• ستمبر 10, 2026
  • Last Update ستمبر 10, 2026 8:18 شام
  • پاکستان

اسلام آباد میں محبت کی یادگار، صوبیہ محل کی دلچسپ داستان

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

پاکستان میں ٹیلی وژن نشریات کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا تو جن قابل و باصلاحیت فن کاروں، اور فلم سازی و براڈ کاسٹنگ کا تجربہ رکھنے والوں کی خدمات حاصل کی گئیں، ان میں کنور آفتاب احمد بھی تھے۔ ان کا نام پی ٹی وی کے معماروں میں شامل ہے۔

کنور آفتاب احمد نے پی ٹی وی کے ناظرین کو بطور پروڈیوسر کئی یادگار ڈرامے اور دستاویزی پروگرام دیے۔ انھوں نے نشریات اور براڈکاسٹنگ کے شعبے میں‌ خود کو ایک باکمال اور اپنے وقت کا بہترین آرٹسٹ ثابت کیا۔ آج کنور آفتاب احمد کی برسی ہے۔ وہ 2010ء میں وفات پا گئے تھے۔ کنور آفتاب لاہور کے ایک قبرستان میں آسودۂ ہیں۔

ٹیلی ویژن پر جس دور میں کئی قابل و باصلاحیت پروڈیوسر اور ڈائریکٹر ناظرین کے لیے شان دار اور رنگا رنگ پروگرام تیار کررہے تھے، کنور آفتاب نے بھی اپنی اوّلین سیریل ’نئی منزلیں نئے راستے‘ پی ٹی وی کے لیے پیش کرنے کی کوشش کی مگر لاہور میں تیار کردہ یہ سیریل سینسر بورڈ سے منظور نہ ہوسکا۔ بعد میں کنور آفتاب نے دوسرے پروجیکٹس پر کام کیا اور کئی یادگار ڈرامے، مختلف شوز اور دستاویزی پروگرام پی ٹی وی کو دیے۔

کنور آفتاب 28 جولائی 1929ء کو مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے تھے۔ گارڈن کالج راولپنڈی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد انھوں نے پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ والد انھیں وکیل بنانا چاہتے تھے، لیکن کنور آفتاب کو فلم سازی میں دل چسپی تھی۔ وہ لندن گئے اور وہاں فلم سازی کی تربیت حاصل کرکے چار برس کے بعد وطن لوٹے۔ یہاں انھوں نے بطور ڈائریکٹر، پروڈیوسر اپنی پہلی فلم ’جھلک‘ تیّار کی جو غیر روایتی اور عام ڈگر سے ہٹ کر بنائی گئی تھی مگر باکس آفس پر اسے کام یابی نہیں ملی۔ اس ناکامی کے بعد وہ 1964ء میں ٹیلی وژن سے وابستہ ہوگئے۔ انھوں نے فلم سازی کی تعلیم اور اپنے تجربے سے کام لے کر ٹیلی ویژن کی سرکردہ شخصیات اسلم اظہر، آغا ناصر اور فضل کمال کے ساتھ اردو ڈرامہ کو ہر خاص و عام میں مقبول بنایا۔

معروف صحافی اور براڈ کاسٹر عارف وقار لکھتے ہیں کہ کنور آفتاب زندگی بھر تجرباتی فلموں اور ڈراموں، علامت نگاری اور تجریدی فنون اور ادبی دانش وری کے سخت مخالف رہے۔ ڈرامے سے اُن کا رابطہ شعر و ادب کے حوالے سے نہیں بلکہ بصری فنون کے حوالے سے تھا چنانچہ ایسے مصنفین جو عوام کی سمجھ میں نہ آنے والا ادب تخلیق کرتے تھے، اُن کے نزدیک گردن زدنی تھے۔ عارف وقار نے مزید لکھا، وہ ڈنکے کی چوٹ پر کہا کرتے تھے کہ میں راجپوت ہوں، جو کہتا ہوں کر دکھاتا ہوں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کی ملازمت کے دوران پندرہ برس تک اُن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، اُن کا سکھایا ہوا پہلا سبق یہی تھا کہ وقت کی پابندی کرو اور دوسروں سے بھی کراؤ۔ اگر ہیرو بھی ریہرسل میں لیٹ آیا ہے تو سب کے سامنے اس کی سرزنش کرو تاکہ دوسروں کے لیے عبرت کا باعث بنے۔ سختی کے اس رویّے نے شروع شروع میں مجھے بہت پریشان کیا اور میں آرٹسٹ برادری میں ناپسندیدہ شخصیت بن کے رہ گیا لیکن کچھ ہی عرصے بعد اس سخت گیر رویّے کے ثمرات نمودار ہونے لگے جب ساری ٹیم نے بر وقت پہنچنا شروع کر دیا اور ڈرامے صحیح وقت پر تیار ہوکر سب سے داد وصول کرنے لگے۔ غلام عباس کی کہانی ’ کن رس‘ اپنی سنجیدگی کے لحاظ سے اور امجد اسلام امجد کا ڈرامہ ’یا نصیب کلینک‘ اپنی ظرافت کے سبب کنور آفتاب کی ابتدائی کامیابیوں میں شامل تھے۔ جس طرح لاہور میں انھوں نے نوجوان ڈرامہ نگار امجد اسلام امجد کی تربیت کی اور اسے کامیڈی لکھنے کے گر سکھائے اسی طرح کراچی میں انھوں نے کہانی کار حمید کاشمیری کا ہاتھ تھاما اور ٹیلی پلے کے اسرار و رموز سمجھائے۔ کنور آفتاب کا طرزِ آموزش خالصتاً عملی تھا۔ وہ لیکچر دینے کی بجائے ہر چیز کر کے دکھاتے تھے۔

ان کے مشہور ٹیلی وژن ڈراموں میں زندگی اے زندگی، منٹو راما اور شہ زوری سرِ فہرست ہیں۔ انفرادی کاوشوں‌ میں‌ ان کے ڈرامے نجات، یا نصیب کلینک، سونے کی چڑیا، اور نشان حیدر سیریز کا ڈراما کیپٹن سرور شہید قابلِ ذکر ہیں۔ کنور آفتاب احمد کے دستاویزی پروگراموں میں سیالکوٹ کی فٹ بال انڈسٹری پر فلم نے بین الاقوامی فلمی میلوں میں ایوارڈ حاصل کیے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے