• ستمبر 13, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 13, 2026 4:19 صبح
  • پاکستان

پاکستان نے ایران کی امریکا سے جنگ ختم کرانے میں اہم سفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں

مریم نواز نے ایک بیان کیا دیا کہ کچھ لوگوں کو ان کے خلاف بولنے کا موقع مل گیا۔ انھوں نے یہی تو کہا تھا کہ اب ملک کی سرحدوں کے باہر سے نہیں، پنجاب کو اندر سے بھی دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ اس بات سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے کہ اب دشمن نے آپریشن سندور میں مار کھانے کے بعد اپنی جارحانہ پالیسی میں تبدیلی کر لی ہے۔

اب اس نے سرحد کے باہر سے نہیں، اندرون پاکستان موجود اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کو مزید وسیع کر دیا ہے، اب پورا ملک ہی اس کی دہشت گردی کی زد میں ہے، خاص طور پر بلوچستان اور کے پی کے اس کی دہشت گردی کا مرکز بنے ہوئے ہیں کیونکہ افغان طالبان اور کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو بھی اب اس نے اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔

یہ دہشت گرد افغانستان سے پہلے بلوچستان اور خیبر پختوخوا میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں دہشت گردی کی وارداتیں کرتے ہیں، وہاں سے گذر کر یہ دہشت گرد سندھ اور پنجاب پر بھی حملہ آور ہو رہے ہیں۔ کاش کہ ان دہشت گردوں کو وہیں روک دیا جاتا اور وہ آگے اپنے مذموم عزائم کو کامیاب نہ بنا سکتے۔

ویسے تو وہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی پاکستانی سرحدوں سے چھیڑچھاڑ ہی نہیں، باقاعدہ حملے بھی کرتا رہا ہے۔ کیا ہم 1965 کو بھول گئے یا 1971 کو، جب اس نے ملک پر ایسی قیامت ڈھائی کہ جس کے نتیجے میں ہمارا مشرقی بازو ہم سے چھن گیا جس کی محرومی آج بھی ہمیں محسوس ہوتی ہے، ہم اس کی حفاظت نہیں کر پائے۔

خیر اب وہاں بھی حالات بدل گئے ہیں۔ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد اب وہاں بھارتی پٹھو حکومت کی جگہ ایک حقیقی عوامی حکومت نے اقتدار سنبھال لیا ہے اور خوش قسمتی سے وہ پاکستان کے ساتھ مل کر چلنا چاہتی ہے۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی بھی کامیابی ہے کہ بنگلا دیش حکومت ان کی قدر کر رہی ہے اور پاکستانی عوام کو اپنا بھائی اور اپنے ہی لوگ سمجھ رہی ہے۔

اس وقت جب کہ تقسیم ہند کو 80 برس گزر چکے ہیں، بھارت اور افغانستان، پاکستان کو تباہ کرنے کے اپنے ارادوں سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔ جہاں تک مریم نواز کے بیان کا تعلق ہے، وہ کسی طرح بھی ملک کی سلامتی یا وحدت کے خلاف تو نہیں لگتا۔ یہ بات تو ہر پاکستانی جانتا ہے کہ بھارتی سرحد سے لگے صوبہ سندھ اور پنجاب کو دشمن سے ہمیشہ ہی خطرہ رہا ہے، اب بھی ہے۔

کیا ہم گزشتہ برس مئی کے مہینے میں دشمن کی جانب سے آپریشن سندور کے حوالے سے کیے گئے جارحانہ اور بزدلانہ حملوں کو بھول گئے ہیں۔ اس میں کئی پاکستانی شہری شہید ہوئے تھے مگر اس کے جواب میں جب ہماری افواج نے معرکہ بنیان مرصوص کے تحت بھارت کو جواب دیا تو اس کی بولتی بند ہو گئی اور وہ اپنے کتنے ہی مہنگے رافیل طیاروں سے ہاتھ دھو بیٹھا، اس سے اس کی بڑی جگ ہنسائی ہوئی کہ ایک چھوٹے ملک نے بڑے ملک کو دھول چٹا دی اور پھر دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے صدر نے پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں فاتح قرار دیا اور بھارت کے چھ سے سات رافیل کے پاکستان کے ہاتھوں تباہ ہونے کی خبر بھی دی۔

اس خبر پر بھارتی حکمران بہت غصے میں تھے مگر چونکہ خبر درست تھی اس لیے وہ جھوٹ بولنے کی ہمت نہ کر سکے۔ ہر بھارتی حکومت ہمیشہ سے ہی جھوٹ بولنے اور اپنی خالی خولی کامیابیوں پر دنیا کو بے وقوف بناتی رہی ہے مگر اس دفعہ وہ ناکام ہی رہی۔ اب معرکہ بنیان مرصوص کی بدولت پاکستان کی عزت میں چار چاند لگ گئے ہیں۔

پاکستان نے ایران کی امریکا سے جنگ ختم کرانے میں اہم سفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں، اب یہ اور بات ہے کہ اسرائیل ٹرمپ کو اس جنگ سے باہر نہیں نکلنے دے رہا ہے اور اس لیے امریکا اب بھی ایران کے خلاف چھیڑچھاڑ جاری رکھے ہوئے ہے۔

اب جہاں تک مریم نواز کے بیان کا تعلق ہے، اس کے حق بجانب ہونے کی پی ٹی آئی کے ایک اہم رہنما فواد چوہدری نے بھی تصدیق کی ہے اس لیے کہ وہ سمجھ گئے ہیں کہ یہ بیان وطن عزیز کے خلاف یا ملک کی کسی سیاسی پارٹی کے خلاف نہیں تھا۔

اس میں تو کچھ شک نہیں کہ ہمارے ملک میں دہشت گرد موجود ہیں جو غیرملکی ہیں اور دشمن کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں تاہم کچھ ہمارے اپنے لوگ بھی لالچ کے عوض دشمن کے لیے کام کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سب کا قلع قمع ہونے تک ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو ختم نہیں کیا جا سکے گا۔

بہرحال ہماری سیکیورٹی فورسز ان کا صفایا کرنے میں مصروف ہیں۔ مریم نواز سے کچھ لوگ اس لیے بھی ناراض ہیں کہ پنجاب میں امن و امان ہے اورکاروباری سرگرمیاں جاری ہیں، ترقیاتی کام ہورہے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا ہورہے ہیں چنانچہ مخالفین کو اس کے خلاف بولنے کا کوئی موقع نہیں مل رہا تھا۔

اب مریم نواز کے بیان کو متنازعہ بنا کر انھیں تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر انھیں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ دراصل حکومت کرنا بڑے دل گردے کا معاملہ ہے۔ اس میں مخالفین کے بڑے بڑے الزامات بھی خندہ پیشانی سے برداشت کرنا پڑتے ہیں چنانچہ حوصلہ رکھنا چاہیے اور ہمت نہیں ہارنی چاہیے ۔

اب محسوس ہوا کہ ہمارے ملک میں واقعی جمہوریت ہے، اسی لیے سیاستدان جو بیان دینا چاہیں بے دھڑک دے دیتے ہیں مگر ہمارے پڑوسی ملک میں یہ کیفیت نہیں ہے۔ وہاں تو اب جمہوریت کا جنازہ ہی نکل چکا ہے۔

بھارت جو پہلے کبھی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت تھا، اب مودی نے اسے دنیا کی سب سے بڑی ڈکٹیٹرشپ میں تبدیل کر دیا ہے، وہاں کا کوئی بھی سیاستدان اپنی زبان کھولتے ہوئے ڈرتا ہے، کہیں اس کی بات مودی کو بری نہ لگ جائے اور وہ اس کے خلاف اپنی پولیس سے سے بدلہ لینے پر آمادہ نہ ہو جائے۔ ہمارا ملک اگرچہ برسوں فوجی اقتدار میں رہا ہے مگر اس وقت بھی بولنے کی آزادی رہی ہے۔ اب جمہوری دور میں ہر پارٹی اپنا مدعا بیان کررہی ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے