کرسٹا پائیک کو جان لیوا انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی دو کوششیں کی گئیں، تاہم وہ زندہ بچ گئی
امریکا میں تقریباً دو صدیوں بعد کسی خاتون کو سزائے موت دیے جانے کا معاملہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
50 سالہ کرسٹا پائیک کو 1995 میں اپنی 19 سالہ ہم جماعت کولین سلیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی، تاہم سزا پر عمل درآمد آخری مرحلے میں قانونی رکاوٹوں کے باعث رک گیا۔
رپورٹس کے مطابق ٹینیسی کے شہر ناکس ول میں پیش آنے والے اس قتل کی بنیاد حسد، افواہوں اور نوجوانوں کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں پر مبنی ایک پیچیدہ صورتحال بتائی جاتی ہے۔ اس معاملے میں کرسٹا پائیک، اس کے بوائے فرینڈ ٹوڈ ڈیرل شپ اور مقتولہ کولین سلیمر کے کردار نمایاں رہے۔
کولین ایک ذہین، ملنسار اور اپنے مستقبل کے حوالے سے پُرجوش طالبہ تھی۔ نئے ماحول میں اس کی دوستی کرسٹا پائیک سے ہوئی، تاہم بعد میں کرسٹا کے بوائے فرینڈ ٹوڈ ڈیرل کے ساتھ کولین کی معمولی بات چیت بھی تنازع کا سبب بننے لگی۔
مقدمے کے مبصرین کے مطابق کرسٹا اپنے بوائے فرینڈ کے حوالے سے انتہائی حساس اور مالکانہ رویہ رکھتی تھی۔ کولین اور ٹوڈ کے درمیان معمولی قربت بھی اس کے شکوک کو بڑھا دیتی، جبکہ کیمپس میں گردش کرنے والی افواہوں نے صورتحال مزید خراب کردی۔
کولین پر یہ الزام لگایا جانے لگا کہ وہ ٹوڈ کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم بعد کی تحقیقات میں اس دعوے کی کوئی ٹھوس بنیاد سامنے نہیں آئی۔ کولین نے خود بھی بارہا وضاحت دینے کی کوشش کی، لیکن افواہوں کا سلسلہ رکنے کے بجائے بڑھتا گیا۔ بالآخر اس نے تنازع سے دور رہنے کے لیے اپنی پڑھائی اور کمپیوٹر لیب کے کام پر توجہ مرکوز کرلی۔
قتل تک معاملہ کیسے پہنچا؟
پولیس تحقیقات کے مطابق کرسٹا کے اندر کولین کے خلاف غصہ اور حسد بڑھتا چلا گیا۔ تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ کرسٹا نے اپنے بوائے فرینڈ ٹوڈ ڈیرل سے کولین کو ’سبق سکھانے‘ میں مدد طلب کی اور وہ اس پر آمادہ ہوگیا۔
قتل سے پہلے کرسٹا نے کولین کو ٹوڈ ڈیرل اور ایک اور ساتھی کے ہمراہ باہر جانے کی دعوت دی۔ کولین نے شاید اسے اختلاف ختم کرنے کی کوشش سمجھا، لیکن راستے میں صورتحال اچانک سنگین ہوگئی۔
استغاثہ کے مطابق 18 سالہ کرسٹا نے اپنے 17 سالہ بوائے فرینڈ اور ایک ساتھی کے ساتھ مل کر کولین کو جنگل میں لے جاکر تشدد کا نشانہ بنایا اور سر پر حملہ کرکے قتل کردیا۔ مقدمے میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ کرسٹا نے حملے کی قیادت کی جبکہ ٹوڈ ڈیرل اور نیٹالی نے مقتولہ کو قابو کرنے میں مدد کی۔
تحقیقات کے دوران کرسٹا نے پولیس کو واقعے کی تفصیلات بتائیں اور ٹوڈ ڈیرل و نیٹالی کے کردار کا ذکر بھی کیا۔ پولیس کے مطابق ٹوڈ ڈیرل نے بعد میں قتل میں اپنے کردار کا اعتراف کیا، تاہم اس نے زیادہ تر ذمہ داری کرسٹا پر ڈالنے کی کوشش کی۔
مارچ 1996 میں مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے مؤقف اپنایا کہ کرسٹا نے قتل کی منصوبہ بندی اور حملے کی قیادت کی اور دیگر افراد کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا۔ عدالت نے بعد ازاں اسے قتل کے جرم میں سزائے موت سنادی۔
مقتولہ کے جسم پر پینٹاگرام کیوں بنایا گیا؟
یہ کیس اس وقت مزید غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا جب تحقیقات میں مقتولہ کے جسم پر پانچ کونوں والے ستارے، یعنی پینٹاگرام، جیسی علامت بنائے جانے کا انکشاف ہوا۔ اس واقعے نے امریکا میں ’شیطان پرستی‘ سے متعلق خدشات اور قیاس آرائیوں کو بھی ہوا دی۔
کرسٹا کے بوائے فرینڈ شپ نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے کولین کے جسم پر پینٹاگرام کی علامت بنائی تھی، جسے عام طور پر شیطان پرستی سے منسلک کیا جاتا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق کرسٹا نے مقتولہ کی کھوپڑی کا ایک ٹکڑا بھی اپنے پاس رکھا تھا۔
کولین کی والدہ مے مارٹینیز نے کرسٹا پائیک کی سزا پر عمل درآمد کی حمایت کی اور اس کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
سزا پر عمل درآمد کیوں رک گیا؟
کرسٹا پائیک کو جان لیوا انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی دو کوششیں کی گئیں، تاہم دونوں مرتبہ عمل درآمد کامیاب نہ ہوسکا۔ مقررہ وقت گزرنے کے بعد جیل حکام نے اسے طبی مرکز منتقل کردیا۔
اگر سزا پر عمل درآمد ہوجاتا تو کرسٹا پائیک ٹینیسی میں تقریباً 200 سال بعد سزائے موت پانے والی پہلی خاتون بن جاتی۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق ریاست میں آخری مرتبہ کسی خاتون کو تقریباً 1820 میں سزائے موت دی گئی تھی۔
