کراچی میں لڑکیاں ای بائیکس بھی تیار کرنے لگیں
ایک رات میں 1500 افراد غائب : آسیب زدہ گاؤں کا 200 سال پرانا خوفناک راز آج بھی زندہ
ٹریفک پولیس اہلکاروں کے یونیفارم سفید ہی کیوں ہوتے ہیں؟
جوڑے کی جنگل میں انسٹاگرام لائیو کے دوران خودکشی، اہل خانہ بھی دیکھتے رہے
کیلیفورنیا (7 اکتوبر 2026): امریکا میں 14 کمسن بچوں پر بہیمانہ تشدد کا شرمناک واقعہ پیش آیا ہے پولیس نے نگہبان جوڑے کو گرفتار کر لیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک وسیع وعریض گھر میں سروگیسی سے پیدا ہونے والے بچوں پر بہیمانہ تشدد کا شرمناک واقعہ پیش آیا ہے اور پولیس نے ان پر تشدد کے الزام میں وہاں مقرر نگہبان جوڑے کو گرفتار کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تشدد کا نشانہ بنائے جانے والے بچوں کی تعداد 14 ہے اور ان میں سے کچھ بچوں کی عمر صرف دو ماہ ہے۔
لاس اینجلس کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ناتھن ہوچمین نے بتایا کہ گرفتار ملزمان 66 سالہ گوجن شوان اور 39 سالہ سلویہ ژانگ چینی شہری ہیں، جن پر بچوں پر تشدد کرنے کی سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ناتھن ہوچمین نے مذکورہ گھر کو کم عمر بچوں کے لیے ’’خوفناک گھر‘‘ سے تشبیہہ دیتے ہوئے کہا کہ گرفتار جوڑے کے گھر میں رہائش پذیر آیاؤں (nannies) کی نگرانی میں رہنے کے دوران بچوں کو بار بار جسمانی اور جذباتی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
ہوچمین کے مطابق اس مبینہ تشدد کے واقعات کا انکشاف اس وقت ہوا جب پولیس کو ایک دو ماہ کے بچے کے سر پر چوٹ لگنے کی اطلاع دے کر اس گھر میں بلایا گیا۔
تاہم پولیس کے پہنچنے سے قبل مبینہ طور پر شوان اور ژانگ نے بچوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ خود پر تشدد سے انکار کریں جب کہ آیاؤں کو کہا گیا کہ وہ تشدد کرنے والی چھڑیوں کو چھپا دیں۔
شکایت کے مطابق، شوان اور ژانگ کے ہاں کام کرنے والی آیا، چنمی لی پر بچے کو مارنے کا الزام ہے۔ مبینہ طور پر جوڑے نے بچے کے لیے دو دن تک طبی امداد حاصل نہیں کی، اور جب طبی عملے کو بتایا تو دعویٰ کیا کہ بچہ بستر سے گر گیا تھا۔
شکایت میں یہ الزام لگایا گیا کہ جوڑے نے تین مختلف کمرے قائم کر رکھے تھے جنہیں وہ "لرننگ سینٹرز” (تعلیمی مراکز) کہتے تھے؛ وہاں بچے دن کے کئی گھنٹے مختلف آیاؤں کی نگرانی میں رہتے تھے۔
ڈسٹرکٹ اٹارنی کا کہنا ہے کہ مذکورہ جوڑا مختلف بچوں کا مکمل نام، تاریخِ پیدائش اور اس سروگیٹ (کرائے کی ماں) کا نام درج کرنے کے لیے ایک اسپریڈ شیٹ (ریکارڈ) رکھتے تھے جن سے وہ بچے پیدا ہوئے تھے۔
شکایت کے مطابق، ملزمان نے مختلف کمروں میں متحرک ہونے والے 32 کیمرے لگا رکھے تھے، جن کے ذریعے وہ لرننگ سینٹرز میں آیاؤں کی نگرانی کرتے تھے۔
شکایت میں کہا گیا کہ 27 اپریل اور 7 مئی 2025 کے درمیان، کچھ آیاؤں (nannies) کو کیمرے میں بچوں کو مارتے پیٹتے، تھپڑ مارتے یا ضرب لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔ ایک واقعے میں، مبینہ طور پر ایک آیا نے بچے کو جوتے سے مارا جب کہ گرفتار جوڑا یہ پرتشدد فوٹیج دیکھتے ہوئے محظوظ ہوتے اور قہقہے لگاتے رہے۔
واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد محکمہ برائے بہبودِ اطفال و خاندان نے تمام بچوں کو ملزمان جوڑے کی تحویل سے اپنی نگرانی میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب ملزمان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل نے بچوں پر کسی بھی قسم کا تشدد نہیں کیا۔
ڈسٹرکٹ اٹارنی نے بتایا کہ ژوان اور ژانگ کو منگل کے بعد کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ پراسیکیوٹرز ملزمان کے ملک سے فرار ہونے کے امکانات اور الزامات کی سنگینی دیکھتے ہوئے ہر ملزم کے لیے 100 ملین ڈالر ضمانت مقرر کرنے کی سفارش کر رہے ہیں۔
