• اکتوبر 4, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 4, 2026 2:11 صبح
  • پاکستان

مجوزہ کارروائی کا اہم مقصد بحیرۂ احمر کے اہم تجارتی راستے اور باب المندب پر حوثیوں کا کنٹرول ختم کرنا ہے

سعودی عرب نے یمن میں حوثی گروپ کے خلاف ممکنہ بڑے فوجی آپریشن کی تیاری شروع کردی ہے، جس میں ایک لاکھ سے زائد یمنی فوجیوں اور حکومت نواز جنگجوؤں کو متحرک کیا جاسکتا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی عرب اس کارروائی کے لیے دو منصوبوں پر غور کر رہا ہے۔ پہلے منصوبے کے تحت باب المندب اور اس کے گرد ساحلی علاقوں میں محدود فوجی آپریشن کیا جائے گا، جبکہ دوسرے آپشن میں یمن کے متعدد محاذوں پر بیک وقت کارروائی شامل ہے۔

وسیع تر آپریشن کی صورت میں البیضا، مارب، تعز اور الجوف کے علاقوں میں حوثی ٹھکانوں کے خلاف مربوط حملے کیے جاسکتے ہیں۔ زمینی کارروائی سعودی عرب کی نگرانی میں یمنی فورسز کریں گی، جبکہ سعودی فضائیہ انہیں فضائی مدد فراہم کرے گی۔

ذرائع کے مطابق کارروائی کا حجم اس بات پر منحصر ہوگا کہ سعودی قیادت کون سا منصوبہ اختیار کرتی ہے۔ آپریشن کے آغاز کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی اور مختلف اندازوں کے مطابق یہ آئندہ چند ہفتوں میں یا نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد شروع ہوسکتا ہے۔

امریکا سعودی کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس اور ہدف بندی سے متعلق معاونت فراہم کر رہا ہے، تاہم امریکی فوج کی براہ راست جنگی کارروائی میں شمولیت کی توقع نہیں کی جارہی۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز پاکستان اور ترکی نے سعودی عرب کو فوجی سازوسامان اور دیگر دفاعی معاونت فراہم کی ہے تاہم پاکستان نے یمن کے اندر جنگی کارروائی کے لیے فوج بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

سعودی منصوبے کو اس خدشے کا بھی سامنا ہے کہ حوثی جوابی طور پر سعودی تیل تنصیبات اور دیگر اہم انفرااسٹرکچر پر ڈرون اور میزائل حملے کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کے گرد کشیدگی عالمی تجارت اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ مجوزہ کارروائی کا مقصد باب المندب پر حوثیوں کا کنٹرول ختم کرنا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے