلوکوسینولیٹ نامی مرکبات بھی پائے جاتے ہیں، جنہیں اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات سے جوڑا جاتا ہے۔ اسی طرح اس میں موجود ایلی آئسوتھیوسینیٹ کو بھی ایک اینٹی فنگل ایجنٹ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ بعض مطالعات میں ان اجزا کو انفیکشن اور مخصوص بیماریوں کے حوالے سے زیرِ تحقیق رکھا گیا ہے۔

اس تیل کی مالش کو خون کی گردش بہتر بنانے کے لیے بھی روایتی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جوڑوں اور پٹھوں کی تکلیف کے دوران سرسوں کے تیل سے مالش کا رواج ہے، جبکہ اس میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کو جسم میں سوزش اور درد سے متعلق ممکنہ فوائد کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔

سرسوں کے تیل میں اومیگا 3، اومیگا 6 فیٹی ایسڈز اور وٹامن ای بھی موجود ہوتے ہیں، جنہیں جسم کے لیے ضروری غذائی اجزا میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر اسے مدافعتی نظام کے لیے معاون غذا کا حصہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔

ذیابیطس کے حوالے سے بھی سرسوں کے تیل میں موجود الفا ٹوکوفیرول، جو وٹامن ای کی ایک شکل ہے، پر تحقیق کی گئی ہے۔ اسی طرح بعض مطالعات میں سرسوں کے تیل کو خون میں شکر کی سطح اور انسولین سے متعلق عوامل کے حوالے سے بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔

کینسر کے بارے میں بھی بعض تحقیق میں سرسوں کے تیل کے مخصوص اجزا کو کینسر کے بعض خلیات کی نشوونما اور پھیلاؤ پر ممکنہ اثرات سے جوڑا گیا ہے۔ تاہم ایسے تحقیقی نتائج کو کسی بیماری کے ثابت شدہ علاج یا کینسر سے یقینی تحفظ کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔

سرسوں کے تیل میں ٹرانس فیٹس کی عدم موجودگی کو بھی اس کے غذائی پہلوؤں میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ جسم میں ٹرانس فیٹس کی زیادہ مقدار انسولین کے عمل اور چکنائی کے آکسیڈیٹو عمل جیسے عوامل سے منسلک کی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر سرسوں کا تیل کھانے میں ذائقے کے ساتھ مختلف غذائی اجزا فراہم کرسکتا ہے، تاہم اس کے استعمال کی مقدار اور مجموعی غذا کا توازن بھی اہم ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے