میری بیوی بچے کہاں ہیں؟ ڈیڑھ سالہ ٹیٹو سنگھ کی کہانی کا اصل راز کیا ہے؟
دکاندار نے تین دن میں موبائل ٹھیک نہ کیا تو شہری تلوار لے کر پہنچ گیا
کرسٹا پائیک کے خوفناک جرم کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی؟
بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی
اسلام آباد: سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے کئی مرتبہ معاہدے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد اس سے انکار کر دیا۔
میڈیا سے گفتگو میں شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے دوران بہت سے معاملات پر اتفاق ہوا، لیکن افسوس ہے کہ مسودے میں 4 مرتبہ تبدیلی بھی کی گئی، لیکن بعض امور پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔
انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو دن سے ہم ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں تاکہ ملک کو انتشار سے بچایا جا سکے، اس کے لیے پارلیمان میں جمہوری کردار ادا کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے تمام خدشات سنے گئے۔
شیری رحمان کے مطابق لانگ مارچ اور دوسری چیزوں پر پی ٹی آئی نے معاہدہ کرنےسے انکار کر دیا ہے، ہم بھی دہشت گردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتے۔
مذاکرات کا نتیجہ
واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے طویل مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے معاملے پر مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے، ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی انسداد دہشت گردی کی حکومتی حکمت عملی سے گریزاں رہی، واضح کیا گیا کہ اگر انسداد دہشت گردی پر بات آگے نہیں بڑھتی تو پھر کوئی پیش رفت نہیں ہوگی، مذاکراتی ارکان کی 11 گھنٹے اسپیکر چیمبر میں بیٹھک کے بعد مایوس واپسی عمل میں آئی۔
مذاکرات ناکامی کی وجہ
ادھر حکومتی کمیٹی کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کے باعث کامیاب نہ ہو سکے، تحریک انصاف قیادت کئی نکات پر اتفاق کر چکی تھی، اور لانگ مارچ مؤخر کرنے کو تیار تھی، لیکن قیادت وزیر اعلیٰ کے پی کے سامنے بے بس نظر آئی، کے پی حکومت نے وفاقی پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے انکار کیا۔
