• ستمبر 20, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 20, 2026 6:58 شام
  • پاکستان

شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ

24سال سے قید بچوں نے پہلی بار سورج کی روشنی دیکھی

آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے کا بیگ، حیرت انگیز ایجاد

لندن سے بنگلادیش جانے والی پرواز میں مسافر لڑ پڑے، ویڈیو وائرل

صدر ٹرمپ یمن کے حوثیوں کےخلاف حملوں کے لیے مختلف آپشن پر غور شروع کر دیا۔

امریکی صدر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کےسبب چھٹیاں ایک دن پہلےختم کر کے وائٹ ہاؤس واپس آگئے۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدرٹرمپ حوثیوں کےخلاف حملوں کی ہدایت کے لیے مختلف آپشن کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ اور خطے میں امریکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کےلیےسیکیورٹی الرٹ جاری کر دیے۔ امریکی شہریوں کومشرق وسطیٰ کےسفرپرمحتاط رہنےکا مشورہ دیا گیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ ’’چوکسی اختیار کریں اور ممکنہ پروازوں کی منسوخی اور سفری نظام میں دیگر رکاوٹوں کے لیے تیار رہیں۔‘‘ محکمے نے ایک بیان میں کہا ’’ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا سعودی عرب، بشمول شہری ایئر پورٹس، کے خلاف دشمنانہ کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔ اس فوجی تنازع میں تیزی سے شدت اختیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔‘‘

دوسری جانب خاقان فیدان نے ترک ٹیلی وژن چینل این ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ترکی اور دیگر ممالک تجاویز پیش کر رہے ہیں اور امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو کسی نتیجے تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا ’’دونوں فریق اس سے قبل پاکستان میں ایک معاہدے تک پہنچے تھے، لیکن بعد میں اس پر عمل درآمد میں مسائل پیدا ہو گئے۔ اب دونوں فریق واضح طور پر اس عمل کو اس انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے ان کے اپنے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔‘‘

فیدان نے کہا ’’گزشتہ چند ماہ سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل ہے۔ اس تعطل کے مظہر کے طور پر ہم نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف حملے دیکھ رہے ہیں بلکہ یمن کی جانب سے باب المندب کے محاذ کے کھلنے کی صورت حال بھی دیکھ رہے ہیں۔‘‘

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے