• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 1:45 شام
  • پاکستان

کرسٹا پائیک کے خوفناک جرم کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی؟

بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی

ایک ماہ کے شیر خوار کو کئی بار بیچ دیا گیا، والدین سمیت 7 افراد گرفتار

باپ کی لاش چار سال تک فریج میں کیوں رکھی؟ خاندان نے حیران کن وجہ بتادی

کراچی: نرسنگ طلبہ نے انگلش لٹریچر کا پرچہ ری شیڈول کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اور اس کے لیے ڈاؤ یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ پر دھرنا دے کر احتجاج شروع کر دیا ہے۔

متاثرہ طلبہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر پرچہ ری ٹیک کرنے کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا تو ایم اے جناح روڈ بھی بند کر دیں گے، طلبہ نے ڈاؤ یونیورسٹی کے سامنے مرکزی سڑک ٹریفک کے لیے بند کر دی ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ یہ انتظامیہ کے خلاف ان کا تیسرا احتجاج ہے، احتجاج کے دوران وہ مذاکرات میں مطالبہ مان لیتے ہیں لیکن پھر مکر جاتے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ 1900 میں سے 1400 طلبہ کو فیل کیا گیا ہے، یونیورسٹی انتظامیہ نے مذاکرات میں کیے گئے وعدوں پر عمل نہیں کیا، انگلش لٹریچر کا پرچہ ری شیڈول کیا جانا ہے لیکن 5 اکتوبر کی تاریخ عجلت میں دے دی گئی، طلبہ کو تیاری کا وقت بھی نہیں دیا گیا، جب کہ ضمنی امتحان کی فیس بھی ساڑھے 7 سے بڑھا کر 9000 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ پرچے کے ری ٹیک کی نئی تاریخ کا اعلان کریں ہم ابھی احتجاج ختم کر دیں گے، مذاکرات میں ہم نے فیس جمع کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے، انتظامیہ پرچوں کی اسکروٹنی کے عمل کو مکمل کرے۔

فرانس میں ہائی اسکول کے 1700 طلبہ گرفتار

نرسنگ طلبہ کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹی کے رجسٹرار نے امتحان ری شیڈول نہیں کیا، جب کہ 1400 طلبہ سے فی طالب ساڑھے 9 ہزار روپے پرچے کی فیس مانگی گئی ہے، پرچے کی ضمنی فیس میں فوری کمی جائے، اور شفاف اسکروٹنی کا عمل مکمل کیا جائے۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر نتیجے کا اعلان کیا گیا، اسی ہفتے کے اندر واؤچر اور امتحان کی تاریخ بھی آ گئی، وہ پروسیس کو بھگا رہے ہیں تاکہ معاملے پر پردہ ڈالا جا سکے، مظاہرین نے کہا کہ ری چیکنگ کی جائے اگر کوئی فیل ہے تو ٹھیک ہے اگر پاس ہے تو درست نتیجے کا اعلان کیا جائے۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا، دوسری طرف ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے باہر طلبہ کے احتجاج پر انتظامیہ نے پولیس طلب کر لی ہے اور طلبہ کو احتجاج سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، انتظامیہ نے مظاہرین پر الزام بھی لگایا ہے کہ وہ انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ادھر طلبہ نے مطالبات کے حق میں پُرامن احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، اور کہا ہے کہ انتظامیہ طلبہ کے جائز مطالبات سنے اور فوری مذاکرات کرے۔ احتجاجی طلبہ نے انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ طلبہ کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی سے گریز کیا جائے، اور مطالبات کی منظوری اور مسائل کے حل تک بامعنی مذاکرات کیے جائیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے