• ستمبر 12, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 12, 2026 11:08 شام
  • پاکستان

چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو

ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

اسلام آباد (12 ستمبر 2026): وزیر اعظم شہباز شریف کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل کا پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس (لیوی) کے حوالے سے اہم بیان سامنے آگیا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’سوال یہ ہے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا احسان افضل نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کو ہم نے بجٹ کے بعد نہیں بڑھایا یہ وہیں ہے جہاں پہلے تھا، دنیا کے دیگر ممالک پیٹرول اور ڈیزل پر 30 سے 50 فیصد ٹیکس لگاتے ہیں، ہم نے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دینے کی کوشش کی لیکن اسے مستقل جاری نہیں رکھ سکے، مشرق وسطیٰ کی صورتحال ایسی ہے کہ مستقل سبسڈی دیں تو ملک کو نقصان ہوگا۔

وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر نے کہا کہ تیل درآمد کرنے والے ممالک بھی پیٹرول اور ڈیزل پر 30 سے 50 فیصد ٹیکس لگاتے ہیں، پاکستان نے پیٹرول پر 30 فیصد جبکہ ڈیزل پر 25 فیصد ٹیکس لگایا ہوا ہے، کیا پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا کر ہم کوئی ایسا انوکھا کام کر رہے ہیں جو دوسرے ملک نہیں کر رہے؟

رانا احسان افضل نے مزید کہا کہ یہ تاثر دینا غلط ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی سے عوام کا خون پی رہی ہے، مشکل وقت میں عوام کو غصہ نہیں دلانا چاہیے، یہ مشکل وقت ہے پاکستان کے پاس اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ حکومت لیوی ٹیکس وصول کر کے مزے کر رہی ہے، لیوی بجٹ کا حصہ ہے اس بجٹ سے ملکی قرضے اور دیگر معاملات دیکھے جاتے ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے