34 سالہ الزبتھ سائڈرز کی شادی 15 سال کی عمر میں ہوئی تھی اور وہ زیادہ تر وقت حاملہ ہی رہی ہے
امریکی ریاست اوہائیو میں 16 بچوں کی ماں الزبتھ سائڈرز نے اپنے بچوں کو مبینہ طور پر انتہائی نامساعد حالات میں رکھنے اور دیگر سنگین الزامات کے مقدمے میں صحتِ جرم سے انکار کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطاب 34 سالہ الزبتھ سائڈرز کو بدھ کے روز وِنٹن کاؤنٹی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس نے اپنے خلاف عائد بچوں کو خطرے میں ڈالنے کے 19 الزامات سمیت جنسی نوعیت کے چار الزامات میں بھی خود کو بے قصور قرار دیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق جنسی نوعیت کے الزامات میں دو مرتبہ جنسی زیادتی اور دو مرتبہ کم عمر کے ساتھ غیر قانونی جنسی فعل کے الزامات شامل ہیں۔
یاد رہے کہ 30 جون کو پولیس اور تفتیشی اداروں نے اوہائیو کے علاقے ہیمڈن میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر 18 ماہ سے 18 سال کی عمر کے 16 بچوں کو انتہائی خراب اور غیر صحت بخش حالات میں برآمد کیا تھا۔
یہ بچے ایک انتہائی تنگ جگہ میں کسمپرسی اور ابتر حالت میں رہ رہے تھے اور کئی بچے باقاعدہ تعلیم اور بنیادی نگہداشت سے بھی محروم تھے۔ ان کی نشوونما اور جسمانی حالت بھی تشویش تھی۔
جس پر پولیس نے ان تمام 16 بچوں کو گھر سے نکال کر ریاستی تحویل میں دے دیا گیا اور اب وہ ایک نرسنگ ہاؤس میں رہ رہے ہیں جہاں انھیں صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات حاصل ہیں۔
جنسی نوعیت کے الگ الزامات بھی سامنے آگئے
الزبتھ سائڈرز اور اس کے شوہر گیری سائڈرز جونیئر پر ایک الگ مقدمے میں 2022 کے دوران ایک ایسے کم عمر فرد کے ساتھ مبینہ جنسی تعلق کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے جو ان کا قریبی خونی رشتہ دار نہیں تھا لیکن اس وقت ان کی نگرانی میں تھا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق اس معاملے میں الزبتھ پر دو جنسی زیادتی اور دو غیر قانونی جنسی فعل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس مقدمے میں بھی خاتون نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے جبکہ اس کے شوہر کو بھی اسی نوعیت کے الزامات کا سامنا ہے۔
ملزمہ کے فرار ہونے کا خدشہ، زرِ ضمانت میں اضافہ
تازہ عدالتی کارروائی کے بعد الزبتھ سائڈرز کی ضمانت کی رقم بڑھا کر 5 لاکھ 50 ہزار ڈالر کردی گئی۔ عدالت نے اس پر اپنے بچوں، شوہر اور مبینہ متاثرہ فرد سے رابطے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔
خاتون کے وکیل تھامس اسٹولی نے عدالت میں اس کی ذہنی استعداد کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی اور بتایا کہ الزبتھ کی شادی کم عمری میں ہوئی تھی اور وہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران تقریباً مسلسل حمل اور زچگی کے مراحل سے گزرتی رہی۔
وکیل نے اس کی ذہنی حالت اور مقدمہ لڑنے کی اہلیت کے جائزے کی درخواست بھی کی تھی، جس پر عدالت پہلے ہی ماہرین سے جائزہ لینے کا حکم دے چکی ہے۔
عدالت میں پیشی کے دوران الزبتھ کو اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے ہوئے بھی دیکھا گیا جس کے بعد اس کے دوبارہ حاملہ ہونے کی قیاس آرائیاں سامنے آئیں، تاہم اس کی حمل کی تصدیق حکام یا اس کے وکیل نے نہیں کی۔
شوہر اور سسرالی رشتہ داروں پر بھی مقدمہ
اس کیس میں الزبتھ کے شوہر گیری سائڈرز جونیئر، ساس کرسٹینا سائڈرز اور سسر گیری سائڈرز سینئر بھی بچوں کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان چاروں کو جون میں بچوں کی بازیابی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ دسمبر 2025 میں شروع ہونے والی مبینہ بچوں سے بدسلوکی کی تحقیقات کے بعد مزید سنگین ہوا۔ بعد ازاں مارچ 2026 میں مزید الزامات کی تحقیقات شروع ہوئیں اور 30 جون کو ہیمڈن کے گھر سے 16 بچوں کی بازیابی کے بعد کیس نے نئی شکل اختیار کرلی تھی۔
