• ستمبر 27, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 27, 2026 12:42 صبح
  • پاکستان

تازہ ترین تحقیق کیل ٹیک کے سائنس دانوں کی سربراہی میں کی گئی

ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ دو ارب سال قدیم ایک مشہور کیمیائی نشان (جسے پہلے زمین کے کاربن سائیکل میں ہونے والی ایک بڑی عالمی تبدیلی کا ثبوت سمجھا جاتا تھا) ممکنہ طور پر مقامی میگما، ہائیڈروکاربنز اور میتھین کھانے والے جرثوموں کی سرگرمیوں کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔

تقریباً 2.5 سے 2 ارب سال قبل جب فضا میں آکسیجن جمع ہونا شروع ہوئی تو زمین کی سطح پر ایک بہت بڑی کیمیائی تبدیلی رونما ہوئی۔سائنس دانوں کے مطابق اس تبدیلی نے ایسے حالات پیدا کرنے میں کردار ادا کیا جو بعد میں پودوں اور جانوروں جیسے پیچیدہ جانداروں کے ارتقا کے لیے سازگار ثابت ہوئے۔

آکسیجن کی مقدار میں اضافے کے ابتدائی دور میں سمندر کی تہہ کے نیچے بڑی مقدار میں جرثوموں سے پیدا ہونے والا مواد دفن ہوا۔ اس عمل کے نتیجے میں کاربن چٹانوں میں محفوظ ہوگیا اور کاربن کے آئسوٹوپس میں ایک مخصوص کیمیائی نشان باقی رہ گیا۔

کئی دہائیوں سے سائنس دان اس نشان کو زمین کے عالمی کاربن سائیکل میں ایک بڑے اور سیاروی سطح کے عدم توازن کی علامت سمجھتے رہے ہیں۔

اس نظریے کے حق میں شواہد روس کے کاریلیا کے قدیم سمندری ذخائر اور گابن کے فرانس ویلیئن بیسن سے حاصل کیے گئے ڈرل کورز سے بھی ملے تھے۔ ڈرل کورز زمین کے اندر سے نکالے جانے والے چٹانوں کے لمبے سلنڈر نما نمونے ہوتے ہیں۔

تاہم، کیل ٹیک کے محققین کی سربراہی میں ہونے والی ایک نئی تحقیق نے خاص طور پر روس سے ملنے والے شواہد کے عالمی سطح کا ایونٹ ہونے پر سوال اٹھا دیا ہے۔

محققین نے روس کے کاریلیا میں واقع زاؤنیگا فارمیشن کی چٹانوں کا جائزہ لیا، جو دنیا کے قدیم ترین معلوم فوسل آئل فیلڈز میں شمار ہوتی ہے۔ سائنس دانوں نے ان چٹانوں کے اندر انتہائی باریک حصوں میں پھنسے ہوئے گیسوں کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔

تحقیق کے مطابق کاربن آئسوٹوپ کا وہ غیر معمولی نشان جسے پہلے عالمی سطح پر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی کا ثبوت سمجھا جاتا تھا ممکن ہے کہ دراصل چند سو مربع کلومیٹر پر محیط ایک مقامی تلچھٹی بیسن میں رونما ہونے والے جغرافیائی اور کیمیائی عوامل کا نتیجہ ہو۔

کیل ٹیک کی سینئر سائنسی محقق نویڈیتا تھیاغاراجن کے مطابق اس دریافت سے زمین کی ابتدائی تاریخ میں کاربن سائیکل اور آکسیجن کے بڑھنے کے عمل کو سمجھنے کے حوالے سے جاری سائنسی بحث مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔

نئی تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ قدیم چٹانوں میں ملنے والا کیمیائی نشان لازماً پوری زمین پر ہونے والی تبدیلی کی نمائندگی نہیں کرتا، بلکہ بعض صورتوں میں اس کی وجہ محدود مقامی جغرافیائی یا ماحولیاتی عوامل بھی ہوسکتے ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے