• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 3:08 صبح
  • پاکستان

3 سالہ بچی نے منفرد عالمی ریکارڈ بنا لیا

’’آئی فون لنگر‘‘ پولیس نے مفت تقسیم روک دی

سیانا کوا گولفر بن بیٹھا! (دلچسپ ویڈیو دیکھیں)

1980 کے ’’AI‘‘ وائرل ٹرینڈ نے 45 سال سے مفرور خاتون چور کو کیسے پکڑوایا؟

بیجنگ : چین کا ایک انتہائی خوفناک اور بدنام زمانہ سیریل کلر ژانگ یونگ منگ جس نے چار سال کے دوران 11نوجوانوں کو اغوا کرکے انتہائی بے دردی سے قتل کیا۔

چینی صوبے یانان کے گاؤں نان مین سے تعلق رکھنے والے اس سفاک مجرم کو مقامی لوگ ’کینبل مونسٹر‘یعنی آدم خور عفریت کہتے تھے، اغوا ہونے والوں کے والدین اپنے لاپتہ بیٹوں کو تلاش کرتے رہے، مگر قاتل برسوں تک آزاد گھومتا رہا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ژانگ یونگ منگ کا کیس دنیا کے ان بھیانک جرائم میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف قاتل کی سفاکی بلکہ پولیس کی مبینہ غفلت پر بھی بڑے سوالات اٹھائے۔

اس قاتل نے مارچ 2008 سے اپریل 2012 کے دوران کم از کم 11 نوجوانوں کو قتل کیا، لیکن اس کی گرفتاری اس وقت ہوئی جب مسلسل لاپتا ہونے والے نوجوانوں کے اہل خانہ نے خود آواز اٹھائی اور معاملہ میڈیا تک پہنچا۔

ژانگ یونگ منگ 1950 کی دہائی میں یانان کے جِنگ نِنگ کاؤنٹی کے نان مین گاؤں میں پیدا ہوا۔ اس کی زندگی میں جرم پہلی بار اس وقت سامنے آیا جب وہ قتل کی ایک کوشش کے مقدمے میں قانون کی گرفت میں آیا۔

بعد ازاں 1979 میں اسے ایک اور قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی، جسے بعد میں تبدیل کر دیا گیا۔ تقریباً دو دہائیاں قید میں گزارنے کے بعد وہ ستمبر 1997 میں رہا ہوا اور اپنے آبائی علاقے واپس آ گیا۔ چینی رپورٹس کے مطابق اسے سرکاری زمین بھی دی گئی اور وہ کچھ عرصہ کھیتی باڑی بھی کرتا رہا۔

لیکن رہائی کے تقریباً دس سال بعد جِنگ نِنگ کے دیہی علاقے میں نوجوانوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا اور نوجوان لڑکے ایک ایک کرکے غائب ہونے لگے۔

2008سے 2012 کے دوران ژانگ کے گھر کے آس پاس کے علاقوں سے نوجوان اور کم عمر لڑکے پراسرار طور پر غائب ہوتے رہے۔ ان میں سے بعض کے اہل خانہ کو طویل عرصے تک اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی اطلاع نہ مل سکی۔

بعد میں پولیس تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ژانگ ان افراد کو نسبتاً سنسان مقامات پر نشانہ بناتا تھا۔ عدالت کے مطابق وہ متاثرین کا گلا اپنے ہاتھوں یا ٹیپ سے دباتا، انہیں قتل کرنے کے بعد لاش اپنے گھر لے جاتا اور شواہد مٹانے کے لیے لاشوں کے ٹکڑے کرتا تھا۔ کچھ باقیات جلانے، دفن کرنے یا مختلف مقامات پر پھینکنے کی کوشش بھی کی گئی۔

تحقیقات کے بعد ژانگ کے گھر کے علاوہ ایک خشک کنویں اور پانی کے ایک گڑھے سے بھی متاثرین کی باقیات، کپڑے اور ذاتی اشیا برآمد کی گئیں۔ عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر 11 افراد کے قتل کو ثابت کیا گیا۔

’کینبل مونسٹر‘ نام کیوں پڑا؟

اس کیس کا سب سے ہولناک پہلو وہ دعوے تھے جنہوں نے ژانگ یونگ منگ کو بین الاقوامی میڈیا میں ’کینبل مونسٹر‘ کے نام سے مشہور کر دیا۔

چینی اور بین الاقوامی میڈیا میں ایسی رپورٹس شائع ہوئیں کہ وہ مبینہ طور پر مقتولین کی لاشوں کے گوشت کو بازار میں ’شترمرغ کے گوشت‘ کے نام سے فروخت کرتا تھا اور بعض باقیات اپنے کتوں کو کھلاتا تھا، اس کے گھر کے باہر لٹکے تھیلوں میں ہڈیوں جیسی چیزیں دیکھنے کے دعوے بھی مقامی افراد کی جانب سے سامنے آئے۔

تاہم اس پہلو کو رپورٹ کرتے ہوئے ایک اہم احتیاط ضروری ہے۔ ژانگ کو عدالت نے ’انسانی گوشت کھانے‘ کے جرم میں نہیں بلکہ 11 افراد کے قتل کے جرم میں سزا دی تھی۔

دستیاب عدالتی رپورٹس میں قتل، گلا گھونٹنے، لاشوں کے ٹکڑے کرنے اور شواہد چھپانے کے حقائق واضح طور پر درج ہیں، جبکہ گوشت فروخت کرنے یا کھانے کے دعوے زیادہ تر میڈیا رپورٹس میں بیان ہوئے ہیں۔

گاؤں میں خوف، مگر پولیس خاموش

اس کیس کا ایک اور غیر معمولی پہلو یہ تھا کہ مقامی لوگوں میں ژانگ کے بارے میں پہلے ہی خوف پایا جاتا تھا۔

اس کے گھر کے قریب مبینہ طور پر ہڈیوں جیسے مواد سے بھرے تھیلے دیکھے جانے کی باتیں سامنے آتی رہیں، لیکن اس کے باوجود اس کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔ بعد میں لاپتا افراد کے اہل خانہ نے احتجاج اور میڈیا کے ذریعے معاملہ اٹھایا۔

مئی 2012 میں کیس نے قومی سطح پر توجہ حاصل کی تو چینی وزارتِ عوامی سلامتی نے تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم بھیجی۔ اس کے بعد تفتیش کا دائرہ ژانگ تک پہنچا اور اسے 9 مئی 2012 کو گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتاری ایک 19 سالہ نوجوان کی گمشدگی کی تحقیقات کے دوران عمل میں آئی۔

معاملہ سامنے آنے کے بعد مقامی پولیس کے کردار پر بھی سوال اٹھے۔ چینی سرکاری رپورٹس کے مطابق پولیس حکام اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی، جِنگ نِنگ کے پولیس سربراہ اور متعلقہ تھانے کے ایک اعلیٰ افسر کو عہدوں سے ہٹا کر مزید اہلکاروں کو بھی جوابدہ بنایا گیا۔ مجموعی طور پر 12 پولیس اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی رپورٹس سامنے آئیں۔

ژانگ یونگ منگ کے خلاف مقدمے کی سماعت جولائی 2012 میں کون منگ انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ میں ہوئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس نے مارچ 2008 سے اپریل 2012 کے دوران 11 افراد کو قتل کیا اور لاشوں کو اپنے گھر منتقل کرکے شواہد مٹانے کی کوشش کی۔

عدالت نے اسے جان بوجھ کر قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی اور عمر بھر کے لیے سیاسی حقوق سے محروم کردیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق جرائم میں استعمال کیے گئے طریقے انتہائی سنگین اور نتائج انتہائی شدید تھے۔ ژانگ نے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی، جبکہ صوبائی عدالت کی توثیق کے بعد معاملہ اعلیٰ عدالتی منظوری کے لیے گیا۔ بالآخر 10جنوری 2013 کو 57 سالہ ژانگ یونگ منگ کو سزائے موت دے دی گئی۔

11قتل یا اس سے بھی زیادہ؟

ژانگ کے نام سے جڑی گمشدگیوں کی تعداد کے بارے میں مختلف رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، بعض غیر سرکاری یا میڈیا ذرائع نے اس کے ممکنہ متاثرین کی تعداد 17 یا اس سے زیادہ بتائی، تاہم ان تمام گمشدگیوں کو عدالت میں ثابت شدہ قتل قرار نہیں دیا گیا۔ قانونی طور پر ثابت شدہ تعداد 11 متاثرین ہے۔

اس کیس کا ایک اور پیچیدہ پہلو ژانگ کے سابقہ قتل کا مقدمہ تھا۔ وہ 1990 کی دہائی میں بھی قتل کے جرم میں طویل قید کاٹنے کے بعد رہا ہوا تھا۔ یوں 2012 میں پکڑے جانے تک وہ پہلے ہی سنگین قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ شخص رہ چکا تھا۔

ژانگ یونگ منگ کی کہانی محض ایک سیریل کلر کی سفاکی تک محدود نہیں رہتی، یہ ان گمشدگیوں کی داستان بھی ہے جن کی آواز سب سے پہلے متاثرہ خاندانوں نے بلند کی۔

ایک دیہی علاقے میں نوجوانوں کے مسلسل غائب ہونے کے باوجود تحقیقات میں تاخیر ہوئی اور جب بالآخر تفتیش قاتل کے گھر تک پہنچی تو وہاں سے ایسے شواہد ملے جنہوں نے چار سال سے جاری پراسرار گمشدگیوں کا خوفناک راز کھول دیا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے