آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے کا بیگ، حیرت انگیز ایجاد
لندن سے بنگلادیش جانے والی پرواز میں مسافر لڑ پڑے، ویڈیو وائرل
شوہر نے میکے سے واپس نہ آنے پر بیوی کی ناک کاٹ دی
’’125 سال سے مسلسل روشن دنیا کا واحد بلب‘‘
کویت میں شہریت کا بڑا معاملہ بے نقاب ہوگیا، ڈی این اے نے خاندانی رشتوں کا بھانڈا پھوڑ دیا، جس پر 37 افراد کی شہریت منسوخ کردی گئی۔
سفر کے دوران گرفتار شخص سے تفتیش نے کئی نسلوں تک پھیلے مبینہ جعل سازی کے معاملے کا پردہ فاش کردیا، چچا کو والد ظاہر کرکے سرکاری ریکارڈ میں بچوں کا اندراج کرایا گیا
کویت میں ملک سے باہر جانے کی کوشش کے دوران ایک شخص کی گرفتاری کے بعد ہونے والی تحقیقات میں مبینہ طور پر شہریت اور شناخت میں جعل سازی کے ایسے معاملے کا انکشاف ہوا ہے جو کئی نسلوں تک پھیلا ہوا تھا۔ تحقیقات کے نتیجے میں 37 افراد کی کویتی شہریت منسوخ کردی گئی۔
معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کویتی محکمہ شہریت نے 1991 میں پیدا ہونے والے ایک شخص کی کویتی شہریت کی حیثیت مشکوک ہونے پر اس کے خلاف سفری انتباہ جاری کیا، مذکورہ شخص کو ملک سے باہر جانے کی کوشش کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔
تفتیش کے دوران اس شخص نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ سرکاری ریکارڈ میں اسے اس کے حقیقی والد کے بجائے اس کے چچا کے بیٹے کے طور پر درج کیا گیا تھا، یعنی اس کے چچا کو کاغذات میں اس کا والد ظاہر کیا گیا۔
حکام نے تفتیش کے دوران ایسی دستاویزات بھی قبضے میں لیں جن سے اس شخص کی ایک اور خلیجی ملک کی شہریت یا شناخت ظاہر ہونے کا معاملہ سامنے آیا، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا۔
چچا کی شناخت بھی تحقیقات کی زد میں
تحقیقات کے مطابق مذکورہ شخص کے چچا کی پیدائش 1953 میں ہوئی تھی اور اسے 1973 میں کویتی شہریت دی گئی تھی۔
تاہم تحقیقات میں مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ اس کے پاس ایک مختلف خلیجی شناخت بھی موجود تھی اور اس شناخت میں اس کا چار حصوں پر مشتمل نام کویتی سرکاری ریکارڈ میں درج نام سے بالکل مختلف تھا۔ تحقیقات کے مطابق وہ شخص 2024 میں کویت سے روانہ ہوچکا تھا۔
مزید چھان بین کے دوران معلوم ہوا کہ اس چچا کے نام پر 14 بچوں کا اندراج کیا گیا تھا، حکام کے مطابق ان میں سے دو بچے مبینہ طور پر اس کے حقیقی بیٹے نہیں تھے بلکہ اس کے دو خلیجی بھائیوں کے بیٹے تھے، جنہیں سرکاری ریکارڈ میں اس چچا کی اولاد کے طور پر درج کیا گیا۔
ان دونوں میں سے ایک وہی شخص تھا جسے 1991 میں پیدا ہونے کے بعد بعد ازاں کویت سے باہر جانے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا، جبکہ دوسرا 1992 میں پیدا ہوا تھا اور اطلاعات کے مطابق چند ماہ قبل کویت سے روانہ ہوچکا تھا۔
ڈی این اے سے خاندانی رشتوں کی جانچ
تحقیقات کے دوران حکام نے جینیاتی جانچ سے بھی مدد لی۔ فرانزک شواہد کے محکمے کے پاس ایک بزرگ شخص کا ڈی این اے نمونہ 2012 سے محفوظ تھا، جو اس سے قبل شہریت سے متعلق ایک معاملے کے دوران حاصل کیا گیا تھا۔
تحقیقاتی حکام نے اس محفوظ نمونے کی مدد سے مختلف افراد کے درمیان حیاتیاتی رشتوں کا موازنہ کیا اور خاندانی تعلقات کی جانچ کی۔ اس عمل سے تحقیقات کو کئی نسلوں تک پھیلانے اور مختلف افراد کے سرکاری ریکارڈ میں درج رشتوں کی تصدیق میں مدد ملی۔
37افراد کی کویتی شہریت منسوخ
تحقیقات کا دائرہ بڑھنے کے بعد حکام نے مبینہ طور پر کئی نسلوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا اور مجموعی طور پر 37 افراد کی کویتی شہریت منسوخ کردی۔ ان افراد میں ابتدائی طور پر گرفتار ہونے والا شخص، اس کے چچا کے نام پر درج خاندان کے بعض افراد اور ان کی اولاد شامل ہے۔
حکام کی جانب سے خاندان کے دیگر افراد کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ اگر شناخت یا شہریت سے متعلق مزید بے ضابطگیاں موجود ہوں تو ان کا بھی تعین کیا جاسکے۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق ہر معاملے کا الگ سے جائزہ لیا جارہا ہے اور فیصلوں کے لیے سرکاری دستاویزات، تحقیقات، بیانات اور اعترافات کے علاوہ ضرورت پڑنے پر جینیاتی جانچ سے بھی مدد لی جارہی ہے۔
