• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 7:47 شام
  • پاکستان

تحقیق میں ماہرین نے دیکھا کہ آٹھ ہفتوں تک روزانہ اخروٹ کھانے سے نوجوان بالغ افراد کے موڈ پر کیا اثر پڑتا ہے

ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ اخروٹ کھانا مزاج پر اثر انداز کر سکتا ہے۔

تحقیق میں ماہرین نے دیکھا کہ آٹھ ہفتوں تک روزانہ اخروٹ کھانے سے نوجوان بالغ افراد کے موڈ پر کیا اثر پڑتا ہے اور آیا اس کا تعلق جسم میں بعض حیاتیاتی تبدیلیوں سے بھی ہے۔

تحقیق کے مطابق اخروٹ میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، ٹرپٹوفین، فائبر اور پولی فینولز پائے جاتے ہیں، جو دماغی صحت اور موڈ سے متعلق مختلف حیاتیاتی عمل میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

محققین نے خاص طور پر پیشاب میں ایچ آئی اے اے-5، کورٹیسول اور یورولیتھنز کی سطح کا جائزہ لیا۔

ایچ آئی اے اے-5 سیروٹونن کے میٹابولزم کی نشاندہی کرتا ہے یورولیتھنز اخروٹ میں موجود بعض مرکبات کو آنتوں کے جراثیم کی جانب سے تبدیل کیے جانے کے بعد بنتے ہیں۔

اس تحقیق میں 20 سے 35 سال عمر کے افراد کو شامل کیا گیا۔ 84 افراد کی ابتدائی جانچ کے بعد 36 افراد تحقیق کا حصہ بنے، جن میں سے 31 نے دونوں مطالعاتی مراحل مکمل کیے۔

اخروٹ کے استعمال کے دوران مجموعی موڈ میں خرابی کنٹرول مرحلے کے مقابلے میں 4.85 پوائنٹس کم رہی۔

غصے اور تھکن میں بھی کمی دیکھی گئی لیکن متعدد موازنوں کی اصلاح کے بعد یہ فرق اعداد و شمار کے لحاظ سے نمایاں نہیں رہا۔

دوستانہ رویے، جوش و توانائی، محسوس کیے جانے والے ذہنی دباؤ یا عمومی فلاح و بہبود میں کوئی نمایاں فرق نہیں پایا گیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ نتائج اخروٹ کے استعمال، موڈ اور جسم میں ہونے والی مخصوص حیاتیاتی تبدیلیوں کے درمیان ممکنہ تعلق کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں، تاہم اس تعلق کی مزید تصدیق کے لیے بڑے اور طویل مدتی مطالعات کی ضرورت ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے