• ستمبر 18, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 18, 2026 7:18 شام
  • پاکستان

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہری کا نام سفری پابندی کی فہرست میں شامل کرنے اور ائیرپورٹ پر آف لوڈ کئے جانے والے درخواست گزار شہری رب نواز کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی۔

جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ آپ بیرون ملک جائیں کسی نے روکا تو دیکھ لیں گے، آپکا کیس زیرالتواء رہے گا، عدالت نے ایف آئی اے حکام پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر کو جواب جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ کس قانون کے تحت آپ لوگوں کو آف لوڈ کرتے ہیں اور نام سفری پابندی کی فہرستوں میں ڈالتے ہیں؟

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین نے شہری کی درخواست پر سماعت کی۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے کے اپنے ایس او پیز ہیں جن کے تحت ایسا کیا جاتا ہے، جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ کون سے ایس او پیز ہیں قانون تو اجازت نہیں دیتا، یہ بڑا حساس مسئلہ ہے۔

سپریم کورٹ اس پر آرڈر دے چکی ہے، جو لوگوں کو ایسے غیرقانونی آف لوڈ کرتا ہے اس کے خلاف سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو لکھوں گا، سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن کو لکھوں گا کہ ملوث افسر کی ترقی روک لی جائے، جس کے پاس پاسپورٹ، ویزہ، ریٹرن ٹکٹ ہو اس کو کیسے آپ آف لوڈ کرتے ہیں؟

جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ میں ڈی جی کو بلا کر پوچھوں گا کہ کون سے ایس او پیز ہیں جو قانون سے بالاتر ہیں؟ ایف آئی اے وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے کے انٹرنل ریگولیشنز ہیں اس کے تحت ایسا ہوتا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس قانون بنانے کے اختیارات ہیں؟ آپ ہائیکورٹ میں کھڑے ہیں آپ کو کیوں سمجھ نہیں آ رہی؟ کیا آپ کا ایس او پی قانون سے بالاتر ہے؟ کل ہر کوئی اپنے ایس او پیز بنالے گا، ہر بیوروکریٹ اپنے ایس او پیز بنائے گا تو آپ کو معلوم ہے اس کے کیا نتائج ہوں گے؟

جسٹس انعام امین منہاس نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر تیاری کر کے آئیں اور عدالت کی معاونت کریں، عدالت نے کیس کی سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے