• اکتوبر 4, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 4, 2026 1:15 صبح
  • پاکستان

دکاندار نے تین دن میں موبائل ٹھیک نہ کیا تو شہری تلوار لے کر پہنچ گیا

کرسٹا پائیک کے خوفناک جرم کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی؟

بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی

ایک ماہ کے شیر خوار کو کئی بار بیچ دیا گیا، والدین سمیت 7 افراد گرفتار

میرٹھ بلیو ڈرم کیس میں عدالت نے سوربھ راجپوت کی بیوی مسکان رستوگی اور اس کا دوست ساحل شکلا قتل کے جرم میں مجرم قرار دے دیا۔

بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ کے بدنام زمانہ ‘بلیو ڈرم قتل کیس’ حالیہ تاریخ کے خوفناک ترین اور لرزہ خیز جرائم میں شمار کیا جاتا ہے۔

سوربھ قتل کیس میں مقامی عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم مسکان رستوگی اور ساحل شکلا کو مجرم قرار دے دیا ہے، دونوں مجرمان کو 14 اکتوبر کو باقاعدہ سزا سنائی جائے گی۔

عدالت نے دونوں ملزمان کو قتل اور قتل کے بعد شواہد چھپانے کے جرم کا بھی مرتکب قرار دیا ہے۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ دونوں ذہنی طور پر پہلے ہی اس کے لیے تیار تھے اور انہیں پہلے سے معلوم تھا کہ اس کیس میں انہیں سزا ملے گی۔

اسی لیے جب جج نے انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا اور دونوں سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو سزا کم کیوں دی جائے، تو دونوں نے عدالت میں کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔

سوربھ راجپوت کے قتل کی لزرہ خیز داستان

اس ہولناک داستان کا مرکزی کردار مقتول سوربھ راجپوت تھا، جو ایک سابق مرچنٹ نیوی آفیسر تھا، ستمبر 2026میں میرٹھ کی عدالت نے اس کیس میں مقتول کی بیوی اور اس کے عاشق کو قصوروار قرار دیا ہے۔

قتل کا پسِ منظر اور لرزہ خیز منصوبہ

یہ ہولناک کہانی مارچ 2025 میں اس وقت شروع ہوئی جب لندن سے واپسی پر سوربھ راجپوت کو علم نہیں تھا کہ اس کے اپنے ہی گھر میں اس کی موت کا جال بُنا جاچکا ہے۔

سوربھ کی بیوی مسکان رستوگی کا اپنے ایک دوست ساحل شکلا کے ساتھ ناجائز افیئر چل رہا تھا، دونوں نے سوربھ کو اپنے راستے سے ہٹانے کے لیے ایک انتہائی خوفناک اور تفصیلی منصوبہ تیار کیا۔

قتل اور لاش کے ٹکڑے کرنے کا ہولناک منظر

منصوبے کے مطابق مسکان اور ساحل نے پہلے سوربھ کو نشہ آور دوا دی اور پھر خنجر کے وار کر کے اسے بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

قتل کرنے کے بعد، پکڑے جانے کے خوف سے انہوں نے لاش کو ٹھکانے لگانے کا ایسا طریقہ اپنایا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔

انہوں نے سوربھ کی لاش کے کٹر کی مدد سے تقریباً 15 ٹکڑے کیے تاکہ اسے آسانی سے چھپایا جا سکے۔

مسکان نے خاص طور پر اس کام کے لیے مارکیٹ سے نیلے رنگ کا ایک بڑا پلاسٹک ڈرم خریدا تھا، لاش کے تمام ٹکڑوں کو اس نیلے ڈرم کے اندر ٹھونس دیا گیا۔

تعفن اور بو کو پھیلنے سے روکنے اور شواہد مٹانے کے لیے انہوں نے ڈرم کے اندر لاش کے اوپر گیلے سیمنٹ اور ریت کا پورا محلول ڈال کر اسے اوپر تک سیل کر دیا، تاکہ وہ ایک ٹھوس ستون کی طرح نظر آئے۔ اس کے بعد اس ڈرم کو ایک کرائے کے مکان میں چھپا دیا گیا۔

راز فاش ہونا اور خوف کی لہر

جب سوربھ لاپتہ ہوا تو پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا، شک کی بنیاد پر جب اس کرائے کے مکان کی تلاشی لی گئی تو وہاں سے سیمنٹ سے بھرا ہوا وہ نیلا ڈرم برآمد ہوا، جب سیمنٹ کو توڑا گیا تو اس میں سے انسانی اعضاء نکلے، جس نے پولیس اہلکاروں کے بھی رونگٹے کھڑے کر دیے۔

اس واقعے کا میرٹھ کی مقامی مارکیٹ پر ایسا نفسیاتی اثر پڑا کہ نیلے رنگ کے پلاسٹک ڈرم خوف کی علامت بن گئے۔

دکانداروں نے نیلے ڈرم بیچنا بند کر دیے یا خریداروں سے شناختی کارڈ مانگنا شروع کر دیے، جبکہ جوس اور پانی بیچنے والوں نے شک سے بچنے کے لیے نیلے ڈرمز کو سفید ڈرمز سے تبدیل کر دیا۔

عدالت کا فیصلہ

اس کیس کی سماعت تقریباً ڈیڑھ سال تک میرٹھ کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں چلی۔ اس دوران 126 سماعتیں ہوئیں اور 22 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

30 ستمبر 2026 کو عدالت نے تمام سائنسی اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر مقتول کی بیوی مسکان رستوگی اور اس کے عاشق ساحل شکلا کو دفعہ 302 (قتل) اور شواہد مٹانے کے جرم میں باقاعدہ طور پر مجرم (قصوروار) قرار دیدیا ہے۔

عدالت کی طرف سے ان کی سزا (جس میں پراسیکیوشن کی جانب سے پھانسی کی سزا کا مطالبہ کیا گیا ہے) کا اعلان 14 اکتوبر 2026 کو کیا جائے گا۔

یہ کیس جرائم کی دنیا میں اس بات کی ایک بھیانک مثال بن چکا ہے کہ کس طرح قریبی رشتے دار ہی لالچ اور ہوس میں اندھے ہو کر سفاکی کی تمام حدیں پار کر جاتے ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے