پاکستان کی سیاست بھی شاید ایسے ہی کسی موسم کی دہلیز پر کھڑی ہے
سیاست میں موسم اچانک نہیں بدلتا۔ پہلے ہوائیں رخ بدلتی ہیں، پھر درختوں کی شاخیں ہلتی ہیں اور آخرکار سب کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ آندھی آنے والی ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ بدلتے موسم کو بھی معمول کی ہوا سمجھتے رہتے ہیں۔
پاکستان کی سیاست بھی شاید ایسے ہی کسی موسم کی دہلیز پر کھڑی ہے۔بظاہر سب کچھ چل رہا ہے۔ حکومت موجود ہے، اتحادی موجود ہیں، پارلیمان موجود ہے، اجلاس ہو رہے ہیں، بیانات آ رہے ہیں، فیصلے بھی ہو رہے ہیں، مگر سیاسی منظرنامے کو ذرا قریب سے دیکھا جائے تو ایک بے چینی صاف محسوس ہوتی ہے۔
کہیں صف بندی تبدیل ہو رہی ہے، کہیں خاموشی معنی خیز ہے اور کہیں وہ لوگ بھی بولنے لگے ہیں ،جو کل تک صرف حالات کا انتظار کر رہے تھے۔یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب سیاست میں اصل چہرے سامنے آتے ہیں۔
اقتدار کی سب سے بڑی خوبی شاید یہی ہے کہ وہ معمولی آدمی کو بھی غیر معمولی طاقت کا احساس دے دیتا ہے۔ کرسی پر بیٹھا ہوا شخص اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ طاقت اس کی ذات کا حصہ نہیں، اسے حاصل ہونے والی ایک عارضی سہولت ہے۔
کرسی رہے تو فیصلے بڑے لگتے ہیں، آواز میں وزن آ جاتا ہے اور مخالف بھی محتاط دکھائی دیتے ہیں، لیکن کرسی ہل جائے تو وہی آواز سوال بن جاتی ہے اور وہی فیصلے جواب طلبی کی زد میں آ جاتے ہیں۔اسی لیے سیاست میں اصل کمال اقتدار حاصل کرنا نہیں، اقتدار کے دوران اپنی سیاسی بنیاد محفوظ رکھنا ہے۔
آج حکومت کے دونوں بڑے اتحادی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ضرور ہیں، مگر ان کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے چھپانا شاید پہلے جتنا آسان نہیں رہا۔ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے سیاسی مفاہمت کے ذریعے اقتدار کا یہ سفر شروع کیا تھا، لیکن مفاہمت کا رشتہ اس وقت تک مضبوط رہتا ہے جب تک دونوں فریق اپنے اپنے مفادات کو ایک ہی میز پر قابل قبول حد تک رکھ سکیں۔
جب مفادات کی سمتیں مختلف ہونے لگیں تو ایک ہی کشتی میں بیٹھے مسافر بھی ایک دوسرے سے پوچھنے لگتے ہیں کہ منزل آخر کس طرف ہے؟سندھ کی سیاست میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبائی تقسیم کی بحث نے اس کشمکش کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے لیے یہ محض ایک انتظامی بحث نہیں۔ یہ اس کی طویل سیاسی تاریخ، سندھ میں اس کے ووٹ بینک اور صوبائی شناخت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ دوسری طرف مرکز کے لیے بعض اوقات انتظامی ضرورت اور سیاسی حکمت عملی ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں،یہیں سے اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
کیا اتحادی جماعتیں اقتدار کے لیے اپنے بنیادی سیاسی موقف پر سمجھوتہ کریں گی؟ یا کسی ایسے مقام پر پہنچیں گی جہاں انھیں یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ حکومت زیادہ اہم ہے یا سیاست؟کیونکہ حکومت پانچ سال کی ہو سکتی ہے، مگر سیاسی شناخت نسلوں تک ساتھ چلتی ہے،اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف بھی اس پورے منظرنامے میں اہم ہو جاتی ہے۔
تحریک انصاف اقتدار سے باہر ہے، اس کی قیادت کا ایک بڑا حصہ مشکلات میں ہے اور اس کے بانی جیل میں ہیں، لیکن اس کے باوجود سیاسی بحث میں اس کا وزن ختم نہیں ہوا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس کے مخالفین بھی اسے نظر انداز نہیں کر پا رہے،مگر یہاں تحریک انصاف کے لیے بھی ایک کڑا سوال موجود ہے۔
’’صرف مزاحمت کافی ہے یا سیاسی راستہ بھی درکار ہے؟‘‘
اگر مذاکرات کا دروازہ کھلتا ہے تو کیا اسے مفاہمت سمجھا جائے گا یا سیاسی حکمت ِ عملی؟ اگر رہائی یا سیاسی سہولت کے بدلے کچھ شرائط سامنے آتی ہیں تو کیا انھیں قبول کرنا دانشمندی ہوگی یا کارکنوں کی قربانیوں کے ساتھ ناانصافی؟
یہ فیصلہ آسان نہیں ہوگا،کیونکہ سیاسی تحریکیں صرف اپنے قائد سے نہیں، اپنے کارکنوں کی امیدوں سے بھی زندہ رہتی ہیں۔آج تحریک انصاف کے سامنے بھی یہی چیلنج ہے کہ وہ غصے اور حکمت، مزاحمت اور سیاست، جذبات اور عملی امکانات کے درمیان توازن کیسے قائم کرتی ہے۔دوسری طرف حکومت کے لیے بھی صورتحال اتنی سادہ نہیں۔
معیشت محض اعداد کا نام نہیں۔ عام آدمی کے لیے معیشت بجلی کے بل، آٹے کی قیمت، روزگار، علاج، بچوں کی فیس اور گھر کے ماہانہ بجٹ کا نام ہے۔ حکومت اگر معاشی اشاریوں میں بہتری دکھاتی ہے لیکن عام شہری کو اپنی زندگی میں اس بہتری کا اثر محسوس نہیں ہوتا تو سیاسی فائدہ محدود رہتا ہے۔
عوام گراف نہیں دیکھتے، گھر کا چولہا دیکھتے ہیں۔یہی وہ حقیقت ہے جسے ہر حکومت اقتدار میں آنے کے بعد کچھ عرصے کے لیے بھول جاتی ہے،اور جب عوامی توقعات، سیاسی وعدوں اور زمینی حقیقتوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے تو پھر کسی ایک واقعے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ چھوٹے چھوٹے سوالات مل کر بڑا سوال بن جاتے ہیں۔
پھر اتحادی جماعتیں بھی حساب لگاتی ہیں، مخالفین بھی حکمت عملی بناتے ہیں اور خاموش بیٹھے لوگ بھی اچانک سیاسی طور پر متحرک ہو جاتے ہیں،یہی کسی بڑے سیاسی موڑ سے پہلے کی کیفیت ہوتی ہے۔ اس وقت پاکستان کی سیاست میں سب سے دلچسپ کردار وہ لوگ ہیں جو ابھی کسی صف میں پوری طرح کھڑے نہیں ہوئے۔
یہ وہ سیاسی عناصر ہیں جو حالات کو پڑھ رہے ہیں، انتظار کر رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں طاقت کا پلڑا کس طرف جھکتا ہے۔سیاست میں انھیں موقع پرست کہنا آسان ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی سیاست میں ایسے کردار ہمیشہ موجود رہے ہیں۔آج کے اتحادی کل کے مخالف ہو سکتے ہیں اور آج کے مخالف کل کے مذاکرات کار۔
سیاست میں مستقل دشمن اور مستقل دوست کی اصطلاحیں اکثر کتابوں میں اچھی لگتی ہیں، عملی سیاست میں نہیں۔اصل مستقل چیز صرف مفاد نہیں بلکہ عوامی قبولیت ہونی چاہیے،کیونکہ طاقت کے ذریعے فیصلے کروائے جا سکتے ہیں، مگر لوگوں کے دلوں میں جگہ نہیں بنائی جا سکتی۔
پاکستان کی تاریخ میں بہت سے طاقتور کردار آئے۔ کچھ نے نظام بدلے، کچھ نے حکومتیں بدلیں، کچھ نے سیاسی نقشے تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ مگر وقت گزرنے کے بعد ان سب کا حساب ایک ہی پیمانے سے ہوا۔
انھوں نے ملک کو جوڑا یا توڑا؟لوگوں کو سہولت دی یا مشکلات؟اداروں کو مضبوط کیا یا کمزور؟عوام کی آواز سنی یا صرف اپنی آواز سنائی؟یہی اصل امتحان ہے۔شاید پاکستان کی موجودہ سیاست کا سب سے بڑا سوال یہی ہے۔کون اقتدار کے ساتھ کھڑا ہے اور کون وقت کے ساتھ؟کیونکہ اقتدار بدلتا ہے، صفیں بدلتی ہیں، اتحاد بدلتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں، مگر تاریخ اپنی یادداشت نہیں بدلتی۔
آخرکار وقت ہر سیاست دان سے اس کا حساب ضرور لیتا ہے،اور جب حساب کا دن آتا ہے تو یہ نہیں پوچھا جاتا کہ آپ کے پاس کتنی طاقت تھی۔یہ پوچھا جاتا ہے۔آپ نے اس طاقت سے کیا کیا؟
