• ستمبر 16, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 16, 2026 3:01 صبح
  • پاکستان

سڑکوں کی جو اکھاڑ پچھاڑ ہوئی ہے، اس کی وجہ سے بھی لوگوں کو پریشانی ہے، حادثات بھی ہوتے ہیں اور کئی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں

کیا کسی مہذّب معاشرے اور جمہوری ملک میں یہ ممکن ہے کہ کوئی سیاستدان کسی نجی دورے کے لیے سرکاری جہاز استعمال کرے؟ ہر گز نہیں۔ سرکاری جہاز استعمال کرنے کے لیے مختلف چیک ہوتے ہیں اور کئی اداروں سے اجازت لینا ہوتی ہے جو نجی دورے کے لیے کسی صورت نہیں مل سکتی۔ مگر کیا ہمارے جیسے ملکوں میں اشراف جو چاہیں کریں، انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں؟

پچھلے کئی مہینوں سے گوجرانوالہ کے تاجر، صنعتکار، علماء، وکلاء، خواتین، دانشور، صحافی اور نوجوان فون اور برقی پیغامات کے ذریعے شہر کے داخلی راستوں پر خوبصورت درختوں کے کٹنے پر اظہارِ افسوس رہے ہیں۔ ہر طبقۂ فکر کے افراد یہ کہہ کر اظہارِ تعزیت کرتے ہیں کہ ’’آپ نے تو بچوں کی طرح ان پودوں کی پرورش کی تھی‘‘ جوان اور خوبرو درخت کٹنے پر مجھے اور شہریوں کو جو دکھ پہنچا ہے، وہ ناقابلِ بیان ہے۔

مجھے یاد ہے جب گوجرانوالہ کے عوام کو خطرناک ترین ڈاکوؤں اور اغواکاروں سے نجات دلانے کے لیے مجھے وہاں تعینات کیا گیا تو پہلا سال مجرموں کے ساتھ جنگ میں گزر گیا۔ چھ سات مہینوں میں خطرناک مجرموں کا مکمل خاتمہ ہوگیا، پورے علاقے میں امن اور سکون قائم ہوا اور عوام نے سکھ کا سانس لیا تو اس معرکے سے فارغ ہو کر ہم نے سماجی بہبود کے بھی کچھ کام اپنے ذمّے لیے اور انھیں مکمل کر کے شہریوں کی دعائیں لیں۔

2008میں گوجرانوالہ کے داخلی راستے کے دونوں جانب ورکشاپیں ہوتی تھیں، جن کا گندا تیل اور ڈیزل جابجا بکھرا ہوتا تھا۔ اس بڑے اور اہم صنعتی شہر میں داخل ہونے والوں کے ذہنوں پر اس گندگی کا بہت برا تاثر قائم ہوتا تھا، ہم نے کئی مہینوں کی جدوجہد کے بعد ان راستوں کو ورکشاپس سے خالی کرایا۔ اس پر اس وقت کے ڈپٹی کمشنر نے مجھے مبارکباد دیتے ہوئے کہا ’’سر! ہم نے بھی کوشش کی تھی مگر کامیاب نہ ہو سکے، یہ صرف آپ ہی کر سکتے تھے‘‘ اس کے بعد ہم نے سڑک کے دونوں جانب خوبصورت پودے لگوانے شروع کر دیئے۔ بڑی کھجوروں کے پودے مظفر گڑھ سے منگوائے گئے۔

واشنگٹونیا پام اور بسمارکیا پام کے پودے پتوکی کی مشہور نرسریوں سے خریدے گئے، درختوں کے درمیان خوشنما پھولوں کے پودے لگائے گئے۔ ایس پی رائے اعجاز اور ڈی ایس پی عبدالقیوم گوندل کی ڈیوٹی لگا دی گئی۔ میں خود مالیوں کی ٹیم کے ساتھ علی الصبح پہنچ جاتا، ادھر سے سول سوسائٹی کے ممتاز راہنما میاں زاہد ممتاز بھی آ جاتے۔ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دوستوں نے بھی بھرپور تعاون کیا، شہر کی معزز شخصیات ملک ظہیر الحق، اخلاق بٹ، مستنصر ساہی، عبدالرؤف مغل اور میاں اقبال محمود بھی اکثر پہنچ جاتے اور ہم دفتری اوقات سے پہلے چار کلومیٹر پر پھیلے ہوئے راستوں پر لگائے گئے پودوں کی تراش خراش اور دیکھ بھال کرتے رہتے۔ میرے وہاں ہوتے ہوئے ہی گوجرانوالہ کی گرین بیلٹ انتہائی خوش نما صورت اختیار کر گئی تھی۔ اس کے چند سال بعد جب پودے جوان ہو گئے اور پھولوں کے پودے دیدہ زیب پھولوں سے بھر گئے تو گرین بیلٹ کا حسن ایسا نکھر کر سامنے آیا کہ شہریوں نے کہنا شروع کر دیا کہ ’’گرین بیلٹ تو گوجرانوالہ کے ماتھے کا جھومر ہے‘‘۔ کبھی شہریوں کے فون آتے تو وہ بھی خوشی کا اظہار کرتے اور کبھی کبھار میں خود گزرتا تو دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا۔

کچھ عرصے سے لوگ یہ اظہار کرنے لگے تھے کہ میٹرو کا کوئی منصوبہ شروع ہونے والا ہے اور ساتھ ہی یہ ذکر کررہے تھے کہ کہیں یہ خوشنما گرین بیلٹ بھی اس منصوبے کی نذر نہ ہو جائے۔ مگر میں سمجھتا تھا کہ کوئی عقل سمجھ رکھنے والا آرکیٹکٹ اور سول انجئیر شہر کے حسن کو کیسے برباد کرسکتا ہے! مگر بالآخر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔ یعنی یہ گرین بیلٹ کے خوبصورت پودے بھی اس منصوبے کی زد میں آگئے ۔

ویسے environmantal protection کی تنظیمیں متحرک ہوتیں، درخت اور پودے کاٹنے والوں کے خلاف مقدمے درج ہوتے اور انھیں کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا، تو شاید گرین بیلٹ اور پودے بچ جاتے مگر ہمارے ہاں توشاید کسی کو ماحولیات ، درختوں اور سبزے کی اہمیت کا ادراک ہی نہیں رہا ہے۔ حق ہی چھین لیا گیا ہے۔ اگر کوئی صحافی ایسے حقائق لکھ بھی دے تو سرکاری عمال نوٹس ہی نہیں لیتے ، اس لیے ایسے صحافی ’’ناپسندیدہ‘‘ خبریں فائل کرنے سے ہی گریز کرتے ہیں۔

وہاں کے باخبر حلقے یہ بتاتے ہیں کہ گوجرانوالہ کے جنوب میں واقع قصبہ ایمن آباد سے لے کر گوجرانوالہ کے شمالی جانب واقع گکھڑ شہر تک (جو قریباً تیس کلو میٹر کا علاقہ بنتا ہے) میٹرو بس چلانے کا منصوبہ بنایا گیا، پہلے اس پر آنے والی لاگت کا تخمیہ 65 ارب بتایا جاتا تھا، مگر اب ٹیکنیکل حضرات کے بقول یہ 100 ارب سے تجاوز کر جائے گا۔ کچھ عرصہ پہلے گوجرانوالہ کے اسی علاقے کی سڑکوں کی انجینئرنگ پر بھاری بجٹ خرچ کیا گیا تھا۔ اگر اس خرچ بھی شامل کرلیں تو میٹرو منصوبہ سوا ارب تک جا پہنچتا ہے۔

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کیا پنجاب میں تیل یا سونا نکل آیا ہے کہ اتنا مہنگا پراجیکٹ شروع کیاجارہا ہے ۔ تیس کلو میٹر کی آبادی کے کتنے فیصد لوگ میٹرو پر سفر کریں گے؟ دس، پندرہ یا بیس فیصد۔ کیا موجود معاشی صورتحال میں پندرہ بیس فیصد آبادی کے لیے اتنی بھاری رقم خرچ کرنا دانشمندی ہوگی؟ بہرحال ہر شخص کی اپنی اپنی رائے ہے۔

سڑکوں کی جو اکھاڑ پچھاڑ ہوئی ہے، اس کی وجہ سے بھی لوگوں کو پریشانی ہے، حادثات بھی ہوتے ہیں اور کئی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں، آنے والے دنوں میں گوجرانوالہ اور گکھڑ کے شہریوں کے لیے مزید مشکلات پیدا ہونے جارہی ہیں۔ نجی محفلوں میں اکثر لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ رائے بھی دیتے ہیں کہ کہ اتنی خطیر رقم کا بہترین استعمال یہ تھا کہ جی ٹی روڈ میں ایک لین کا اضافہ کرکے اسے چوڑا کیا جاتا اور تیس، چالیس الیکٹرک بسیں مزید چلادی جاتیں، بقایا رقم سے وزیرآباد، گکھڑ اور گوجرانوالہ میں ایک ایک بہترین اسپتال اور ایک ایک اعلیٰ پائے کی یونیورسٹی قائم کی جاسکتی تھی۔ میں نے ایک رکنِ اسمبلی سے پوچھا کہ آپ لوگ حکومت کو مقامی لوگوں کی رائے سے آگاہ کیوں نہیں کرتے؟ تو اس پر آئیں بائیں شائیں کے سوا کوئی جواب نہیں ملتا۔

مہذب ملکوں میں اہم ترین سڑک بناتے وقت بھی درخت نہیں کاٹے جاتے، سڑک کا روٹ اور رستہ تبدیل کر دیا جاتا ہے مگر یہاں گوجرانوالہ میں تو بیسیوں درخت کاٹ ڈالے گئے ۔ مگر اس پر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کیا جمہوری نظام میں سرکاری افسروں پر کوئی چیک نہیں ہوتا؟

امسال کسانوں سے ایک دانہ گندم نہیں خریدی گئی مگر اب کئی گنا مہنگی اور ناقص گندم بیرون ممالک سے خریدی جارہی ہے، کیا اس طرح کی کسان کش پالیسیاں بنانے والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں؟

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے