چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو
ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا
نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا
انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟
واشنگٹن: روئٹرز نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی نے امریکا کو ایک نئی مشکل میں ڈال دیا ہے، حوثیوں کی پیش قدمی اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول کے قریب پہنچ گئی، اور اس پیش رفت سے امریکا کے لیے خطے میں ایک نیا سیکیورٹی چیلنج پیدا ہو گیا ہے۔
روئٹرز نے لکھا ایران کے اتحادی حوثیوں نے اتنی برق رفتاری سے کارروائی کی ہے، کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ اس صورتِ حال نے، جب کہ ایران کے ساتھ ان کی جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک نیا بڑا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کا تنازع پھیلتا جا رہا ہے، اس کے ساتھ ہی حوثی جنگجوؤں نے یمن کے ساحلی علاقے میں جنوب کی جانب پیش قدمی کر لی ہے، جس سے باب المندب آبنائے کو بند کرنے کی ان کی صلاحیت بڑھ گئی ہے۔ بحیرۂ احمر کے دہانے پر واقع اس آبنائے کو ’’بابِ اشک‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
اس پیش رفت سے تہران اس پوزیشن میں آ جائے گا کہ وہ خطے کی تیل کی نقل و حمل کی ان دونوں بڑی گزرگاہوں (آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب) پر ممکنہ دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔
ایرانی صدر نے امریکیوں کے سامنے اہم سوال رکھ دیا
حوثی جنگجو جمعے کو پریم جزیرے تک پہنچ گئے ہیں، جو یمن اور افریقہ کے درمیان آبنائے کے وسط میں واقع ہے۔ سعودی عرب خاص طور پر متاثر ہو سکتا ہے، کیوں کہ آبنائے ہرمز میں جنگ کے باعث رکاوٹ کے بعد وہ اپنے تیل کی بڑی مقدار بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں سے بھیج رہا ہے۔
یہ صورتِ حال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نئی مشکل ہے، کیوں کہ ایران کے ساتھ جنگ پہلے ہی ساتویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے اور امریکی معیشت پر جنگ کے اثرات، خصوصاً پٹرول کی بلند قیمتیں، سیاسی مسئلہ بن رہی ہیں۔ امریکی حکام کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ باب المندب کی بندش روکنا ضروری ہے، لیکن حوثیوں کے خلاف نئی جنگ میں براہِ راست داخل ہونا بھی خطرناک ہے۔
محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے امریکی فوجی مدد مانگی، مگر واشنگٹن نے فی الحال براہِ راست فوجی مداخلت سے انکار کیا ہے، البتہ انٹیلی جنس مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق حوثیوں نے بھی امریکی انتظامیہ سے رابطہ کر کے امریکا سے براہِ راست جنگ میں شامل نہ ہونے کی درخواست کی ہے۔
امریکا فی الحال یہ چاہتا ہے کہ علاقائی اتحادی خود علاقائی سلامتی کے معاملات کی قیادت کریں، جب کہ واشنگٹن بحیرۂ احمر میں آزادانہ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے پر توجہ دے۔ ایران نے کہا ہے کہ یمن کا مسئلہ محاصرے یا فوجی کارروائی سے حل نہیں ہوگا اور مذاکرات کی ضرورت ہے۔
