کیا یہ واقعی ٹیسٹ ٹیم ہے، یا محض ایک دوسرے درجے کی کاؤنٹی ٹیم؟
برطانیہ کی سبزہ زار پچوں پر جس رفتار سے پاکستانی بیٹرز کی وکٹیں گر رہیں تھیں وہ منظر کسی ایک میچ یا ایک اننگز کا المیہ نہیں بلکہ بیس تیس سال پر محیط اس خود فریبی کا منطقی نتیجہ ہے جس میں ہم کامیابی کے دو چار جھونکے دیکھ کر یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ہم نے کرکٹ کا ہنر سیکھ لیا ہے۔
سوال اب یہ نہیں رہا کہ انگلش بولرز اتنے زبردست کیوں ہیں، سوال اس سے کہیں زیادہ کرب ناک یہ ہوگیا ہے کہ پاکستانی بیٹر آخر اتنے بے بس، اتنے خوف زدہ اور اتنے غیر تیار کیوں دکھائی دے رہے ہیں؟
انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے ایک طنزیہ ٹویٹ میں موجودہ پاکستانی بیٹنگ کو دوسرے درجے کی کاؤنٹی کرکٹ سے تشبیہ دی تھی جسے سن کر قومی غیرت کو چوٹ پہنچی، جذبات بھڑکے، اور بہت سوں نے اسے سامراجی تکبر قرار دیا۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے بعد کے تینوں ٹیسٹ میچوں نے وان کے طنز کو نہ صرف سچ ثابت کیا بلکہ شاید اس سے بھی کہیں زیادہ شرمناک ثابت کردیا۔ وان کا کہنا تھا کہ موجودہ پاکستانی لائن اَپ حالیہ یادداشت میں سب سے آسان شکار ہے جس کے خلاف وکٹیں حاصل کرنے کے لیے کسی غیر معمولی محنت کی ضرورت نہیں۔ سرے سے دیکھا جائے تو سیریز بھر میں انگلش بولرز کو پسینہ ہی نہیں آیا۔
پہلے ٹیسٹ میں پاکستان اننگز اور ایک سو تین رنز سے ہارا۔ یہ شکست اکیلے میں بھی بہت بڑی تھی لیکن اس سے بھی بڑا دھچکا دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں لگا، جب انگلینڈ نے محض دو سو نوے رنز بنائے اور جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم گھر کے بہترین بلے بازوں کی موجودگی میں محض ایک سو دس رنز پر سکڑ کر بیٹھ گئی۔ یہ محض ایک خراب سیشن نہیں تھا، نہ ہی کوئی موسمی حادثہ تھا۔ یہ اس بیٹنگ تہذیب کا جنازہ تھا جس کا ہم برسوں سے ڈھنڈورا پیٹ رہے تھے۔
تیسرے ٹیسٹ میں بھی کہانی ذرا سی بھی نہ بدلی۔ ایجبسٹن کے گراؤنڈ پر انگلینڈ نے آٹھ وکٹوں سے جیت کر سیریز کا وائٹ واش مکمل کردیا۔ وہی کمزوریاں، وہی بے بسی، وہی عاجزانہ چہرے اور پریس کانفرنسوں میں وہی فرسودہ جملے۔
اس پورے بحران میں سب سے آسان اور سب سے زیادہ دہرایا جانے والا عذر پچ، سوئنگ اور انگلش موسم کا رہا ہے۔ لیکن یہ عذر اُس لمحے مکمل طور پر دھڑام سے گرگیا جب آپ یاد کریں کہ یہی بیٹرز اپنے گھر میں، اپنی پچوں پر، اپنے ہی موسم میں بنگلہ دیش کے خلاف بھی اسی طرح ڈھیر ہوئے تھے۔ اگر مسئلہ صرف ڈیوکس گیند کی لگائی ہوئی سوئنگ کا ہوتا تو بنگلہ دیش کے اسپنرز کے سامنے پاکستان کی اننگز مختصر کیوں ہوتی؟ مسئلہ مٹی کا نہیں، ذہن کا اور تکنیک کا ہے، اور اس نقطے کی تصدیق سابق بیٹر محمد یوسف نے بھی انتہائی سنجیدگی سے کی ہے۔
محمد یوسف، جو خود ایک زمانے میں دنیا کے بہترین ٹیکنیشن شمار ہوتے تھے، نے بابر اعظم کے پرانے اور نئے آؤٹ ہونے کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے ایک بہت بڑا انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی برس پہلے ہی بابر اور دیگر بیٹرز کی تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کرچکے تھے جنہیں اُسی وقت ٹھیک کیا جا سکتا تھا، مگر اِن کھلاڑیوں کے اردگرد جو مخصوص کوچز مسلط تھے انہوں نے نہ صرف ان خامیوں کو درست کرنے میں مدد نہیں دی بلکہ ان پر کام ہی نہیں ہونے دیا۔
یوسف نے ان کوچز کو کھیل کے لیے زہر قرار دیا اور کہا کہ ان میں وژن نام کی کوئی چیز نہیں، وہ کھلاڑیوں کی نہیں بلکہ صرف اپنی ملازمتوں کی فکر کرتے ہیں اور باصلاحیت لڑکوں کو غلط مشوروں سے برباد کر دیتے ہیں۔ اگر یہ الزام درست ہے تو یہ فرد جرم بابر اعظم پر نہیں، پورے کوچنگ اسٹرکچر پر عائد ہوتی ہے۔
آخر وہ کون سا نظام ہے جو ایک عالمی معیار کے بیٹر کی ایک چھوٹی سی تکنیکی خامی کو پانچ چھ برس میں بھی دور نہ کرسکے؟ کھلاڑی کی انفرادی غلطی ایک معاملہ ہے لیکن ایک ہی غلطی بار بار دہرائی جائے اور کوچنگ اسٹاف خاموش تماشائی بنا رہے تو پھر سارا قصور کھلاڑی کے سر تھوپنا محض ایک فرار ہے۔
محمد یوسف کا یہ انکشاف محض ایک تبصرہ نہیں بلکہ پوری پی سی بی کوچنگ کلچر کے چہرے پر ایک طمانچہ ہے۔ ایک طرف لاکھوں روپے کی تنخواہیں اور غیر ملکی دوروں کی عیاشیاں ہیں تو دوسری طرف ایک سینئر کھلاڑی کی بیک لفٹ اور فرنٹ فٹ کی معمولی سی خامی آج تک درست نہیں ہو سکی۔
بابر اعظم کا معاملہ دراصل اس پورے بحران کی سب سے واضح علامت ہے۔ جب کسی ٹیم کا سب سے بڑا اسٹار، سب سے تجربہ کار بیٹر اور نام نہاد سپر اسٹار خود ہی نئی گیند کے سامنے کپکپا رہا ہو، ہر اننگز میں اسی انداز میں آؤٹ ہو رہا ہو، اور اس کی باڈی لینگویج شکست خوردہ نظر آ رہی ہو تو باقی ٹیم سے کسی معجزے کی توقع عبث ہے۔
ایک لیڈر سے امید کی جاتی ہے کہ وہ دباؤ میں سکون کا مینار بنے نئی گیند کا سامنا کرے اور نوجوانوں کے لیے مثال قائم کرے۔ مگر جب وہی شخص پریس کانفرنسوں میں محض یہ جملہ دہرائے جارہا ہو کہ ہمیں غلطیوں سے سیکھنا چاہیے تو پھر شائقین کو پوچھنے کا پورا حق ہے کہ آخر کب سیکھیں گے؟ آسٹریلیا میں بھی یہی جملہ سننے کو ملا تھا، بنگلہ دیش کے خلاف بھی یہی ریکارڈ چلا تھا اور اب انگلینڈ میں بھی وہی ٹیپ بجا دی گئی ہے۔ اب یہ جملہ کسی وعدے کی مانند نہیں مذاق بن چکا ہے۔
دوسرے ٹیسٹ کی شرمناک شکست کے بعد پی سی بی نے آپریشن کلین اپ کے عنوان سے سات کھلاڑیوں کو فوری طور پر وطن واپس بلا لیا، جن میں محمد رضوان اور انجری کے باعث امام الحق شامل تھے یہ فیصلہ بہت سخت اور بہادرانہ لگتا ہے لیکن درحقیقت یہ علامات کا عارضی علاج ہے بیماری کا نہیں۔ مسئلہ اگر صرف سات کھلاڑیوں کا ہوتا تو بات سمجھ میں آتی تھی مگر جب سسٹم کا ہر پرزہ ایک ہی انداز میں ناکام ہو رہا ہو تو چند چہرے بدل دینے سے کردار نہیں بدلا کرتے۔
صائم ایوب کا قصہ اس ساری کہانی کا سب سے دردناک باب ہے۔ کیریبین لیگ میں چھکے مار کر خوش ہونے والے اس نوجوان کو بغیر کسی فرسٹ کلاس تیاری، بغیر ریڈ بال کے پریکٹس، نیم راتوں اچانک انگلینڈ پہنچا دیا گیا اور ایجبسٹن جیسے خوفناک گراؤنڈ پر سیدھا ہی ڈیوکس گیند کے سامنے کھڑا کر دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ دونوں اننگز میں ایک بھی رن بنائے بغیر پویلین واپس لوٹ آئے جسے کرکٹ کی زبان میں ’کنگ پیئر‘ کہا جاتا ہے۔ اس پر سابق انگلش کپتان ناصر حسین نے نہایت سختی سے کہا کہ یہ ٹیسٹ کرکٹ کی کھلی توہین ہے۔ اور انہیں کون غلط ٹھہرا سکتا ہے؟ آخر کس منطق کی بنا پر یہ انتخاب کیا گیا؟ فارم کی بنا پر، ریڈ بال کے ریکارڈ کی بنا پر، یا محض سوشل میڈیا کی مقبولیت کے نشے میں؟
اس سیریز میں شرمناک شکست کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا، آئی سی سی نے قومی ٹیم پر ایجبسٹن ٹیسٹ میں سلو اوور ریٹ پر میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ عائد کرتے ہوئے 11 ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ پوائنٹس بھی منہا کر دیے گئے۔
اس کٹوتی کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے پاس گنتی کے صرف پانچ پوائنٹ بچے ہیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ قومی ٹیم ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں سب سے آخری پوزیشن پر آ گری ہے۔ اس سے بھی زیادہ شرمناک واقعہ امام الحق کا تھا۔ لارڈز ٹیسٹ میں پنڈلی کی معمولی سی کھنچاؤ کی بنا پر وہ بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں آئے۔ سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے فوراً اس پر سوال اٹھایا کہ اگر وہ بیٹنگ کے قابل نہیں تھے تو اسے میچ میں کھلایا ہی کیوں گیا، اور جب ٹیم ڈوب رہی ہو تو ایک کرکٹر کو رسک لینا پڑتا ہے۔ عامر نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ خود ہیمسٹرنگ کی انجری کے باوجود ٹیم کے لیے کھیل چکے ہیں۔ سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے اس سے بھی بڑا الزام لگا دیا اور کہا کہ یہ انجری جعلی تھی۔
شماریات بھی امام الحق کے حق میں نہیں بول رہے۔ گزشتہ آٹھ ٹیسٹ میچوں کی دوسری اننگز میں وہ صرف دو بار ہی ڈبل فگر میں پہنچ سکے، اور ان کا اوسط ساڑھے پانچ رنز فی اننگز سے بھی کم رہا۔ اوپر سے سلپ میں اہم کیچز چھوڑنا، اور بحران کی گھڑی میں پویلین میں بیٹھنا، یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جس کا کوئی عذر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہاں بھی سوال صرف امام کا نہیں، اُن لوگوں کا بھی ہے جو اسے مسلسل ٹیم میں رکھے ہوئے تھے۔ سلیکٹرز، میڈیکل ٹیم، مینجمنٹ، اگر سب جانتے تھے کہ وہ فٹ نہیں یا فارم میں نہیں تو اُسے منتخب کس نے کیا؟
اور یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کرکٹ کا سب سے خطرناک چہرہ عیاں ہوتا ہے۔ ہم ہر بحران کے فوراً بعد ایک نیا مجرم ڈھونڈ لیتے ہیں۔ کبھی کپتان قصوروار ہوتا ہے، کبھی ایک کوچ، کبھی دو کھلاڑی، کبھی پچ اور کبھی موسم۔ کسی کو نہیں چاہیے کہ وہ کیمرے کے سامنے بیٹھ کر یہ کہے کہ جی نہیں اصل مسئلہ ہمارا نچلا ڈھانچہ ہے، ہماری ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار ہے، ہماری کوچنگ کا معیار ہے، اور کھلاڑیوں کی ذہنی تربیت کا فقدان ہے۔
ایک طرف حریف ٹیم کے گیند باز ذہنی اور تکنیکی دونوں سطحوں پر تیار ہو کر اترتے ہیں، انہیں پاکستانی بیٹرز کی خامیاں ازبر ہوتی ہیں، وہ جانتے ہیں کہ کس کو کس گیند پر ٹارگٹ کرنا ہے۔ دوسری طرف ہمارے بیٹرز ہیں، جو نہ تکنیک کے اعتبار سے تیار ہوتے ہیں، نہ ذہنی طور پر، اور نہ ہی قائدانہ سطح پر۔ سابق لیجنڈز کوچز پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں، کمنٹیٹرز سلیکشن کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، نوجوان کھلاڑیوں کو نامناسب وقت پر جھونکا جا رہا ہے اور فٹنس کے معاملات ہفتوں تک بحث کا باعث بنتے رہتے ہیں۔ یہ سب کچھ محض اتفاقیہ نہیں ہو سکتا۔
اس ساری صورت حال میں اصل نکتہ جس پر شاید ہی کوئی بات کر رہا ہے، وہ یہ کہ پاکستان کرکٹ ہمیشہ سے علامات کا علاج کرتی آ رہی ہے، مرض کا نہیں۔ ایک بیٹر دو بار ناکام ہوا تو اسے بدل دو۔ کپتان نے دو سیریز ہار دیں تو اُسے ہٹا دو۔ کوچ نے نتیجہ نہ دیا تو اُس کی بھی چھٹی کر دو۔ مگر جس ناسور نے ان سب ناکامیوں کو جنم دیا ہے، یعنی ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ کا گرتا معیار، چاپلوس کوچز کا ایک مافیا، میرٹ کے بجائے سفارش پر مبنی سلیکشن، اور کھلاڑیوں کی بلند پایہ ذہنی و تکنیکی تربیت کا فقدان وہ وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔
مائیکل وان کا طنز اسی لیے چبھتا ہے اور اسی لیے اہم بھی ہے۔ جب مخالف ٹیم کو پہلے سے معلوم ہو کہ آپ کی کمزوری کس گیند میں ہے، جب آپ کے بیٹرز کی تکنیکی خامیاں پانچ چھ برس سے وہی کی وہی ہیں، جب کوچنگ اسٹاف ان کو دور کرنے میں ناکام اور غالباً دلچسپی بھی نہیں رکھتا تو پھر کسی ایک میچ میں ہار نہیں پورے نظام کی رپورٹ کارڈ بن جاتی ہے۔
پاکستان کرکٹ کو شاید اب ایک اور نئے کپتان کی ضرورت نہیں، ایک اور نئے کوچ کی ضرورت نہیں، ایک اور نئی سلیکشن کمیٹی کی بھی ضرورت نہیں۔ اسے ایک واضح، غیر متزلز اور مستقل سمت کی ضرورت ہے۔ ایسی سمت جہاں کھلاڑیوں کا چناؤ ان کے نام، شہرت اور سوشل میڈیا فالوورز کی بنیاد پر نہیں بلکہ ریڈ بال کرکٹ میں فارم، تکنیک اور مزاج کی بنیاد پر کیا جائے۔ جہاں کوچ کی ذمہ داری صرف ٹیم کے ساتھ ہوٹلوں میں رہنا نہیں، بلکہ کھلاڑیوں کی تکنیکی خامیوں کو سائنسی بنیادوں پر درست کرنا ہو۔ جہاں سینئر کھلاڑی نہ صرف اپنی خامیوں کا زبان سے اعتراف کریں بلکہ عملی طور پر ان پر کام بھی کریں۔ اور جہاں نوجوانوں کو کسی ہنگامی شو پیس کے طور پر نہیں بلکہ طویل مدتی منصوبے کے تحت تیار کر کے ٹیم میں لایا جائے۔
ورنہ آج جو کچھ انگلینڈ کی سرزمین پر ہوا ہے وہ آنے والے کل کو آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور پھر بنگلہ دیش میں دوبارہ دہرایا جائے گا، اور دہرایا جاتا رہے گا۔
آخر میں صرف ایک ہی بات۔ انگلینڈ سے صفر تین سے ہارنا کوئی قیامت نہیں۔ قیامت یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ بیماری کیا ہے، ہم جانتے ہیں کہ اس کا علاج کس کے پاس ہے، پھر بھی ہم عذر تراشتے رہتے ہیں، قربانی کے نئے بکرے ڈھونڈتے رہتے ہیں، اور اپنے آپ کو دھوکا دیتے رہتے ہیں۔ اگر یہی روش برقرار رہی، تو وہ دن دور نہیں جب مائیکل وان کا طنزیہ سوال ایک سوال نہیں، ایک مستقل شناخت بن جائے گا: کیا یہ واقعی ٹیسٹ ٹیم ہے، یا محض ایک دوسرے درجے کی کاؤنٹی ٹیم۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔
