• ستمبر 10, 2026
  • Last Update ستمبر 10, 2026 6:38 شام
  • پاکستان

اسلام آباد میں محبت کی یادگار، صوبیہ محل کی دلچسپ داستان

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

اردو شاعری میں طنز و مزاح پر مبنی شاعری کا ایک بڑا نام اکبر الہٰ آبادی کا ہے جو اپنے معاشرے کے بڑے ناقد تھے اور ان کی غرض اصلاحِ معاشرہ رہی جس کے لیے انھوں نے شاعری کا سہارا لیا۔ اکبر الہ آبادی انگریز راج میں سیشن جج بھی رہے۔

اکبر نے جس عہد میں آنکھیں کھولیں اور ہوش سنبھالا تو اس وقت نہ صرف مسلمانوں کا زوال بلکہ انتہائی انحطاط و یاس زمانہ تھا۔ اکبر کی تعلیم اور پرورش اسی ماحول میں ہوئی۔ مذہبیت و مشرقیت ان کی گھٹی میں پڑی تھی۔ اسلامی تہذیب و معاشرت سے ان کی شخصیت کا خمیر گندھا۔

اردو کے بڑے نقّاد اور شاعر شمس الرحمٰن فاروقی نے اپنے ایک مضمون میں اکبر کے متعلق لکھا ہے، سید اکبر حسین کی پیدائش 1846ء میں الہ آباد کے پاس جمنا پار کے بارہ نامی گاؤں میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے اپنے والد سید تفضل حسین سے حاصل کی۔ ان لوگوں کا خاندان بارہ کے علاقے میں مدت سے آباد تھا۔ قدامت پسند، متوسط الحال، اور عزت نفس کے پاس دار اس خاندان نے قدیم کلاسیکی تعلیم کی روایتوں کو برقرار رکھا تھا، لیکن ان کی مالی حالت اچھی نہ تھی۔ اکبر کو مجبوراً جمنا پر زیر تعمیر پل کے ٹھیکے دار کے یہاں کلرک کی ملازمت کرنی پڑی۔ اس درمیان انھوں نے اپنی کوششوں سے انگریزی کی اچھی استعداد بہم پہنچائی اور عدالت ضلع کے وکلا کا امتحان بآسانی پاس کر لیا۔ انھیں 1869ء میں نائب تحصیل دار مقرر کیا گیا، لیکن جلد ہی انہوں نے وہ نوکری ترک کر دی اور ہائی کورٹ کے وکلا کا امتحان پاس کر کے الہٰ آباد ہائی کورٹ میں وکالت کرنے لگے۔

چند برس کی وکالت کے بعد 1880ء میں وہ منصف کے عہدے پر فائز کیے گئے۔ اس کے بعد وہ سرکاری ملازمت اور عہدوں میں مسلسل ترقی کرتے ہوئے 1894ء میں سیشن جج تعینات ہوئے۔ جلد ہی وہ بنارس میں، اور پھر دوسرے اضلاع میں ڈسٹرکٹ جج کے عہدے پر متمکن ہوئے۔ زندگی کے آخری برسوں میں مہاتما گاندھی، ملک کی آزادی، اور ہندو مسلم اتحاد کے لیے مہاتما گاندھی کی جدوجہد سے اکبر کا شغف پہلے سے بھی فزوں ہو گیا۔ انہوں نے ان موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار ایک طویل نظم ( یا مختصر نظموں کے طویل سلسلے) گاندھی نامہ میں کیا۔

اکبر نے 9 ستمبر 1921ء میں اس دنیا سے کوچ کیا۔ وہ اس دور میں سیاسی اور سماجی اعتبار سے اپنی شاعری کی وجہ سے ہندوستان بھر میں مشہور تھے۔ اس دور کے ایک شاعر رحم علی الہاشمی کو اکبر سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور ان کی وفات کے بعد رحم علی الہاشمی نے اپنے ایک مضمون میں اپنی یادیں تازہ کیں جن سے اکبر الہ آبادی کی شخصیت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، ملاحظہ کیجیے۔

حضرت اکبر الہ آبادی سے میری پہلی ملاقات لکھنؤ میں ہوئی جب میں اپنے استاد حضرت عزیز لکھنوی مرحوم کے ہمراہ ان کی اقامت گاہ امین آباد پارک میں ان سے ملنے گیا تھا۔ 1917ء میں کینگ کالج لکھنؤ کے سالانہ مشاعرہ میں میں نے جو غزل پڑھی تھی وہ استاد مرحوم کے حکم سے سنائی۔ حضرت نے اس کی اتنی تعریف کی کہ میں جھینپ سا گیا اور سلام کرنے کے لیے بھی ہاتھ نہ اٹھا سکا۔ حضرت عزیز نے چونکا کر اشارہ کیا تو آداب بجا لایا۔

میرے بعد حضرت عزیز نے اپنے چند شعر سنائے۔ اور پھر حضرت نے اپنی بیاض اٹھائی اور دیر تک اپنے کلام سے محظوظ فرماتے رہے۔ اس تعارف کے بعد میں ان کے دورانِ قیام لکھنؤ میں کئی بار حاضر ہوا اور انھوں نے اپنی عنایت سے نہایت فیاضی سے کلام سنایا۔

حضرت اکبر مرحوم عام طور پر ہر شخص کو اپنا کلام نہیں سناتے تھے۔ لیکن جن لوگوں کو وہ منتخب کر لیتے تھے انہیں خوب سیر ہو کر سناتے اور اپنے کلام سے خود بھی لطف اندوز ہوتے تھے۔ چنانچہ اس سلسلہ کو دیر تک جاری رکھتے تھے۔ مرحوم کو میں نے بڑھاپے میں دیکھا تھا۔ جب کہ اُن کے جسم میں پوست و استخواں کے سوا کچھ نہ تھا لیکن دل و دماغ اب بھی نوجوانوں کی طرح شاداب تھا۔ اشعار کے ساتھ ہی گفتگو میں بھی وہی زندہ دلی، نکتہ رسی اور جدّت ہوتی تھی اور شعر سناتے وقت نہیں معلوم ہوتا تھا کہ سنانے والا کوئی ضعیف العمر بزرگ ہے۔ نماز کے بہت پابند تھے، جب کبھی نماز کے وقت میں میں بھی ہوتا تو سخت اصرار کر کے امامت کے لیے مجھے کھڑا کرتے۔ یہ بھی ان کی ایک بڑی بزرگی تھی۔

مرحوم کا مکان شہر کے وسطی حصہ میں تھا۔ اور پرانے طرز کا تھا۔ پھاٹک کے اندر داخل ہو کر صحن ملتا تھا جس کے بیچ میں چھوترا تھا۔ دو رخ پر کمرے اور ایک رخ پر برآمدہ اور کمرہ تھا۔ اس برآمدہ میں مرحوم ایک آرام کرسی پر بیٹھے ہوتے تھے۔ بائیں بازو پر ایک میز تھی جس پر کتابیں اور مسودات تھے۔ ایک میز سامنے تھی، اس میز پر بھی لکھنے پڑھنے کا سامان تھا اور اس کے سامنے چند کرسیاں مونڈھے اور بینچیں رہتی تھیں جن پر آنے جانے والے بیٹھتے تھے۔ دن کا بیشتر حصہ اسی شعر و سخن کے چرچے میں صرف ہوتا۔ شام کی چائے یہیں نوش فرماتے اور اکثر شب کا کھانا بھی یہیں تناول فرماتے۔ زندگی بہت سادہ تھی۔ لباس اور خوراک دونوں میں سادگی نمایاں تھی اور چائے یا کھانے کے وقت جو ہوتا اسے بلا کر ضرور شریک کرتے اور انکار پر ناگواری کا اظہار فرماتے۔ شہر کے ارباب علم و فن کے علاوہ باہر سے بھی لوگ آتے رہتے اور یہیں مجھے اکثر مشاہیر علم و ادب سے تعارف کا شرف حاصل ہوا۔

مختلف ادبی تذکروں میں جہاں اکبر کی زندگی اور شخصیت کے متعلق پڑھنے کو ملتا ہے وہیں ان کے فن پر بھی قلم اٹھایا گیا ہے۔ تذکرہ نویس لکھتے ہیں کہ اکبر الہ آبادی کو بچپن ہی سے شعر و فن سے دل چسپ تھی اور وہ سن شعور کو پہنچنے کے بعد برابر مشاعروں میں شرکت کیا کرتے تھے۔ انھوں نے غیرمعمولی ذہانت کی بدولت اپنے ماحول اور معاصرانہ زندگی کی ہماہمی سے بالکل مختلف قسم کا اثر لیا، اور پختہ کاری و نغز گفتاری کی خصوصیات حاصل کرتے ہی شاعری میں طنز و مزاح کا رنگ اختیار کیا۔ دیگر اساتذۂ فن کی طرح شاعری کی ابتدا انھوں نے بھی روایتی غزل گوئی سے کی اور غلام حسنین صاحب وحید الہ آبادی کو اپنا استاد بنایا جو خواجہ آتش لکھنوی کے شاگرد تھے اور اپنے وقت کے استاد فن۔ اکبر نے ابتدا میں تو ایسا کیا لیکن آگے چل کر وہ اس قسم کے خیالات کو تنگ نظری شمار کرنے لگے تھے اور کسی مخصوص دبستان شاعری کی حلقہ بگوشی کو غیر ضروری سمجھتے تھے۔ انھوں نے اپنا رنگ ہی الگ نکال لیا تھا اور اس لحاظ سے خود اپنے نقاد و استاد تھے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے