• ستمبر 18, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 18, 2026 10:12 شام
  • پاکستان

لندن سے بنگلادیش جانے والی پرواز میں مسافر لڑ پڑے، ویڈیو وائرل

شوہر نے میکے سے واپس نہ آنے پر بیوی کی ناک کاٹ دی

’’125 سال سے مسلسل روشن دنیا کا واحد بلب‘‘

اے آئی کو چکما دینے والی شرٹ : حیرت انگیز ایجاد

ممتاز ترقی پسند شاعر اور ادیب کیفی اعظمی کی انسان دوستی اور درد مندی کا یہ مختصر واقعہ ان کی شریکِ حیات شوکت کیفی کے قلم سے نکلا ہے۔ اس میں وہ بتاتی ہیں کہ کس طرح ان کے شوہر نے ایک غریب اور مزدور پیشہ کو اپنے گھر میں چوری کرنے پر پولیس کے حوالے نہیں کیا اور اسے مجبور سمجھ کر معاف کردیا۔

شوکت کیفی ایک روشن خیال گھرانے کی فرد تھیں۔ وہ خود بھی انسان دوست، رحم دل اور غریب پرور خاتون تھیں۔ ان کی شادی بھی ترقی پسند شاعر اور رائٹر کے ساتھ ہوئی تھی اور یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اپنے شوہر کی طرح درد مندی کے احساس سے سرشار نہ رہتیں۔ شوکت کیفی نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار اور اپنے شریکِ سفر سے متعلق واقعات کو اپنی خود نوشت میں‌ بھی نہایت عمدگی سے بیان کیا ہے۔ شوکت کیفی نے ایک واقعہ کچھ یوں‌ بیان کیا ہے:

ایک دن ہمارے گھر میں چوری ہوگئی۔ تمام بیڈ کور، چادریں، کمبل چوری ہو گئے۔ مجھے معلوم تھا کہ چور کون ہے۔ ایک چور مالی ہمارے گھر کسی کے توسط سے آگیا تھا۔ جب ہمارے گھر میں مستقل چوریاں ہونے لگیں او مجھے پتہ چلا کہ یہ سارا کام اس مالی کا ہے تو میں نے اسے نکال باہر کیا اور ایک دن جب ہم لوگ گھر سے باہر گئے ہوئے تھے اور گھر کھلا ہوا تھا تو موقع دیکھ کر وہ مالی پھر آیا اور گھر کے تمام کمبل، چادریں اور بیڈ کور اٹھا کر لے گیا۔

جب میں نے کیفی سے کہا کہ تم خدا کے لیے پولیس میں اطلاع کرو کہ اس طرح چوری ہوئی ہے اور چور صرف وہی مالی ہے تو کہنے لگے: "دیکھو شوکت بارش ہونے والی ہے۔ اس غریب کو بھی تو چادروں اور کمبل کی ضرورت ہوگی۔ اس کے بچے کہاں سوئیں گے، تم تو اور خرید سکتی ہو لیکن وہ نہیں۔” میں نے اپنا سر پیٹ لیا۔ اب کیا جواب دیتی؟

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے