• ستمبر 27, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 27, 2026 1:58 صبح
  • پاکستان

میرے ضلع کے 27سندھ دھرتی کے افراد نے جمہوریت کی بقا کے خاطر جان کا نذرانہ دیا

میری سندھ دھرتی آج دکھوں سے سسک رہی ہے،میراسندھ، دشمن ویریوں کے نرغے میں ہے، سندھ کی بقا اور تحفظ کے سیاسی منظر نامے میں مجھے اور میرے سندھ کو دوبارہ سے شاید کمیونسٹ نظریے اور’’عبداش‘‘ایسے کمیونسٹ سرفروشوں کی ضرورت ہے کہ جس نے ضیا آمریت کو وطن کے عوام کی جمہوری آزادی چھیننے نہیں دی.

اور ایم آر ڈی کی تحریک میں ’’عبداش‘‘ایسے خستہ حال مگر کمیونسٹ سرفروشی سے مالا مال، پاؤں کی جوتی سے بے پرواہ اور خوف سے بے نیازجنونی مانند کمیونسٹ پیغام لیے گھومتا رہا،وہ اپنے کمیونسٹ نظریے کی سچائی اور محروم طبقات کی معاشی اور سیاسی آزادی کی جدوجہد میں دل وجان سے مصروف رہتا تھا۔

کمیونسٹ نظریے کی اسی لگن اور اعتبار کو کارکن کے طور پر فرائض ادا کرنے میں جو کردار ’’عبداش‘‘ نے کامریڈ جام ساقی کے کموں شہید سے کراچی تک کے پیدل لانگ مارچ میں ادا کیا، وہ آج کی طلبہ یونین سے محروم نسل کے لیے سندھ دھرتی کی پر امن سیاسی و سماجی جدوجہد سمجھنے کے لیے ایک اہم نظریاتی قربانی کا واقعہ ہے۔

کموں شہید سے لے کر کراچی تک پیدل لانگ مارچ میں کمیونسٹ جذبے سے سرشار ’’عبداش‘‘ نے ایک ریڑھی کے ساتھ کیا۔ کموں شہید سے لے کر کراچی تک اس ریڑھی کو آبلہ پائی کے باوجود خود کراچی تک ہانکا اور نعرے لگاتا رہا کہ میرا سندھ امن ہے، محبت ہے،تمام مذاہب کااحترام ہے اور انسان کی سیاسی و معاشی بقا کا ضامن ہے،ہم سب کمیونسٹوں کا عبداش یہ کیوں کر رہا تھا،اس لیے کہ…

وہ نظریہ تھا،سوچ تھا،بہادر اورنہ تھکنے والا تھا،مایوسیاں اس سے خوفزدہ رہتی تھیں،وہ نظریے کا تنکا تنکا جوڑنے میں جتا رہتا تھا،وہ پسے ہوئے طبقات کی امید تھا،وہ تخلیق تھا،قلم اور صحافتی ذہن اس کا ہتھیار تھے،وہ تخلیقی سطح پر پسے ہوئے طبقات کی امیدوں کے نعرے لگا کر فلک میں شگاف ڈال دیا کرتا تھا،وہ زمان و مکاں سے بے پرواہ با پیادہ میلوں سفر کرنے پر قدرت رکھتا تھا۔

کمیونسٹ نظریے نے اس کے استقامت کو توانا کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا،وہ نوابشاہ کے نواح ’’دوڑ‘‘ کا عبدالرحمن تھا مگر کمیونسٹ نظریے کی بقا کی خاطرانقلابی عبداش بن چکاتھا۔

دھان پان سا عبدالرحمن جب کمیونسٹ فکر کی بالک تنظیم’’سندھی بارڑا سنگت‘‘ سے جڑا تو اس کا ہاتھ تھامنے والوں میں سب سے پہلے کمیونسٹ فکر کامریڈ علی حسن چانڈیو آگے بڑھا اور اپنے ہی گاؤں کے عبدالرحمن کی صلاحیتوں کو نظریاتی طور سے کمیونسٹ فکر سے جوڑااور ’’ساتھی بارڑا سنگت‘‘میں عبداش کی تنظیمی تربیت کے لیے اسے ’’ساتھی بارڑا سنگت‘‘ کے باپ سمان کامریڈ غلام رسول سہتو اور کامریڈ صالح بلو کے حوالے کیا۔

یہ وہ دور تھا جس میں کمیونسٹ پارٹی نے سیاسی اور سماجی شعور کے لیے نونہالوں کی تربیت کے لیے کامریڈ غلام رسول سہتو کو یہ اہم کام سونپاتھا،ان دونوں کامریڈزنے بچپن سے عبداش کی تربیت نظریے،منطق اور دلیل پر کی تھی،یہی وجہ تھی کہ عبداش سیاسی و نظریاتی بحث میں دلیل کو اہم سمجھتا تھا،نظریاتی طور سے عبداش میں کمیونسٹ نظریہ واضح اور صاف تھا،انھی صلاحیتوں کے پیش نظر عبداش کو کمیونسٹ پارٹی کے طلبہ ونگ ڈیمو کریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں لایا گیا،جہاں پر عبداش نے نظریے کی پختگی سے بہت جلد ڈی ایس ایف میں اپنا ایک الگ مقام بنایا۔

یہ 80کی دہائی کا وہ زمانہ تھا جب ضیاالحق کے مارشل لاء نے پاکستان کی منتخب حکومت کو طاقت کے ذریعے غیر آئینی طور پر اقتدار سے محروم کیا تھا،ملک میں عوام کے جمہوری حقوق غصب کرنے میں مارشل لا ء اپنے جبر و ستم کے عروج پر تھا،جس میں جنرل ضیا کا ساتھ بعض مذہبی و سیاسی جماعتوں نے دیا ، اور عوام کے جمہوری احتجاج کے تمام راستوں پر مارشل لاء آرڈیننس کے ذریعے پابندیاں لگائیں تو اس وقت تک عبداش کمیونسٹ پارٹی کا اہم کردار بن چکا تھا۔

مارشل لاء کے خلاف کمیونسٹ پارٹی سمیت تمام جمہوری قوتوں نے جب ایم آر ڈی کے نام سے بحالی جمہوریت کے لیے ملک بھر میں احتجاج اور ریلیاں نکالنے کا فیصلہ کیا تواس دم عبداش نے اپنے کمیونسٹ نظریے کے تحت ایم آرڈی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،ایم آر ڈی کی تحریک میں سندھ کے عوام میں غصہ اور شدت اس وقت آئی جب حکومت نے خیر پور ناتھن شاہ اور سکرنڈ میں اپنا قہر نازل کیا۔

اس وقت ضیائی مارشل لاء کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے میں میرے گاؤں ’’دادو‘‘ کے تعلقوں کے عوام نے اپنی جمہوری آزادی کی بقا کے لیے مزاحمت کی اور میرے ضلع کے 27سندھ دھرتی کے افراد نے جمہوریت کی بقا کے خاطر جان کا نذرانہ دیا۔

یاد رہے،یہ وہ دور تھا جب کمیونسٹ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے ممبر کامریڈ نذیر عباسی کو جمہوریت کی بالادستی قائم کرنے کی سزا کے طور پر تشدد کرکے شہید کیا گیا تھا،جس بنا سندھ میں جگہ جگہ کمیونسٹ تنظیمیں اور پارٹی کے کارکن سر گرم تھے،جب دادو ضلع کے ان دو گاؤں میں انتظامیہ کے ہاتھوں عوام کی موت کی خبر نشر ہوئی تو پورا سندھ ایک ایسا لاوا بن گیا کہ جس سے سرکاری اہلکار چھپتے پھرتے تھے۔

ایم آرڈی کی تحریک کے دوران جب سندھ کے 200 افراد کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا گیا تو بھلا کمیونسٹ فکر کا عبداش اپنی سیاسی اور نظریاتی جدوجہد سے کیسے پیچھے ہٹتا،اسی لمحے جمہوریت کی بقا اور انسانی حقوق کی سر بلندی کے لیے عبداش نے گاؤں کے لوگوں کو منظم کیا اور ظلم کے خلاف سول نافرمانی کرنے سے بھی گریز نہ کیا اور دوڑ ریلوے اسٹیشن کو گاؤں والوں نے گھیر کر اسے آگ لگا دی،جس کے بعد انتظامی ذمے داران پیچھے ہٹے۔

جس کے بعد جنرل ضیا نے عوام کی مزاحمت دیکھتے ہوئے غیر جماعتی انتخابات کا ڈرامہ کیا،جس کے نتیجے میں ملک فرقے،نسل اور لسان پر مزید تقسیم سے تقسیم تر ہوتا گیا۔ ذرا سوچیے کہ آج کمیونسٹ تحریک مضبوط ہوتی تو ہزاروں عبداش اپنی ہزار سال کی تہذیب کو تقسیم کے خلاف بات کرنے والوں کو روک لیتے۔

مگر افسوس کہ سندھ سے نظریاتی سیاست کو ختم کرنے میں سندھ کا وڈیرا،نام نہاد قوم پرست اور اقتدار میں بیٹھی جماعتیں ہائیبرڈ نظام کے سائے تلے اپنے مفادات اور اقتدار کو بچانے میں لگی ہوئی ہیں جب کہ کمیونسٹ نظریے کے تربیت یافتہ اور سندھ کے غیور عوام ایک آواز اور سندھ کو ایک وحدت کے نکتے پر قائم رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں جو عبداش ایسے کی جدوجہد کا وہ ثمرہے جس پر کمیونسٹ نظریہ ہمیشہ فخر کرتا رہے گا۔سندھ کے معروف شاعر عبدالکریم گدائی نے شاید یہ عبداش ہی کے لیے کہا تھا کہ!

سفر زندگی کا کٹھن تھا گدائی،بہر طور گذرا گذار دیا بجھ گئی گر شمع دل کی،ہزاروں چراغ تو روشن کر دیے

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے