• ستمبر 13, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 13, 2026 3:25 صبح
  • پاکستان

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستان کو ایک نازک سفارتی امتحان میں ڈال دیا ہے

کبھی خارجہ پالیسی کا سب سے مشکل سوال یہ نہیں ہوتا کہ آپ کس کے ساتھ ہیں بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آپ دو متحارب فریقوں کے درمیان اپنے قومی مفاد کو کیسے محفوظ رکھتے ہیں۔پاکستان آج اسی مشکل صورت حال سے دوچار ہے۔

ایک طرف سعودی عرب ہے، جس کے ساتھ ہمارے تاریخی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات ہیں، دوسری طرف ایران ہے، جو ہمارا ہمسایہ ہے اور جس کے ساتھ ہماری طویل سرحد اور گہرے جغرافیائی مفادات وابستہ ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستان کو ایک نازک سفارتی امتحان میں ڈال دیا ہے۔ وہ سعودی عرب کا دوست اور دفاعی شراکت دار بھی ہے، ایران کا ہمسایہ بھی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں میں بھی مصروف ہے۔اصل سوال یہ ہے:کیا پاکستان اس بحران میں ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے یا حالات اسے کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑا ہونے پر مجبور کر دیں گے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی طاقت اور سب سے بڑی مجبوری اس کا جغرافیہ ہے۔ ہم چین کے پڑوسی ہیں، افغانستان سے جڑے ہوئے ہیں، ایران کے ساتھ طویل سرحد رکھتے ہیں، بھارت کے ساتھ حساس سرحد ہے اور عرب دنیا کے ساتھ ہمارے گہرے مذہبی، انسانی اور معاشی روابط ہیں۔

یہ جغرافیہ ہمیں اہم بناتا ہے، مگر آسانی نہیں دیتا۔ موجودہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں یہی جغرافیہ پاکستان کو ایک مشکل توازن قائم کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔

حالیہ سہ فریقی دفاعی معاہدے نے بھی اس شراکت داری کو مزید اہم بنا دیا ہے تاہم پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب پر حوثی حملوں کے جواب میں اس معاہدے کے تحت فی الحال کوئی فوجی کارروائی زیربحث نہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات صرف حکومتوں کے تعلقات نہیں، لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں روزگار حاصل کرتے ہیں۔ سعودی عرب نے مختلف مشکل اوقات میں پاکستان کی مدد کی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون طویل تاریخ رکھتا ہے لیکن ایران بھی پاکستان کے لیے کوئی معمولی ملک نہیں۔

ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔ بلوچستان کے دونوں جانب تاریخی، قبائلی اور ثقافتی روابط موجود ہیں۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کا اثر صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں رہتا بلکہ بلوچستان بلکہ خیبر پختونخوا تک جاتا ہے۔

حالیہ بحران میں پاکستان نے ایران کے ساتھ رابطے کیے اور سعودی عرب کا پیغام تہران تک پہنچایا۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ escalation کے بجائے restraint، dialogue اور diplomacy کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

یہ پاکستان کے لیے ایک اہم diplomatic opportunity ہے لیکن ثالثی صرف ایک ملک کا پیغام دوسرے ملک تک پہنچانے کا نام نہیں، ثالثی کے لیے فریقین کا اعتماد، سیاسی اثر و رسوخ اور قابلِ قبول راستہ درکار ہوتا ہے۔

پاکستان کے پاس ایک منفرد combination موجود ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات، ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت، امریکا کے ساتھ روابط اور چین کے ساتھ strategic partnership۔ اگر ان تعلقات کو باہم متصادم بنانے کے بجائے diplomatic bridges میں تبدیل کیا جائے تو پاکستان کا علاقائی کردار کہیں زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔

اگر سعودی عرب پر حملے بڑھتے ہیں اور ریاض پاکستان سے عملی فوجی مدد کا مطالبہ کرتا ہے تو اسلام آباد کے سامنے مشکل فیصلہ ہوگا۔ اگر پاکستان اپنی دفاعی commitments سے بالکل پیچھے ہٹتا ہے تو ایک اہم strategic partner کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں اور اگر پاکستان اس تنازع میں داخل ہوتا ہے تو بھی معاملات آسان نہیں ہیں۔ اس لیے پاکستان کی سب سے بڑی diplomatic کامیابی یہی ہوگی کہ وہ جنگ میں داخل ہوئے بغیر امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

مشرقِ وسطیٰ کا بحران صرف foreign policy کا مسئلہ نہیں، معاشی مسئلہ بھی ہے۔ Strai of Hormuz دنیا کی اہم ترین energy arteries میں سے ایک ہے۔ اگر وہاں جہاز رانی متاثر ہوتی ہے، shipping اور insurance costs بڑھتے ہیں یا توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ آتی ہے تو اس کے اثرات عالمی منڈی سے نکل کر پاکستان تک پہنچتے ہیں۔

پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل اور LNG پر انحصار کرتا ہے لہٰذا مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ہمارے گھر سے اتنی دور نہیں جتنی نقشے پر دکھائی دیتی ہے۔ وہ ہمارے fuel bill کے قریب ہے۔ تیل مہنگا ہوگا تو transport مہنگی ہوگی، بجلی اور صنعت پر دباؤ بڑھے گا اور بالآخر مہنگائی کا بوجھ عام آدمی اٹھائے گا یعنی مشرقِ وسطیٰ میں ایک میزائل کبھی کبھی پاکستان میں مہنگائی کی صورت میں گرتا ہے۔

پاکستان سعودی عرب کا دوست ہے، ایران کا ہمسایہ، چین کا strategic partner اور امریکا کے ساتھ اہم روابط رکھنے والا ملک۔ اگر ہم ان تعلقات کو دانش مندی سے استعمال کریں تو پاکستان محض ایک strategic location نہیں بلکہ ایک strategic diplomatic player بن سکتا ہے لیکن اس کے لیے جذباتی نہیں، mature diplomacy درکار ہے۔

ایک صحافی کی حیثیت سے مجھے عراق اور افغانستان کی جنگوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان تجربات نے ایک حقیقت واضح کی: جنگ شروع کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، اسے ختم کرنا مشکل اور امن قائم کرنا اس سے بھی مشکل۔ آج مشرقِ وسطیٰ اسی سوال کے سامنے ہے:

کیا جنگ واقعی مسئلہ حل کرتی ہے یا صرف اگلی جنگ کے لیے زمین تیار کرتی ہے؟ اس سوال کا جواب جنگ کے میدان میں نہیں، سفارت کاری کی میز پر تلاش کرنا چاہیے۔ میرے نزدیک پاکستان کو اس بحران میں چند بنیادی اصولوں پر قائم رہنا چاہیے۔

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی تعلقات برقرار رکھے جائیں، ایران کے ساتھ بھی high-level diplomatic engagement جاری رہے۔ امریکا، چین، ترکی، قطر اور عمان سمیت متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطہ اور coordination بڑھانا چاہیے۔ سب سے بڑھ کر پاکستان کو اپنے قومی مفاد کو ہر خارجی pressure سے بالاتر رکھنا ہوگا کیونکہ ریاستوں کی خارجہ پالیسی میں آخرکار قومی مفاد ہی مستقل رہتا ہے۔

کامیاب سفارت کاری ہمیشہ کیمرے کے سامنے نہیں ہوتی۔ کبھی ایک خاموش ملاقات، ایک محتاط پیغام اور بند دروازے کے پیچھے ہونے والی گفتگو جنگ کے امکانات کم کر دیتی ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم خود کو ایک strategic diplomatic player کے طور پر بھی ثابت کریں۔

سعودی عرب سے قربت ہمیں ریاض تک رسائی دیتی ہے۔ ایران سے ہمسائیگی ہمیں تہران تک پہنچنے کا راستہ دیتی ہے۔ امریکا سے روابط واشنگٹن تک دروازہ کھولتے ہیں اور چین کے ساتھ شراکت داری ہمیں ایک دوسری بڑی عالمی طاقت کے قریب رکھتی ہے مگر موقع اور کامیابی میں ایک فرق ہوتا ہے۔ موقع جغرافیہ دیتا ہے، کامیابی سفارت کاری حاصل کرتی ہے۔

آج پاکستان کے پاس ایک غیرمعمولی موقع ہے۔ وہ اس بحران میں صرف ایک اتحادی بن کر رہ سکتا ہے یا ایک ایسا ملک بن سکتا ہے جو جنگ کے بجائے امن کی طرف راستہ دکھانے کی کوشش کرے ۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے