کرسٹا پائیک کے خوفناک جرم کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی؟
بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی
ایک ماہ کے شیر خوار کو کئی بار بیچ دیا گیا، والدین سمیت 7 افراد گرفتار
باپ کی لاش چار سال تک فریج میں کیوں رکھی؟ خاندان نے حیران کن وجہ بتادی
(3 اکتوبر 2026): بھارت میں ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں کے خلاف جین زی کے احتجاج میں پولیس نے کئی افراد کو حراست میں لے لیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی اور دیگر اپوزیشن گروپ اس احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ووٹر فہرستوں میں متنازع تبدیلیوں سے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی کو فائدہ پہنچتا ہے، ہم چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں جین زی کے احتجاجی مظاہروں نے نریندر مودی پر ان کے 12 سالہ اقتدار میں کافی دباؤ ڈالا ہے۔ تقریباً 100 مظاہرین نے سکیورٹی بیریکیڈز ہٹائے اور ’ووٹ چور، کرسی چھوڑ‘ اور ’گیانیش کمار، استعفیٰ دو‘ کے نعرے لگائے۔
پولیس نے حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد اور شناخت پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
آزاد رکن پارلیمنٹ کپل سبل، بائیں بازو کی آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نہا بورا نے کہا کہ پہلے انہوں نے لوگوں کو ووٹر فہرستوں سے نکالا اور اب وہ ہمیں اس کے خلاف آواز اٹھانے نہیں دے رہے ہیں، یہ قابل قبول نہیں ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال شروع کی گئی ملک گیر ووٹر تصدیقی مہم کے نتیجے میں لاکھوں اہل ووٹرز کو انتخابی فہرستوں سے نکال دیا گیا ہے۔
