لاشیں ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور 3 بیٹیوں کی ہیں، پولیس
سائٹ سپر ہائی وے احسن آباد لاکھانی فلیٹس میں گھر کے اندر سے میاں بیوی اور تین بچوں سمیت 5 افراد کی کئی روز پرانی جلی ہوئی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
پولیس کے مطابق لاشیں ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور 3 بیٹیوں کی ہیں، لاشیں ایک ہی کمرے سے ملی ہیں۔ ڈاکٹر عمر احسن آباد میں واقع کسی اسپتال میں کام کرتے ہیں۔
واقعے کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور کرائم سین یونٹ کو طلب کر لیا گیا۔
ایس ایس پی ایسٹ زبیر نظیر شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مددگار 15 پر پڑوسیوں نے اطلاع دی، پولیس نے آکر فلیٹ کا دروازہ توڑا اور اندر داخل ہوئے جہاں میاں بیوی اور تین بچوں کی لاشیں ایک ہی کمرے میں موجود تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عمر کا ایک بھائی پنجاب میں رہائش پذیر ہے جو لاتعلقی کا اظہار کر رہا ہے، تینوں بچوں کی عمر 10 سال سے کم ہے۔
ایس ایس پی ایسٹ کا کہنا تھا کہ کرائم سین یونٹ موقع سے شواہد اکھٹے کر رہا ہے، کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا اور پوسٹ مارٹم کے بعد وجہ موت سامنے آسکے گی۔
ریسکیو حکام کی جانب سے لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کی جا رہی ہیں تاکہ وجہ موت کا تعین ہو سکے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے پر تفصیلات طلب کرتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ کو ہدایت کی کہ ابتدائی پولیس کارروائی اور ایکشن سے فی الفور آگاہ کریں۔ واقعے کی تفتیش و تحقیق سے حتمی نتائج کو سامنے لایا جائے۔
ترجمان وزیر داخلہ و قانون سندھ سہیل احمد جوکھیو کے مطابق جائے وقوعہ سے حاصل عینی اور واقعاتی شواہد کو پیش نظر رکھ کر وقوعے کے پس پردہ عوامل اور محرکات کا پتہ لگایا جائے۔
وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ ایس ایس پی ایسٹ اپنی نگرانی میں واقعے کی تفتیش کو مؤثر اور مربوط بنائیں، واقعے کی لمحہ بہ لمحہ تفتیش اور پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے۔
