• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 7:32 شام
  • پاکستان

خیبرپختونخوا حکومت کی توجہ احتجاج پر ہے جبکہ وہاں دہشت گردی بڑھ رہی ہے، صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ دہشت گری کے خاتمے کیلیے معاہدہ کرے، خطاب

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پاکستان تحریک انصاف کو لانگ مارچ ملتوی کر کے وفاق کے ساتھ دہشت گردی کے معاملے پر بیٹھنے کا مشورہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ حکومت نے کے پی میں گورنر راج کا ذہن بنالیا تھا مگر پیپلزپارٹی نے معاملے کا سیاسی حل نکالنے پر زور دیا۔

کراچی میں گریٹر کراچی سیوریج پلان کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسلام آباد میں آج کل بہت کچھ ہورہا ہے اور گزشتہ دس روز سے دارالحکومت بند پڑا ہے۔

انہوں نے کہا ہک خیبر پختونخواہ میں بیماری ہوتی ہے تو کراچی کو کھانسی ہوجاتی ہے، اگر وہاں دہشت گردی ہوگی تو اس سے سندھ بھی متاثر ہوگا، دہشت گردی پیپلزپارٹی کی ریڈ لائن ہے اور ہمیں متحد ہوکر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا اس معاملے کو سیاسی نظر سے نہ دیکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں وفاقی حکومت نے اپنا ذہن بنا لیا تھا کہ فوری گورنر راج یا ایجنسی نافذ کی جائے مگر پیپلز پارٹی کا خیال تھا کہ اس معاملے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے پھر ہم نے حکومت سے پی ٹی کے ساتھ مذاکرات کی اجازت مانگی۔

لانگ مارچ کی صورت میں ایمرجنسی نافذ ہوسکتی ہے، محسن نقوی نے پی ٹی آئی کو واضح کردیا

تحریکِ تحفظِ آئین کی اے پی سی کی دعوت قبول؛ گورنر راج یا ایمرجنسی کی مخالفت کریں گے، حافظ نعیم

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی ورکنگ مکمل، حتمی فیصلہ مشاورت سے ہوگا، طارق فضل

بلاول بھٹو نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا دھیان احتجاج پر ہے جبکہ اُن کے صوبے میں دہشت گردی بڑھ چکی ہے، اگر حالات کنٹرول میں نہ ہوئے تو پھر مجبوری میں گورنر راج لگا دیا جائے گا۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ کہ ہم کو پی ٹی آئی سے بات کرکہ وفاقی حکومت سے معاہدہ کروانا ہوگا، دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کو وفاق کے ساتھ بیٹھ کر معاہدہ کرنا چاہیے۔ امید کرتا ہوں اسلام آباد میں بیٹھی تمام سیاسی جماعتیں سیاسی حل نکالیں گی تاکہ ہمیں دہشتگردی کا مقابلہ امرجنسی کی صورت میں نہ کرنا پڑا۔

بلاول بھٹو نے کہا ہک دہشتگرد پیپلز پارٹی کی ریڈ لائن ہیں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات سب کے سامنے ہیں اور مزید سورش بڑھی تو پھر اس کے اثرات تمام صوبوں پر پڑیں گے لہذا تمام جماعتیں بیٹھ کر دہشت گردی سے نمٹنے کیلیے پلان بنائیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے