ایران کے معاملے پر امریکی سیاست میں اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی گئی دھمکی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کانگریس سے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
برنی سینڈرز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹرمپ کی اقوام متحدہ کی تقریر کا ایک کلپ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے عوام کو ’’تباہ‘‘ کرنے کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے ٹرمپ کی جانب سے ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی کو ’’جنگی جرم‘‘ قرار دیا اور اسے ’’بربریت‘‘ سے تعبیر کیا۔
سینڈرز نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کو ایسی کارروائی یا بیان سے وابستہ نہیں ہونا چاہیے۔ ایران میں جاری امریکی جنگ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے اور کانگریس کو اسے فوری طور پر ختم کرنا چاہیے۔
ٹرمپ نے 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے بارے میں کہا تھا کہ امریکا کے سامنے ایک بڑا فیصلہ ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کیا جائے یا ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کو تباہ کرنے کے لیے کارروائی کی جائے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے خلاف مزید سخت اقدام کیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے اسی خطاب میں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی معاہدے کا امکان موجود ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایران کے ساتھ رابطوں اور مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
No, Mr. President. We should not “annihilate” the people of Iran. That is a war crime. That is barbarism. And it is something the United States must never be associated with. Let’s be clear: Trump’s war in Iran is illegal and unconstitutional. Congress must end it NOW. https://t.co/OiCtVlVeoX — Sen. Bernie Sanders (@SenSanders) September 22, 2026
No, Mr. President. We should not “annihilate” the people of Iran. That is a war crime. That is barbarism. And it is something the United States must never be associated with. Let’s be clear: Trump’s war in Iran is illegal and unconstitutional. Congress must end it NOW. https://t.co/OiCtVlVeoX
ایران کے معاملے پر امریکی سیاست میں اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ سینڈرز سمیت بعض ارکان کانگریس امریکی فوجی کارروائی اور صدر کے اختیارات پر سوال اٹھا رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف اپنی پالیسی اور فوجی کارروائیوں کا دفاع کرتی ہے۔
