• ستمبر 11, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 11, 2026 3:19 شام
  • پاکستان

اسلام آباد میں محبت کی یادگار، صوبیہ محل کی دلچسپ داستان

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

کراچی (11 ستمبر 2026): پاکستان میں مرغیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی فارمنگ نے انسانی صحت کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

پاکستان میں پولٹری کی صنعت پا رہی ہے اور ملک بھر میں اس کی کھپت ہے۔ تاہم ملک میں مرغیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی فارمنگ نے انسانی صحت کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کے بعض بڑے مرغی فارموں میں مرغیوں کی بڑی تعداد اور اینٹی بایوٹکس کے زیادہ استعمال کے باعث ایسے جراثیم کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے جو عام دواؤں کے خلاف مزاحمت پیدا کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے 100 مرغی فارموں پر ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ تقریباً 66 فیصد اینٹی بایوٹکس بیماری کے علاج کے بجائے پہلے سے بچاؤ کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں، جبکہ بعض انتہائی اہم ادویات بھی استعمال ہو رہی تھیں۔

ماہرین کے مطابق اصل تشویش مرغی کھانے سے نہیں بلکہ غیرضروری اینٹی بایوٹکس، ناقص صفائی اور کمزور حفاظتی انتظامات سے ہے۔

اگر ایسے جراثیم چکن کے گوشت یا ماحول کے ذریعے انسانوں تک پہنچ گئے اور عام دوائیں ان پر اثر نہ کر سکیں تو معمولی انفیکشن کا علاج بھی مشکل ہوسکتا ہے۔

اس رپورٹ کے نتیجے سوال یہ اٹھتا ہے کہ سستی اور تیزی سے تیار ہونے والی مرغی کہیں انسانی صحت کی بھاری قیمت تو نہیں چکا رہی؟

گوشت اور پولٹری انڈسٹری کے فروغ میں رکاوٹیں دور کی جائیں گی

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے