• ستمبر 27, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 27, 2026 2:18 صبح
  • پاکستان

دو شوہروں اور بیٹے کا پراسرار قتل : پھانسی پانے والی عورت کی لرزہ خیز کہانی

شہزادہ ہیری نے وعدہ پورا کرنے کے لیے کینیڈا میں طیارے سے چھلانگ لگادی

شوہر کے دوسری لڑکی کیساتھ ڈانس کرنے پر ناراض بیوی نے انتہائی قدم اٹھا لیا

آنکھوں کی بیماری کا علاج، نئی دوا امید کی کرن

لندن : برطانیہ کی کاؤنٹی سفوک میں 3 سالہ بچے نوح ووڈز کی المناک موت سے متعلق اہم حقائق سامنے آئے ہیں بچہ کھیل کے میدان سے لاپتہ ہوا اور اس کی لاش تالاب کے پاس درختوں کی جڑوں میں ملی۔

برطانیہ کے علاقے سفوک میں لاپتا ہونے والے 3 سالہ آٹزم کا شکار بچے نوح ووڈز کی موت کے حوالے سے ہونے والی عدالتی سماعت میں انکشاف ہوا ہے کہ بچہ کھیل کے میدان کی باڑ سے نکل کر قریب گارڈن میں داخل ہوا اور وہاں سے باہر نکل کر قریبی تالاب تک پہنچ گیا۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق نوح 15 ستمبر کو سفوک کے گاؤں برانٹم میں کھیل کے ایک علاقے سے لاپتا ہوا تھا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔

بچے کی تلاش کے لیے بہت بڑی مہم چلائی گئی جس میں ہیلی کاپٹرز، سنِفی (کے نائن) یونٹس اور 1300 سے زائد رضاکاروں نے حصہ لیا۔

بدقسمتی سے 16 ستمبر کو میٹرو پولیٹن پولیس کے غوطہ خوروں نے نوح کی لاش تالاب میں 1.8 میٹر کی گہرائی میں درختوں کی جڑوں کے درمیان پھنسی ہوئی حالت میں ملی۔

انکوائری کی ابتدائی سماعت کے دوران اسسٹنٹ کورونر جیوتی گل نے نوح کی موت کوانتہائی افسوسناک اور المناک سانحہ قرار دیتے ہوئے کارروائی شروع کی اور بعد ازاں ملتوی کردی۔

سفوک پولیس کے ڈیٹیکٹو چیف انسپکٹر میٹ کونک نے عدالت کو بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نوح کو کھیل کے میدان میں ایک قریبی رشتہ دار کی نگرانی میں دیکھا گیا، بچے کا یہ معمول تھا کہ وہ ہر منگل کو اسی رشتہ دار کے ساتھ پارک جایا کرتا تھا۔

پولیس افسر کے مطابق نوح کھیل کے میدان سے باہر نکلا اور قریبی گارڈن میں پہنچ گیا وہاں کے مرکزی دروازے سے نکلنے کے بعد وہ ایک نئے رہائشی منصوبے کی جانب جانے والے راستے پر دوڑتا ہوا ڈیکوئے پونڈ کی سمت چلا گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ بچے کے باہر نکلنے کے فوراً بعد اس کے ساتھ موجود رشتہ دار نے اسے پکڑنے کی بارہا کوشش کی اور مسلسل اس کے پیچھے بھی گیا، اس شخص نے نوح کو آوازیں بھی دیں، تاہم کچھ دیر بعد بچہ نظروں سے اوجھل ہوگیا، بعد ازاں تلاش میں ناکامی پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔

نوح کے لاپتا ہونے کے بعد تلاش میں شامل رضاکاروں کو بتایا گیا تھا کہ بچہ قوت گویائی اور سماعت سے محروم تھا، جس کی وجہ سے اس کی تلاش مزید اہم ہوگئی تھی۔

پولیس کے غوطہ خوروں نے 16 ستمبر کو اس علاقے میں تلاش شروع کی جہاں نوح کو آخری مرتبہ دیکھا گیا تھا تاہم کچھ دیر بعد بچے کی لاش پانی کے کنارے سے تقریباً پانچ میٹر دور پانی میں ڈوبی درختوں کی جڑوں کے درمیان ملی۔ لاش تقریباً 1.8 میٹر گہرے پانی میں موجود تھی۔

پولیس کے مطابق نوح کی موت کی تصدیق مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 31 منٹ پر طبی عملے نے کی، جبکہ اسی شام مقامی اسپتال میں بچے کی والدہ نے اس کی شناخت کی۔

نوح کی موت کے حوالے سے پوسٹ مارٹم ایڈن بروکس اسپتال، کیمبرج میں کیا گیا، تاہم عدالت کو بتایا گیا کہ موت کی حتمی وجہ کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیقات درکار ہیں، پولیس فی الحال اس موت کو مشتبہ قرار نہیں دے رہی۔

خاندان کے مطابق نوح اپنی والدہ، والد اور چھوٹے بھائی کے ساتھ رہتا تھا اور ہر منگل کو ایک قریبی رشتہ دار کے ساتھ پارک جاتا تھا۔ دونوں کے درمیان انتہائی محبت بھرا تعلق تھا اور وہ پارک میں دوڑنے، ایک دوسرے کے پیچھے بھاگنے اور کھیلنے میں وقت گزارتے تھے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے