حکومتیں ترقیاتی منصوبے بناتی ہیں، تاہم ماحولیاتی آلودگی کا بھی خیال رکھنا چاہیے اور عوام کی رائے بھی سننے چاہیے
کراچی آباد نہیں ہوا تھا تو ملیر اور گڈاپ آباد تھے۔ ملیر اور گڈاپ اپنی زراعت کے لیے مشہور تھے۔ سبزیاں، پھل اور خاص طور پر پپیتا ، امرود اور سیتا وغیرہ ،اس علاقہ کی سوغات سمجھے جاتے ہیں۔ اس علاقہ میں بارش کے پانی سے پیدا ہونے والی قدرتی نہریں وسطی ایشیائی ممالک سے آنے والے پرندوں کے لیے انتہائی پرکشش ہیں۔ جب وسطی ایشیائی ممالک افغانستان وغیرہ میں سخت سردی پڑتی تو ہزاروں لاکھوں پرندے پاکستان کے جنوبی ساحل سے متصل علاقوں کا رخ کرتے تھے۔
اس علاقہ کے لوگوں کا بنیادی پیشہ زراعت تھا اور اب بھی آبادی کا ایک حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ ملیر اور گڈاپ میں بکریوں، گائے اور بھینسوں کے باڑے تھے جہاں سے تازہ دودھ کراچی والوں کودستیاب ہوتا تھا۔ اس پورے علاقہ میں ہزاروں سال کے قدیم آثار قدیمہ موجود تھے۔ ان میں سے کچھ موسموں کی نذر ہوئے مگر اب بھی اس پورے علاقہ میں آثارِ قدیمہ موجود ہیں، اگر آثارِ قدیمہ کے ماہرین اس علاقے میں مسلسل تحقیق کریں تو قدیم تاریخ کے اہم شواہد حاصل ہوسکتے ہیں۔ ملیر اور گڈاپ میں اب بھی سیکڑوں سال پرانی قبریں نظر آتی ہیں۔ ملیر اور گڈاپ کراچی کے جنوب مغربی علاقہ میں واقع ہے اور اس کی سرحد حب ندی تک جاتی ہے۔ حب ندی کے بعد بلوچستان کا علاقہ حب شروع ہوجاتا ہے۔
ملیر اور گڈاپ کے جنوب اور مشرق میں جامشورو ضلع ہے اور کھیر تھر کا پہاڑی سلسلہ ہے۔ جب بلوچستان، دادو اور جامشورو وغیرہ میں زوردار بارشیں ہوتی ہیں تو یہ بارش سیلاب کی شکل اختیار کرکے ملیر اور گڈاپ کے علاقہ کو آباد کرتی ہیں۔ اس پورے علاقہ میں سیکڑوں گوٹھ ہیں اور ملیر ضلع کی کل آبادی 2,419,713 نقوس پر مشتمل ہے جس میں سے ملیر شہر کے علاقوں کی آبادی 1,155,058 پر مشتمل ہے اور دیہی آبادی کی تعداد 1,264,678 پر مشتمل ہے۔ اس علاقہ میں خواندگی کا تناسب 63.14 فیصد ہے۔ مردوں میں یہ تناسب 67.74 فیصد جب کہ خواتین میں 57.84 فیصد ہے۔ ایک زمانہ میں ملیر اور گڈاپ کے علاقہ میں ہندوؤں کی بھی بڑی تعداد آباد تھی مگر ہندوستان کے بٹوارے کے بعد ہندوؤں کی بڑی تعداد ہجرت کرنے پر مجبور ہوئی۔
آزادی کے بعد جب کراچی کی آبادی بڑھنا شروع ہوئی تو شہر میں نئی بستیاں آباد ہونے لگیں۔ ان بستیوں میں تعمیر کے لیے بجری کی ضرورت تھی او رٹھیکیداروں نے ملیر ندی سے بجری نکالنا شروع کی۔ یہ کام وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تیزی سے ہونے لگا۔ ملیر ندی میں کھدائی کے لیے مشینی آلات استعمال ہونے لگے مگر بجری نکالنے کے عمل سے پورے علاقے میں گہرے موسمیاتی اثرات برآمد ہوئے ۔ کچھ سماجی کارکنوں نے بجری نکالنے کے نقصانات پر رائے عامہ ہموار کرنے کی بار بار جستجو کی مگر ٹرانسپورٹ مافیا کے ہاتھ بہت لمبے تھے، یوں ملیر اور گڈاپ جو باغات کے لیے مشہور تھے وہاں کھیت سوکھنے لگے۔ اس علاقہ میں بہت سے لوگوں نے زرعی اور مویشیوں کے فارم بھی بنائے تھے۔
ملیر ندی میں پانی کی کمی سے علاقہ میں کنویں خشک ہونے لگے۔ عوام کے بار بار مطالبہ پر ضلعی حکام ملیر ندی سے بجری نکالنے پر پابندی عائد کرتے مگر یہ سب کچھ بدستور جاری رہا۔آبادی پھیلنا شروع ہوئی تو اس کی زد میں کئی آثارِ قدیمہ بھی آئے ہیں بلکہ پرانے قبرستان بھی ختم ہورہے ہیں۔کنکریٹ کے جنگل اگنے سے درخت اور سبزہ کم ہورہا ہے ۔
اگست کے آخری ہفتہ کو مقامی لوگوں نے احتجاج بھی کیا تھا۔ جب عوام سوال اٹھا رہے ہوں تو حکومت کو رک کر سننا چاہیے،جنھوں نے اس خطہ کو اپنے خون پسینہ سے آباد رکھا۔ حکومتیں ترقیاتی منصوبے بناتی ہیں، تاہم ماحولیاتی آلودگی کا بھی خیال رکھنا چاہیے اور عوام کی رائے بھی سننے چاہیے ۔ اس علاقہ سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مشاورت صرف ایک اجلاس کا نام نہیں بلکہ بامعنی مشاورت ہوتی ہے جس میں لوگوں کے تحفظات کو دور کیا جائے۔
عظیم دہقان کا تعلق ملیر سے ہے۔ عظیم دہقان اپنے علاقہ میں علم کے پھیلاؤ کے لیے ہمیشہ کوششیں کرتے رہے۔ جب بائیں بازو کے کارکنوں نے جن میں کامریڈ واحد بلوچ، ڈاکٹر رمضان بامری اور عظیم دہقان شامل تھے بلوچی زبان کے عظیم دانشور سید ہاشمی لائبریری کی تعمیر کا منصوبہ بنایا تو اس لائبریری کے قیام کے لیے عظیم دہقان نے اپنی زمین بلامعاوضہ عطیہ کی تھی۔ آج عظیم دہقان ماحولیات کے حوالے سے کام کررہے ہیں۔ دہقان کا کہنا ہے کہ ملیر کی ماحولیات کو تحفظ دیا جائے گا تو کراچی بھی ماحولیات کے تناظر میں بہتر ہوگا۔
