چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو
ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا
نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا
انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟
کراچی: منگھوپیر دھرنے کو آج 6 دن ہو رہے ہیں، احتجاج سے مجبور ہو کر ایڈیشنل آئی جی آزاد خان، جو میر رضا علی کے قتل کیس میں شدید تنقید کی زد پر ہیں، دھرنے میں پہنچ گئے، تاہم وہ نوجوان مقتول کے غم زدہ لواحقین کو کوئی ٹھوس یقین دہانی کرانے میں ناکام رہے۔
منگھوپیر میں قتل ہونے والے نوجوان روشم کے ورثا کا تھانے کے باہر احتجاجی دھرنا جاری ہے، گزشتہ رات اے آئی جی آزاد خان سے ہونے والے مذاکرات ناکام رہے، مقتول روشم کے والد روئیداد حسین نے کہا جب تک ملزمان گرفتار نہیں ہوں گے مقتول کی تدفین نہیں ہوگی اور دھرنا جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے 6 روز گزرنے کے بعد بھی قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے، نہ ہی کوئی پیش رفت ہو سکی ہے جس سے یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ میر رضا علی کیس کی طرح پولیس روشم کے کیس میں بھی قاتلوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
محکمہ پولیس کی مایوس کن کارکردگی دیکھ کر مقتول کے والد نے اعلان کیا ہے کہ آج سے شہر کے مختلف علاقوں میں دھرنے دیے جائیں گے۔
میر رضا کے بزنس پارٹنرز نے عبوری ضمانت کی درخواست واپس لے لی
دھرنا ختم کرانے اور مقتول کی تدفین کے لیے مذاکرات کے لیے اے آئی جی آزاد خان اور ڈی آئی جی عرفان بلوچ منگھوپیر دھرنے میں رات 10 بجے منگھوپیر پہنچے تھے، ایس ایس پی طارق الہٰی مستوئی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
پولیس افسران نے مقتول روشم کے والد روئیداد حسین سے ملاقات کی اور ان سے اظہار تعزیت کیا، افسران نے روشم کے قتل سے متعلق کیس کی تفتیش اور پیش رفت پر والد سے بات چیت بھی کی، اس موقع پر اے آئی جی نے روایتی طور پر متعلقہ پولیس حکام کو نوجوان کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری جلد از جلد ممکن بنانے کی ہدایت کی۔
تاہم روئیداد حسین نے کہا کہ جب تک ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا، روشم کی لاش کے ساتھ ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ روشم 8 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا، حافظِ قرآن تھا، جسے پولیس وردی میں ملبوس ڈاکوؤں نے گھر میں ڈکیتی کے دوران گولی مار کر جان سے محروم کر دیا تھا۔
