• ستمبر 21, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 21, 2026 8:05 شام
  • پاکستان

عمر بڑھنے کے ساتھ دن چھوٹے ہونے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ تحقیق

شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ

جب 24 سال سے قید بچوں نے پہلی بار سورج کی روشنی دیکھی

آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے کا بیگ، حیرت انگیز ایجاد

دنیا میں کئی نام ایسے ہیں جنھیں مشکل حالات اور زندگی کی سختیاں‌ جھیلنے کے دوران اچانک خود شناسی کا تجربہ ہوا اور جب انھوں نے اپنی قابلیت اور صلاحیت کو پہچان کر اس کا اظہار کیا تو ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔ یہی نہیں‌ بلکہ یہ لوگ اس لیے بھی دوسروں کے لیے متاثر کن ثابت ہوئے کہ وہ عمر کے جس حصّے میں‌ داخل ہوچکے تھے، اس میں‌ یہ سوچنا محال تھا کہ اچانک ایک فیصلہ اس طرح ان کا ہر دکھ اور ہر محرومی مٹا دے گا۔ یہ تذکرہ ہے سر والٹر اسکاٹ کا جو ادھیڑ عمری تک کسی بھی لحاظ سے ایک معمولی انسان سے مختلف نہیں تھے اور ان کی شخصیت میں بظاہر کوئی خاص بات دکھائی نہیں‌ دیتی تھی۔ مگر پھر والٹر اسکاٹ کا نام انگریزی ادب کے افق پر چمکنے لگا۔

مشہور ناول نگار، شاعر اور مؤرخ والٹر اسکاٹ 21 ستمبر 1832 ء کو چل بسے تھے۔ والٹر اسکاٹ کی شخصیت سے متاثر ہوکر ان کے بارے میں معروف اسکالر اور مصنف مولانا وحید الدین خاں نے اپنی کتاب رازِ حیات میں اپنا مضمون شامل کیا تھا جو آپ کے مطالعے کی نذر ہے۔

سر والٹر اسکاٹ (1832۔ 1771) کا شمار انگریزی ادب کے نامور افراد میں ہوتا ہے۔ مگر اس کو یہ مقام معمولی حیثیت کی قیمت میں ملا۔ اس کی معمولی حیثیت اس کے لیے وہ زینہ بن گئی جس پر چڑھ کر وہ اعلیٰ درجہ کو پہنچے۔

والٹر اسکاٹ اپنی ادھیڑ عمر تک ایک معمولی صلاحیت کاانسان سمجھا جاتا تھا۔ اس کی حیثیت بس ایک تیسرے درجہ کے شاعر کی تھی۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ اس کے اوپر قرضوں کا بوجھ لد گیا۔ اس کی شاعری اس کو اتنی آمدنی نہ دے سکی جس سے وہ اپنے قرضوں کی ادائیگی کرسکے۔ بالآخر اس کے حالات نہایت شدید ہوگئے۔ شدید حالات نے اس کی شخصیت کو آخر حد تک جھنجھوڑ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ والٹر اسکاٹ کے اندر سے ایک نیا انسان ابھر آیا۔ اس کی ذہنی پرواز نے کام کا نیا میدان تلاش کرلیا۔ اب اس نے نئی نئی کتابیں پڑھیں۔ یہاں تک کہ اس پر کھلا کہ وہ محبت کی تاریخی داستانیں لکھے۔ چنانچہ اس نے محبت کی تاریخی داستانوں کو ناول کے انداز میں قلم بند کرنا شروع کردیا۔ قرض کی ادائیگی کے جذبہ نے اس کو ابھار اکہ وہ اس میدان میں زبردست محنت کرے۔ اس نے کئی سال تک اس راہ میں اپنی ساری طاقت صرف کردی۔ اس کو اپنی کہانی بازار میں اچھی قیمت میں فروخت کرنی تھی اور یہ اسی وقت ممکن تھا جب کہ اس کی کہانیاں اتنی جان دار ہوں کہ قارئین کی توجہ اپنی طرف کھینچ سکیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا والٹر اسکاٹ کی غیر معمولی محنت اس کی کہانیوں کی مقبولیت کی ضامن بن گئی۔ اس کی لکھی ہوئی کہانیاں اتنی زیادہ فروخت ہوئیں کہ اس کا سارا قرض ادا ہوگیا۔ والٹر اسکاٹ پر اگر یہ آفت نہ آتی تو اس کے اندر وہ زبردست محرک پیدا نہیں ہوسکتا جس نے اس سے وہ کہانیاں لکھوائیں جس نے اس کو انگریزی ادب میں غیر معمولی مقام دے دیا۔

اس کے بعد والٹر اسکاٹ کو سَر کے خطاب سے نواز اگیا۔ والٹر اسکاٹ کے لیے قرض کا مسئلہ نہایت جاں گداز مسئلہ تھا۔ لیکن اگر یہ جاں گداز مسئلہ نہ ہوتا تو والٹراسکاٹ، سَر والٹر اسکاٹ بھی نہ بنتا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے