• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 3:58 شام
  • پاکستان

کراچی میں لڑکیاں ای بائیکس بھی تیار کرنے لگیں

ایک رات میں 1500 افراد غائب : آسیب زدہ گاؤں کا 200 سال پرانا خوفناک راز آج بھی زندہ

ٹریفک پولیس اہلکاروں کے یونیفارم سفید ہی کیوں ہوتے ہیں؟

جوڑے کی جنگل میں انسٹاگرام لائیو کے دوران خودکشی، اہل خانہ بھی دیکھتے رہے

اسلام آباد (7 اکتوبر 2026): عالمی بینک نے پاکستان میں غربت میں نمایاں اضافے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کا 48 فیصد انتہائی غریب طبقہ پاکستان میں رہتا ہے۔

عالمی بینک کی خطے میں غربت سے متعلق جشم کشا رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان میں غربت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور انتہائی غربت کی شرح 6.4 فیصد بڑھی ہے۔ خطے کے انتہائی غریب افراد کا تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتا ہے۔

اس کے علاوہ افغانستان، شام اور یمن بھی غربت کے بڑے مراکز بن چکے ہیں جہاں مجموعی طور پر خطے کے 47 فیصد انتہائی غریب افراد بستے ہیں۔ خطے کی شدید غریب ترین آبادی 3 ڈالر یومیہ سے بھی کم کمانے والے ہیں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ریجنل سطح پر غربت کی شرح قبل از کورونا سطح سے بھی اوپر اور مسلسل اضافے کا شکار ہے جاری مالی سال کے دوران پاکستان کا مالیاتی خسارہ 3.5 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

عالمی بینک نے رواں مالی سال کے لیے پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 3.8 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہے اور کہا ہے کہ شرح نمو مالی سال 2025 میں 3.2 فیصد رہی تھی۔

ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ درآمدات کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود خدمات، مینوفیکچرنگ اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں بہتری کی امید ہے، تاہم خام مال اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافے سے افراط زر بڑھنے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دباؤ کے باوجود پاکستان میں مقامی معاشی سرگرمیوں کا زیادہ مضبوط رہنے کا امکان ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے