غریب اور متوسط طبقے کیلیے موٹر سائیکل چلانا بھی اب پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے
پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بائیکیا سروس، فوڈ ڈیلیوری اور پوسٹل سروسز سے وابستہ افراد کی زندگی اجیرن کر دی ہے.
مہنگائی کے موجودہ دور میں سفید پوش طبقے کیلیے گزارا کرنا مشکل ترین ہو گیا، شہری موجودہ حکمرانوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے وعدوں سے شدید مایوس دکھائی دیتے ہیں.
پٹرول مہنگے ہونے سے غریب اور متوسط طبقے کیلیے موٹر سائیکل چلانا بھی اب پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے.
ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے55 سالہ بائیک رائڈر اسماعیل کا کہنا تھاکہ وہ سرکاری سکول میں نائب قاصد ہیں مگر چار بچوں کا پیٹ پالنے کیلیے بائیک چلاتے ہیں، پٹرول کی قیمتوں نے ان کی مشکلات میں حد درجہ اضافہ کر دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات نایاب ہیں اور پرائز کنٹرول لسٹ پر عملدرآمد نہ ہونے سے اشیائے خورونوش قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔
شہریوں نے حکمرانوں سے مطالبہ کیاکہ پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کیلیے عملی حکمتِ عملی وضع کی جائے ورنہ عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا۔
