• ستمبر 19, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 19, 2026 2:19 شام
  • پاکستان

آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے کا بیگ، حیرت انگیز ایجاد

لندن سے بنگلادیش جانے والی پرواز میں مسافر لڑ پڑے، ویڈیو وائرل

شوہر نے میکے سے واپس نہ آنے پر بیوی کی ناک کاٹ دی

’’125 سال سے مسلسل روشن دنیا کا واحد بلب‘‘

واشنگٹن(19 ستمبر 2026):گوگل کی مصنوعی ذہانت کا ماڈل ’جیمنی‘سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران نادانستہ طور پر تین کمپنیوں کے سسٹمز میں داخل ہوگیا۔

گوگل نے تصدیق کی ہے کہ اس کے مصنوعی ذہانت کے ماڈل ’جیمنی‘ نے مئی میں ایک سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران نادانستہ طور پر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے بعد تین کمپنیوں کے سسٹمز میں رسائی حاصل کر لی تھی۔

یہ واقعات "آریگولر” (Irregular) نامی ایک آزاد فرم کی جانچ پڑتال کے دوران پیش آئے، جو جدید AI سسٹمز کی سیکیورٹی کا جائزہ لیتی ہے۔

گوگل نے بتایا کہ متاثرہ کمپنیوں کو اس واقعے سے فوری طور پر مطلع کر دیا گیا تھا اور جیمنی نے یہ طے کرنے کے بعد کہ وہ سسٹمز ٹیسٹ کے دائرہ کار سے باہر ہیں، ان تک رسائی روک دی تھی۔

گوگل کی سکیورٹی انجینئرنگ کی نائب صدر، ہیدر ایڈکنز کے مطابق، جیمنی نے آن لائن عوامی سطح پر دستیاب معلومات تلاش کیں اور ان سسٹمز تک پہنچنے کی کوشش میں یا تو پاس ورڈز کا اندازہ لگایا یا پھر انہیں پبلک ریپوزیٹریز میں تلاش کر لیا جن کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ وہ ٹیسٹنگ کا حصہ ہیں۔

گوگل کا کہنا ہے کہ جب ماڈل کو احساس ہوا کہ یہ سسٹمز ٹیسٹ کا حصہ نہیں ہیں، تو اس نے عمل روک دیا۔

واضح رہے کہ آریگولر کے جائزوں سے جڑے ایسے ہی دیگر واقعات اس سے قبل میٹا، اینتھروپک اور اوپن اے آئی کی جانب سے بھی سامنے لائے جا چکے ہیں۔ میٹا نے اگست میں کہا تھا کہ اس کے واقعے میں سینڈ باکس سے فرار (یعنی الگ تھلگ ٹیسٹنگ ماحول کی خلاف ورزی) یا کوئی پیچیدہ سائبر حملہ شامل نہیں تھا۔

گوگل کا موقف تھا کہ چونکہ جیمنی کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں پہنچا، اس لیے ان واقعات کو عوامی سطح پر ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، تاہم اس کے باوجود تینوں متعلقہ کمپنیوں کو مطلع کر دیا گیا تھا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے