سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں
عنوان پڑھ کر شاید آپ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کیونکہ سارے لقمانوں یعنی لقمے والے حکیموں نے پاکستانیوں کو سوچنے اور دماغ سے کام لینا منع فرمایا ہے کیوں کہ یہ سوچنا ہی سارے امراض کا ’’ابو الامراض‘‘ ہے، اس لیے پاکستانیوں کی صحت کے لیے یہی بہتر ہے کہ سوچنے کی بد پرہیزی بالکل نہ کریں، صرف سنیں اور سر دھنیں، چاہے سر اپنا ہو یا کسی اور کا۔
کہتے ہیں کہ جب حفیظ جالندھری شاہنامہ اسلام لکھ رہے تھے تو بیمار ہوگئے، اپنے جاننے والے ایک حکیم کے پاس گئے جو ادیب اور دانا دانشور بھی تھے، دوا دینے کے بعد حکیم صاحب نے کہا، یہ دوا لیں اور دماغی کام سے پرہیز کریں۔ حفیظ صاحب نے کہا کہ میں کچھ اور کام تو نہیں کر رہا ہوں لیکن ان دنوں شاہنامہ اسلام لکھ رہا ہوں۔ حکیم صاحب نے کہا، وہ لکھتے رہیں لیکن دماغی کام سے پرہیز کریں۔ ہمیں بھی ڈر ہے کہ کالم کا عنوان پڑھ کر بد پرہیزی پر اترائیں اور سوچنے لگیں کہ یہ کیا؟جھوٹا سچ اور سچا جھوٹ؟ جھوٹ تو جھوٹ ہوتا ہے اور سچ سچ… ایک بے خبر اور نادان دانشور شاعر نے بھی کہا ہے کہ
سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے
جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں
لیکن یہ ملاوٹ کا زمانہ ہے اور پاکستانیوں نے اس فن کو اس درجہ کمال کو پہنچایا ہے کہ جو چیز ہوتی ہے وہ، وہ چیز نہیں ہوتی ہے، باقی سب کچھ ہوتی ہے۔ بقول کے ڈی پاٹک: جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں اور جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں۔ آپ کو سپاہی دکھتا ہوگا اور وہ چور نکلے گا۔ آپ کو آدمی نظر آئے گا اور سب کچھ ہوگا لیکن آدمی ہرگز نہیں ہوگا۔ آپ جسے دیندار سمجھتے ہوں گے ، وہ اندر سے پکا دکاندار نکلے گا ۔ آپ بطخ دیکھتے ہوں گے لیکن بطخ کی کھال اوڑھے ہوئے کوا یا چیل نکلے گا۔ آپ کسی کو جدی پشتی جمہوری سمجھ رہے ہوتے ہیں اور وہ شاہ، شہنشاہ یا شاہی خاندان نکلے گا۔
آپ جسے تبدیلی سمجھیں گے، وہ تباہی ہوگا۔ جب ہر چیز میں یہاں تک کہ پانی اور ہوا میں بھی ملاوٹ ہوتی ہے تو سچ اور جھوٹ کیسے ملاوٹ سے بچے ہوں گے۔ آپ اخبار اٹھائیں، کسی کا بھی بیان پڑھیں، لگ پتہ جائے گا کہ کس کس جھوٹ کو سچ کا بگھار لگایا گیا ہے اورکس کس سچ کو جھوٹ کا تڑکا مارا گیا ہے۔
اب تو ملاوٹ باقاعدہ ایک کمال، ایک ہنر اور ایک آرٹ ہو چکا ہے۔ بہت پہلے سنا تھا کہ تھوڑے سے دودھ میں بناسپتی گھی ڈال کر ،پھر دودھ گرم کیا جاتا اور دہی بنادیا جاتا ، پھر اسے بلو کر مکھن نکالا جاتا اور پھر مکھن سے گھی نکال کر دیسی گھی بنایا جاتا ہے۔ اب تو دیسی گھی نہ جانے کونسے دیس چلا گیا کہ لوگوں کو اس کی پہچان ہی نہیں رہی، ایک مرتبہ ہمیں دیسی گھی کی ضرورت ہوئی، دیہات میں تلاش کرنے پر گھی تو نہیں ملا، مکھن مل گیا، مکھن کو گھی بنانے کے لیے گرم کیا تو گھر کے سارے چھوٹے بڑے ناک پر رومال رکھ کر ابکائیاں کرنے لگے۔ ہم سمجھ گئے چنانچہ رائج الوقت گھی سنگھایا تو افاقہ ہوا۔
سوات کا ایک دوست ہر سال اپنے ہاں آنے اور سیزن گزارنے کی دعوت دیتا تھا۔ آخر ایک مرتبہ وقت نکال لیا۔ بڑی خوبصورت جگہ تھی، نیچے ایک جھرنا جلترنگ بجاتا ہوا گزر رہا تھا، سامنے پہاڑ سے آبشار گر رہی تھی ۔ ہم نے برآمدے میں میز کرسی جمائی اور جو لکھنے کا کام لائے، کرنا شروع کیا۔ ابھی ایک صفحہ لکھا تھا کہ پیٹ میں چھریاں چلنے لگیں۔ برداشت کرتے رہے لیکن آخر کب تک۔ اور پھر الٹیاں بھی ہونے لگیں۔
میزبان ایک مقامی ڈاکٹر کو لے آیا۔ اس نے انجکشن لگایا، گلوکوز چڑھا، تب تک اسہال بھی شروع ہوگئے چنانچہ ساری رات واش روم آتے جاتے گزرگئی، صبح ڈاکٹر پھر آیا، تھوڑا افاقہ ہوا لیکن اگلی رات زکام، کھانسی اور بخار نے بھی گھیر لیا ۔ صبح تک ہم پوری طرح نڈھال ہو چکے تھے چنانچہ گھر فون کر کے بیٹے کو بلایا۔ ہم الگ ہلکان اور میزبان الگ پریشان جب کہ بیچ میں وہ ڈاکٹر بھی حیران۔ چل پڑے، مردان میں طبیعت تھوڑی سب سنبھل گئی تو ایک ہوٹل میں چائے پی۔ شام کو گھر پہنچے، سب پریشان تھے، کھانے کا یارا نہیں تھا، تھوڑی یخنی اور سبز چائے پی کر گولیاں کھائیں اور سو گئے۔ صبح جاگے تو ساری تکلیفیں جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ ہم سمجھ گئے۔
مشہور امریکی کالم نگار آرٹ بک والڈ کا ایک کالم یاد آیا۔ وہ بھی کسی صحت افزاء پہاڑی مقام پر گئے تھے اور ہمارے جیسا ماجرا ہوگیا تھا لیکن وہ ہوشیار امریکی تھے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ میں فوراً نیچے اترا، قریبی بازار پہنچا، اڈے میں ایک بس کھڑی تھی، اس کے پیچھے کھڑے ہو کر سائیلنسر سے نکلتا ہوا دھواں لمبی لمبی سانسیں لے کر اپنے اندر بھرا تو ٹھیک ہوگیا۔
خیر یہ تو بات دوسری طرف چلی گئی، اصل موضوع ہمارا جھوٹ میں سچ اور سچ میں جھوٹ کی ملاوٹ ہے۔ آپ یقین کریں یہ آرٹ، یہ ہنر، یہ کمال پاکستانی سیاست نے اس مقام بلند تک پہنچایا کہ آپ یہ ہرگز پتہ نہیں لگا سکتے کہ اس بیان میں بلکہ ان بیانوں میں سچ اور جھوٹ کا تناسب کتنا ہے۔ ماہرین ان دونوں اجزاء کو کچھ اس طرح کوفتہ بیختہ کرتے ہیں کہ دونوں ایسے یک جان یک قالب ہو جاتے ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون، کون اورکیا، کیا ہے؟
