• ستمبر 26, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 26, 2026 2:05 صبح
  • پاکستان

بدنام زمانہ گینگسٹر کو شادی کیلیے 12 گھنٹے کی رہائی مل گئی

آرم ریسلر نے بچی کے والد سے جان بوجھ کر ہار کر سب کے دل جیت لیے

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی

اسلام آباد : وفاقی وزیر بحری امور جنید انور چوہدری نے بناسپتی اور خوردنی تیل تیار کرنے والی کمپنیوں کو پورٹ قاسم میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی۔

پاکستان بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کمپنیوں کو پورٹ قاسم میں ’’ایڈیبل آئل سٹی‘‘ کے قیام کے لیے سرمایہ کاری کرنے کی پیشکش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پورٹ قاسم پر مجوزہ صنعتی زون کے قیام میں صنعت کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی اور ضروری انفرااسٹرکچر کی فراہمی میں بھی تعاون کیا جائے گا۔

جنید انور چوہدری نے کہا کہ خوردنی تیل کی صنعت ملکی معیشت اور حکومتی آمدن میں اہم کردار ادا کررہی ہے، درآمدات کے ذریعے اس شعبے سے حکومت کو کسٹمز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی مد میں نمایاں آمدن حاصل ہوتی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق حکومت پورٹ قاسم پر صنعتی اور تجارتی زونز قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جن کا مقصد سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ساتھ مقامی مینوفیکچرنگ اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پورٹ قاسم پر 150 ایکڑ رقبے پر آٹوموٹیو پروسیسنگ زون قائم کیا جائے گا، جسے مارکیٹ کی طلب کے مطابق مرحلہ وار توسیع دی جاسکے گی، اس کے علاوہ بندرگاہ پر 250 ایکڑ پر مشتمل اپیرل زون بھی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

وزیر بحری امور کے مطابق اپیرل زون کے پہلے مرحلے سے ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور سالانہ تقریباً 2.2 ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں۔

پورٹ قاسم پر پانی کا مسئلہ حل کرنے کی بھی تجویز

جنید انور چوہدری نے پورٹ قاسم پر پانی کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے کاروباری بنیادوں پر سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کا پلانٹ قائم کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے پاکستان بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کو اس منصوبے میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پی وی ایم اے پورٹ قاسم انتظامیہ کے ساتھ مل کر ایسا نظام قائم اور چلانے میں کردار ادا کرسکتی ہے جس سے بندرگاہ پر قائم صنعتی یونٹس کی پانی کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔ ٹریٹمنٹ کے بعد حاصل ہونے والے پانی کو پورٹ پر دوبارہ استعمال کیا جاسکے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پورٹ قاسم پر زمین سے متعلق مسائل حکومت کے علم میں ہیں اور انہیں مرحلہ وار حل کیا جائے گا۔ قابل عمل کاروباری منصوبے پیش کرنے والے سرمایہ کاروں کو زمین الاٹ کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پورٹ قاسم کی سہولیات اور صنعتی ترقی میں نجی شعبے کی مزید شمولیت چاہتی ہے تاکہ بندرگاہ کو صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جاسکے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے