2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت
ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی
شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی
نوجوان لڑکوں کو سفاکی سے قتل کرنیوالے سیریل کلر کا بھیانک انجام
دنیا کے حیرت انگیز واقعات میں غالباً یہ واقعہ بھی عجیب و غریب ہے کہ یورپ کی شائستگی کی بنا ایک ایسی پولٹیکل خوں ریزی نے رکھی جو دنیا کا سب سے زیادہ نقصان کرنے والی جنگ تسلیم کی گئی ہے۔
گیارھویں صدی عیسوی میں جب کہ مسلمان ترقی کے انتہائی درجے تک بلند ہو چکے تھے، یورپ میں ہر طرف تاریکی تھی، لیکن صلیبی لڑائیوں نے یکایک یورپ کو موقع دیا کہ مسلمانوں کی شائستگی کا مطالعہ کرے۔ بیت المقدس اور انطاکیہ میں جب رومی سلطنت قائم ہوگئی اور مسلمانوں سے ملنے جلنے کے ذرائع وسعت کے ساتھ پیدا ہو گئے، تو یورپ کی آنکھیں کھلیں، اور مسلمانوں کی شائستگی کا اسے پہلا تجربہ ہوا۔ شام میں قسمت آزمائی کرنے کے بعد جب یورپ کے جاں بازوں نے مغرب کا رخ کیا، تو یہ اثر بھی اپنے ساتھ لے گئے کہ مسلمان علمی ترقیات کی دنیا میں اکیلے مخزن ہیں اور تہذیب و شائستگی کا سر چشمہ اسلامی دنیا کے سوا اور کہیں نہیں مل سکتا۔
اس اثر کا یہ نتیجہ ہوا کہ یورپ میں مسلمانوں کی ترقی اور شائستگی پر عام توجہ پیدا ہوگئی اور یہ توجہ برابر بڑھتی گئی۔ کیوں کہ صلیبی حملوں کی بدولت بار بار یورپ کا اسلامی ممالک میں گزر ہوا اور ہر مرتبہ مسلمانوں کی ترقی کے حیرت انگیر آثار نظر آئے۔ اس لیے ایک طرف تو یورپ نے مسلمانوں کی تباہی کا بیڑا اٹھایا، اور دوسری طرف اپنے حریف کی شاگردی پر آمادہ ہو گیا۔
اس ذکر میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ چوں کہ اس زمانے میں یورپ میں عام تعلیم نہ تھی اور لاطینی و یونانی زبانوں کی تعلیم پادریوں اور اراکین سلطنت کے لیے مخصوص تھی، اس لیے مغرب سے مشرق کی طرف جس گروہ کا علمی تلاش میں اوّل قدم اٹھا وہ مذہبی پیشواؤں کا مقدس گروہ تھا۔ حیرت یہ ہے کہ یہی گروہ آگے چل کر الحاد اور بے دینی کے پریشاں خواب دیکھنے لگا اور اسلامی فلسفے کی اشاعت اس کی تعبیر بتلائی گئی۔ حالاں کہ ابتدا میں اشاعت کا ذریعہ بھی یہی نادان گروہ ہوا۔
گیارھویں صدی کے اوائل سے مسلمانوں کے علوم و فنون پر یورپ کو توجہ ہوئی اور چودھویں صدی کے اواخر تک فلسفے کی تمام کتابیں لاطینی زبان میں ترجمہ ہو گئیں۔ ابتدا میں متعدد محکمے قائم کیے گئے کہ لاطینی داں یہودیوں کی مدد سے فلسفے کی کتابیں ترجمہ کی جائیں۔ پھر پوپ اکلر منڈس پنجم کے حکم سے عربی اور دیگر مشرقی زبانوں کی تحصیل کے لیے یورپ سے نوجوان طلبا اندلس روانہ کیے گئے۔ اندلس میں چوں کہ خود عیسائی اور یہودی فلسفے میں مسلمانوں کے شاگرد رشید تھے، اس لیے یورپ کے طلبا ان کی اعانت سے فائدہ اٹھا کر بہت جلد عربی اور عبرانی میں قابلیت حاصل کر لیتے، اور فارغ التحصیل ہو کر علمی کتابوں کے ترجموں میں مشغول ہو جاتے۔
جن لوگوں نے یورپ کے مختلف حصوں سے اندلس کا سفر کیا، اور عربی زبان سے واقفیت پیدا کر کے علمی تراجم میں مشغول ہوئے، ان کے نام آج تاریخ کے صفحات پر موجود ہیں۔ ان میں بہت سے طالب علم ایسے ہیں جنھوں نے طلبِ علم میں حب الوطنی کے تقید سے خود کو ہمیشہ کے لیے آزاد کر لیا، اور ساری عمر طلیطلہ کے پرائیویٹ مدرسوں اور قرطبہ کے دارالعلوموں میں صرف کر دی۔ کچھ طالب علم ایسے ہیں، جو فارغ التحصیل ہونے کے بعد مشرق کے ممتاز ملکوں کی خاک چھانتے پھرے اور ایک عرصے کی تلاش و تحقیق کے بعد جب سرزمین مغرب میں قدم رکھا، تو اسلامی علوم و فنون کی معلومات سے ان کا کاسۂ دماغ لبریز تھا۔ ہارڈمن کریموں اس زمانے کا مشہور طبیب اور ہیئت دان ہے۔ یہ اپنے وطن اٹلی سے نکل کر محض عربی کے شوق میں طلیطلہ پہنچا اور ایک عرصے کی اقامت کے بعد جب کافی واقفیت حاصل کر لی تو متعدد کتابوں کا عربی سے لاطینی میں ترجمہ کیا۔
پیٹرز ماکر ایک فرانسیسی راہب تھا، جس کو جغرافیے کا شوق دامن گیر ہوا۔ اسی شوق میں اندلس کا سفر کیا، افریقہ کی خاک چھانی اور مدت کی آوارہ گردی کے بعد مسلمانوں سے اس علم کو حاصل کیا۔ ڈنیل مارلی اور پیٹرز ماکر نے اسی طرح اندلس کا سفر کر کے عربی زبان سے واقفیت پیدا کی۔ آخر الذکر نے قرآن شریف کا عربی سے ترجمہ بھی کیا اور آنحضرت ﷺ کی سوانح عمری بھی لاطینی میں ترتیب دی۔ ان کے علاوہ اور بہت سے لوگوں کے نام تاریخ میں پائے جاتے ہیں جن میں سے بعض کے ترجمے اور تصنیفات اس وقت تک یورپ میں موجود ہیں۔ ان کوششوں نے یورپ کو مسلمانوں اور مسلمانوں کے علوم سے واقف کر دیا اور اسلامی فلسفے نے عام طور پر مقبولیت حاصل کر لی۔
(ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری کی مرتب کردہ کتاب مضامین الندوہ- لکھنؤ سے اقتباس)
