• ستمبر 12, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 12, 2026 1:29 شام
  • پاکستان

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

روبوٹس کا انسانوں کے حق میں مظاہرہ!

دنیا کی سب سے ’’ دُبلی پتلی کار‘‘، ریکارڈ بُک میں نام درج

واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو پینٹاگون میں منعقدہ ایک تقریب میں 11 ستمبر کے حملوں کی 25 ویں برسی منائی۔ انھوں نے ان جانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جو اس وقت ضائع ہوئیں جب القاعدہ کے جنگجوؤں نے طیاروں کو اغوا کر کے 3 مقامات پر تقریباً 3,000 افراد کو ہلاک کر دیا تھا، اور امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کا رخ تبدیل کر دیا تھا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹرمپ اور خاتونِ اوّل میلانیا ٹرمپ کی موجودگی میں اُن 184 افراد کے نام پڑھے گئے جو سانحے کے روز پینٹاگون میں ہلاک ہوئے تھے۔ ہر نام کے درمیان گھنٹی بجائی جاتی رہی۔ اپنی تقریر میں ٹرمپ نے کئی متاثرین کی کہانیاں بیان کیں اور کہا ’’ہم کبھی، کبھی نہیں بھولیں گے۔ اسی لیے ہم آج لڑ رہے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی انتخاب نہیں۔‘‘

اس سے قبل، صبح کے وقت موسلا دھار بارش میں پینٹاگون کی عمارت پر امریکی پرچم لہرایا گیا، جب کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور اعلیٰ فوجی عہدیدار موجود رہے، اس عمارت کو 25 برس قبل ان طیاروں میں سے ایک نے نشانہ بنایا تھا۔ یہ مسلسل دوسرا سال تھا جب ٹرمپ نے یہ دن پینٹاگون میں منایا۔

اسکول کے 168 بچے شہید کرکے آپ ہمیں دہشت گرد کہتے ہیں؟ ایرانی صدر

ادھر نائب صدر جے ڈی وینس نے سابق صدور کے ہمراہ نیویارک کی تقریب میں شرکت کی، جہاں ایک بیوہ نے صدر ٹرمپ سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کر دیا۔ خاتون ٹیری اسٹرادا کے شوہر ٹام اسٹرادا 11 ستمبر کے حملوں میں ہلاک ہوئے تھے، ٹیری نے ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’سعودیوں سے کہیں کہ جھوٹ بولنا بند کریں‘‘ اور امریکی صدور پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے ’’9/11 کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی بہ جائے سعودیوں کے تحفظ کا انتخاب کیا۔‘‘

واضح رہے کہ ٹیری اسٹرادا ان 9/11 متاثرین کے خاندانوں کے ایک گروپ کا حصہ ہیں، جو سعودی حکومت کے خلاف ایک طویل عرصے سے مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ سعودی عرب میں انتہا پسند مذہبی رہنماؤں کے ایک گروہ نے سعودی حکومت میں اثر و رسوخ حاصل کیا اور طیارہ ہائی جیک کرنے والوں کی مدد کی۔ 19 میں سے 15 ہائی جیکر سعودی شہری تھے، تاہم سعودی حکومت طویل عرصے سے حملوں میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کرتی رہی ہے۔

9/11 اور ایران جنگ کے درمیان تعلق قائم کرنے کی زبردستی کی کوشش

دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیگستھ نے 9/11 اور ایران جنگ کے درمیان تعلق قائم کرنے کی زبردستی کی کوشش کی، ٹرمپ نے کہا ’’حملوں کے بعد ان خوف ناک دنوں میں ہم نے اپنی قوم کی حقیقی روح دیکھی، اس دن ہم سب نیویارکر تھے، ہم میں سے ہر ایک، ہم سب نیویارکر تھے۔ ہم سب ایک خاندان تھے۔‘‘

ایران کے ساتھ تال میل ملانے کے لیے ٹرمپ نے ان فوجی اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا جو ایران جنگ میں مصروف ہیں، انھوں نے کہا ’’یہ فوجی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ دنیا میں دہشت گردی کی سب سے بڑی سرپرست ریاست اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ ہو۔‘‘ ہیگستھ نے بھی کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے ذریعے امریکی فوج نے دنیا میں دہشت گردی کی سب سے زیادہ سرگرم سرپرست ریاست کو تباہ کر دیا ہے۔

کیا 9/11 کو روکا جا سکتا تھا؟

جمعے کی یادگاری تقریبات میں اس بات پر بھی کچھ غور کیا گیا کہ آیا امریکا پر ہونے والے سب سے ہلاکت خیز حملے، یعنی 9/11، کو روکا جا سکتا تھا۔

داخلی سلامتی کے وزیر مارک وین مولن نے نشان دہی کی کہ حملوں کے منصوبہ ساز اسامہ بن لادن نے 9/11 سے قبل کے برسوں میں امریکا پر ایک بڑے حملے کے اپنے ارادے کے حوالے سے ’’انتباہی گولیاں‘‘ چلائی تھیں۔ مولن نے کہا کہ امریکی قومی سلامتی کے نظام میں یقینی طور پر ’’راستے میں ناکامیاں‘‘ ہوئی تھیں۔

کونڈولیزا رائس، جو 9/11 کے روز وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کی مشیر تھیں، نے پینٹاگون میں جمعے کی یادگاری تقریب میں شرکت کی۔ اپنی تقریر میں انھوں نے تسلیم کیا کہ انھیں اب بھی اس بات کا گہرا دکھ ہے کہ ’’اس روز اختیار رکھنے والے ہم لوگ خطرے کی نوعیت کو اس وقت تک نہیں سمجھ سکے کہ نائن الیون کے حملے کو روکا جا سکتا۔‘‘

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے