• ستمبر 11, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 11, 2026 7:08 شام
  • پاکستان

11 ستمبر 2001 کو القاعدہ کے 19 ہائی جیکرز کی جانب سے چار طیاروں کو اغوا کر کے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون سے ٹکرانے کے واقعے کو 25 سال گزر چکے ہیں، اس واقعے میں مجموعی طورپر تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس کے بعد امریکی قیادت میں جنگوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے امریکی خارجہ پالیسی کو ازسرنو تشکیل دیا۔

عرب میڈیا کے مطابق 2001 کے بعد سے ہر سال امریکی افواج نے دنیا میں کہیں نہ کہیں کسی ملک پر بمباری کی جس سے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں تباہ ہوئیں۔

نائن الیون کے بعد ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں امریکا نے افغانستان پر حملہ کر دیا اور صدر جارج ڈبلیو بش کی جانب سے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا آغاز کیا گیا، یہ بظاہر نہ ختم ہونے والی جنگوں اور فوجی مہمات کا ایک سلسلہ تھا جو افغانستان، عراق سمیت مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افریقہ کے ممالک تک پھیل گیا۔

براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی و عوامی امور کے 'کاسٹ آف وار' پراجیکٹ کے تخمینے کے مطابق 2001 کے بعد سے امریکی زیرِ قیادت جنگوں میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر اندازاً 45 سے 47 لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان میں جنگ کے نتیجے میں ہونے والی تقریباً 9 لاکھ 40 ہزار براہ راست ہلاکتیں اور بیماریوں، غذائی قلت اور صحت کی پیچیدگیوں کے باعث ہونے والی 36 سے 38 لاکھ بالواسطہ ہلاکتیں شامل ہیں۔

7 اکتوبر 2001 کو امریکا نے افغانستان میں 'آپریشن اینڈورنگ فریڈم' کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں طالبان کی حکومت چند ہفتوں میں گر گئی لیکن یہ جنگ چار امریکی صدور کے دورِ اقتدار پر محیط رہی اور تقریباً 20 سال تک جاری رہی۔

کاسٹس آف وار پراجیکٹ کے تجزیے کے مطابق اس جنگ کے براہ راست نتیجے میں اندازاً ایک لاکھ 76 ہزار افراد ہلاک ہوئے جبکہ بھوک اور بیماریوں نے مزید لاکھوں افراد کی جانیں لیں۔

جنگ سے قبل افغانستان میں غذائی عدم تحفظ کا شکار افراد کی شرح 62 فیصد تھی جو جنگ کے بعد بڑھ کر 92 فیصد ہو گئی۔

سال 2021 میں امریکی انخلا کے ساتھ ہی طالبان نے دوبارہ افغانستان کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

افغانستان پر حملے کو ابھی دو سال سے بھی نہ ہوئے تھے کہ امریکا نے 19 مارچ 2003 کو عراق پر یلغار کر دی، عراق میں اس جنگ کے براہ راست نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے تعداد 3 لاکھ سے زیادہ تھی۔

زمینی جنگوں کے ساتھ ساتھ امریکا نے پاکستان، یمن، صومالیہ، افغانستان میں اور عراق و شام میں داعش کے خلاف بڑے پیمانے پر غیر اعلانیہ فضائی اور ڈرون حملے بھی کیے۔

بیورو آف انویسٹی گیٹو جرنلزم کے اعداد و شمار کے مطابق 2004 کے بعد سے امریکا نے پاکستان میں 423 حملے کیے جن میں 424 سے 966 عام شہریوں سمیت اندازاً 2499 سے 4001 افراد ہلاک ہوئے۔

اسی طرح امریکا نے یمن میں کم از کم 186 حملے کیے جن میں 158 عام شہریوں سمیت کم از کم 853 افراد مارے گئے جبکہ صومالیہ میں 2001 اور 2016 کے درمیان 19 سے 23 حملوں میں 188 سے 276 افراد ہلاک ہوئے۔

2014 میں عراق اور شام میں داعش کے خلاف امریکی قیادت میں ہونے والے 'آپریشن انہرنٹ ریزولو' میں اگرچہ سرکاری حکام نے 1417 شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا لیکن فوجی کارروائیوں سے شہریوں کو پہنچنے والے نقصان پر نظر رکھنے والی ایک غیر منافع بخش تنظیم 'ایئروارز' کے تخمینے کے مطابق ہلاکتوں کی اصل تعداد 8264 سے 13360 کے درمیان ہے۔

کاسٹس آف وار پراجیکٹ کے اندازے کے مطابق نائن الیون کے بعد ہونے والی ان جنگوں کی وجہ سے افغانستان، عراق، پاکستان، یمن، صومالیہ، فلپائن، لیبیا اور شام بھر میں 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔

اس جنگ کے دوران افغانستان میں 8 لاکھ سے زائد امریکی فوجیوں نے فرائض انجام دیے اور 2021 میں آخری امریکی دستوں کے انخلا سے قبل تقریباً 2500 فوجی ہلاک اور 20000 زخمی ہوئے جبکہ امریکا، برطانیہ اور اتحادی افواج کے مجموعی طور پر تقریباً 3500 اہلکار ہلاک اور 23,500 سے زائد زخمی ہوئے۔

ڈیفنس کیژولٹی اینالسس سسٹم کے مطابق عراق جنگ میں 3481 امریکی فوجی ہلاک اور 31 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔

اس جنگ کے طویل مدتی نقصانات بھی بے تحاشا رہے ہیں۔ کاسٹس آف وار پراجیکٹ کے تخمینے کے مطابق نائن الیون کے بعد جنگوں میں حصہ لینے والے سابق فوجیوں کی دیکھ بھال پر امریکا کو 2050 تک 2.2 ٹریلین سے 2.5 ٹریلین ڈالر تک لاگت آ سکتی ہے جبکہ اس جنگ میں حصہ لینے والے بہت سے سابق فوجی اب بھی ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

امریکہ نے دو دہائیوں پر محیط اس جنگ پر اندازاً 5.8 ٹریلین ڈالر خرچ کیے ہیں جبکہ آنے والی دہائیوں میں سابق فوجیوں کی دیکھ بھال کے لیے مزید 2.2 ٹریلین ڈالر مختص کیے گئے ہیں جس کے بعد یہ مجموعی لاگت کم از کم 8 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔

نائن الیون کے 25 سال: حملوں کی ذمہ دار القاعدہ کا کیا بنا؟

امریکا کا حوثیوں کیخلاف انٹیلی جنس معلومات سعودیہ کو دینے کا فیصلہ، براہ راست کارروائی سے انکار

پاکستانی نژاد ذیشان حامد کینیڈا کے وزیر برائے سیاحت و ثقافت مقرر

ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں کیخلاف کارروائی کی درخواست پر انکار کردیا، امریکی نیوز سائٹ کا دعویٰ

منگولیا کے صدر نے 100کلوگرام وزن 20 مرتبہ اٹھا کر سب کو حیران کردیا

اسرائیلی فوج نے لبنان کی علی الطاہر پہاڑی پر حملوں کی ویڈیو جاری کردی

الجزائر نے اماراتی طیاروں کیلئے فضائی حدود بند کردی

چین کی بندرگاہ پر لنگر انداز کارگو جہاز میں آتشزدگی سے 25 افراد ہلاک

حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا: یمن کی انصار اللہ تنظیم کا دعویٰ

ایران نے زیر زمین تنصیبات میں بیلسٹک میزائلوں کی تیاری دوبارہ شروع کردی: امریکی اخبار

ایران کے ساتھ جنگ ٹرمپ کی مدت صدارت کے اختتام تک جاری رہ سکتی ہے: سینیئر مشیروں کا انتباہ

فراڈ کے الزامات کے بعد سابق بنگلادیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کی بیٹی نے عالمی ادارہ صحت سے استعفیٰ دیدیا

تازہ ترین

• 1 منٹ پہلے دنیا نے نائن الیون حملے اور دہشتگردی کیخلاف امریکی جنگ کی کیا قیمت ادا کی؟

• 14 منٹ پہلے 10 سیکنڈ میں بتا سکتے ہیں کہ اس تصویر میں بچے کی ماں کونسی ہے؟

10 سیکنڈ میں بتا سکتے ہیں کہ اس تصویر میں بچے کی ماں کونسی ہے؟

• 14 منٹ پہلے فیکٹ چیک: چمن میں ’اسمگل شدہ‘ طیاروں کی وائرل ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہے

فیکٹ چیک: چمن میں ’اسمگل شدہ‘ طیاروں کی وائرل ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہے

• 36 منٹ پہلے واٹس ایپ میں ایک بہترین سکیورٹی فیچر کا اضافہ

واٹس ایپ میں ایک بہترین سکیورٹی فیچر کا اضافہ

• 47 منٹ پہلے نائن الیون کے 25 سال: حملوں کی ذمہ دار القاعدہ کا کیا بنا؟

• 1 گھنٹے پہلے محسن نقوی سے بیک ڈور چینلز پر رابطہ رہتا ہے، تفصیلات میڈیا پر نہیں بتا سکتے: بیرسٹرگوہر

محسن نقوی سے بیک ڈور چینلز پر رابطہ رہتا ہے، تفصیلات میڈیا پر نہیں بتا سکتے: بیرسٹرگوہر

• 2 گھنٹے پہلے 106 سالہ شخص کا طرز زندگی جو بہت زیادہ منفرد ہے

106 سالہ شخص کا طرز زندگی جو بہت زیادہ منفرد ہے

• 2 گھنٹے پہلے امریکا کا حوثیوں کیخلاف انٹیلی جنس معلومات سعودیہ کو دینے کا فیصلہ، براہ راست کارروائی سے انکار

ماخذ: Geo News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے