• ستمبر 19, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 19, 2026 2:38 صبح
  • پاکستان

پاکستان کا اس موقع پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک ایسے عہد کی تجدید ہے جس کی بنیاد مکہ معاہدے میں رکھی گئی ہے

مشرقِ وسطیٰ کا بحران اب محض نقشے پر چند متحارب قوتوں کے درمیان کھینچی ہوئی ایک لکیر نہیں رہا، بلکہ اس کے شعلے مقدس مقامات، توانائی کے راستوں، سمندری گزرگاہوں اور عالمی سفارت کاری کے ایوانوں تک پہنچ چکے ہیں۔

ایک ایسا خطہ جہاں مذہبی تقدس، قومی سلامتی، تیل کی معیشت اور بڑی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہوں، وہاں ایک ڈرون کی پرواز بھی محض ایک فوجی واقعہ نہیں رہتی، وہ پورے خطے کے سیاسی اعصاب کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ مکہ مکرمہ کے قریب حوثی حملے کی کوشش اور اس کے بعد سعودی عرب اور یمن کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اسی خطرناک صورت حال کی علامت ہے۔ پاکستان کا اس موقع پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک ایسے عہد کی تجدید ہے جس کی بنیاد مکہ معاہدے میں رکھی گئی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان مکہ معاہدے کا پابند ہے اور سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان نے سعودی مسلح افواج کی بروقت کارروائی کو سراہا ہے۔ یہ ردعمل اس لیے بھی اہم ہے کہ مکہ مکرمہ پوری امت مسلمہ کے لیے محض ایک شہر نہیں بلکہ روحانی مرکز اور عقیدت کا محور ہے۔ اس کی حرمت کسی ایک ملک کی سرحدی حدود تک محدود نہیں۔ اسی لیے اس کے امن کو درپیش خطرہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات پر اثرانداز ہوتا ہے۔ پاکستانی موقف کی معنویت اسی وسیع تر احساس میں پوشیدہ ہے۔

تاہم موجودہ صورتِ حال کو صرف مذہبی جذبات کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ یمن میں جاری لڑائی ایک پیچیدہ علاقائی تنازع بن چکی ہے جس میں مقامی اقتدار کی کشمکش، بیرونی حمایت، سعودی سلامتی، ایرانی اثر و رسوخ، بحیرہ احمر کی گزرگاہ اور وسیع تر امریکا ایران محاذ آرائی ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔ تازہ جھڑپوں میں یمنی سرکاری فورسز کے 23 اہلکار اور حوثی جنگجوؤں کی جانب سے 40 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جب کہ سعودی حملوں اور حوثی ڈرون کارروائیوں نے تنازع کو مزید پھیلا دیا ہے۔

سعودی شہر طائف میں ڈرون کا ملبہ گرنے سے ایک یمنی شہری کی ہلاکت اور دو افراد کے زخمی ہونے کا واقعہ اس امر کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ کی لکیر اب صرف یمن کے اندر نہیں رہی۔ سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے ریاض کے لیے سلامتی کا مسئلہ مزید حساس بنا دیا ہے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے مطابق یمن کے حالات بھی دگرگوں ہیں اور حالیہ دو ہفتوں میں ایک لاکھ بارہ ہزار سے زیادہ افراد اندرونِ یمن بے گھر ہوئے جب کہ تقریباً تین ہزار افراد سمندر کے راستے جبوتی کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔

یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کسی بھی عسکری حکمت عملی کا اصل بوجھ بالآخر عام انسان اٹھاتا ہے۔ میزائل اور ڈرون اپنے مطلوبہ اہداف سے پہلے انسانی زندگیوں کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں۔ عمارتیں دوبارہ تعمیر ہوسکتی ہیں، توانائی کی تنصیبات بحال ہوسکتی ہیں، بندرگاہیں دوبارہ آباد ہوسکتی ہیں، لیکن بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کی جانیں واپس نہیں آتیں۔ اس لیے خطے کے تمام فریقوں کو یہ حقیقت پیش نظر رکھنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے وقتی برتری حاصل کی جاسکتی ہے، پائیدار امن نہیں۔

اس بحران کا ایک نہایت اہم پہلو چین کی سفارتی سرگرمی ہے۔ سعودی عرب کی درخواست پر چین نے ایران سے حوثیوں کے حملے روکنے میں مدد دینے پر زور دیا ہے۔ بیجنگ کی یہ کوشش اس اعتبار سے اہم ہے کہ چین کے ایران کے ساتھ گہرے اقتصادی روابط ہیں اور وہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں بھی کردار ادا کرچکا ہے۔ تاہم تہران کی طرف سے خطے کے عدم استحکام کو امریکا اور اسرائیل کی جنگ سے جوڑنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلے کی جڑیں حوثی کارروائیوں سے کہیں زیادہ گہری ہیں۔

یہاں پاکستان کے لیے سفارتی کردار کی گنجائش بھی پیدا ہوتی ہے۔ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی اور برادرانہ تعلقات کا پابند ہے، دوسری طرف ایران پاکستان کا اہم ہمسایہ ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے متوازن سفارت کاری محض ایک ترجیح نہیں بلکہ قومی مفاد کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور مقدس مقامات کے تحفظ کی حمایت اپنی جگہ، مگر اسی کے ساتھ خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے راستے کھولنے اور جنگ کے دائرے کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش بھی ضروری ہے۔مکہ معاہدے کی اہمیت بھی اسی تناظر میں سمجھنی ہوگی۔

کسی دفاعی معاہدے کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب اس کے کسی فریق کو عملی خطرہ درپیش ہو۔ پاکستان کی جانب سے معاہدے کی پابندی کا اعلان سعودی عرب کو سیاسی اور سفارتی اطمینان فراہم کرتا ہے، مگر اس عہد کی تعبیر دانش مندانہ، ذمے دارانہ اور حالات کے مطابق ہونی چاہیے۔ دفاعی تعاون کا مقصد جنگ کو وسیع کرنا نہیں بلکہ جارحیت کو روکنے، سلامتی کو مضبوط بنانے اور امن کے لیے قابلِ اعتماد ماحول پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔

دوسری طرف خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے معاملے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرف ایران جنگ کے خاتمے کی امید ظاہر کی ہے، مگر دوسری جانب بڑے پیمانے پر حملوں کے دوبارہ آغاز سمیت تمام آپشنز کھلے رکھنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ یہ متضاد اشارے اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کی خواہش اور جنگی دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی ایک ساتھ چل رہی ہے۔ جب تک فریقین کے درمیان قابلِ قبول سیاسی سمجھوتا نہیں ہوتا، کسی بھی مرحلے پر ایک نیا عسکری دھماکا پورے خطے کو دوبارہ بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

اس کشیدگی کا سب سے حساس پہلو توانائی اور سمندری تجارت ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی سرگرمی معمول کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوئی ہے، جب کہ باب المندب بھی علاقائی کشیدگی سے متاثر ہے۔ سعودی عرب کی مشرق مغرب پائپ لائن پر حملے نے بھی یہ خطرہ نمایاں کردیا ہے کہ عسکری تنازع اگر توانائی کے بنیادی ڈھانچے تک پہنچتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔ عالمی منڈی، تیل کی قیمتیں، بحری انشورنس، خوراک اور صنعتی پیداوار سب اس کی زد میں آسکتے ہیں، اگرچہ حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے، مگر یہ کمی بنیادی جغرافیائی خطرات کے خاتمے کی علامت نہیں۔

پاکستان کے لیے اس صورتحال کا ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔ ہماری معیشت توانائی، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلات، درآمدی ضروریات اور خلیجی ممالک کے ساتھ تجارتی روابط سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد اور دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اسلام آباد خطے کی سلامتی کو محض خارجی مسئلہ نہ سمجھے۔ سعودی عرب میں عدم استحکام کا براہِ راست اثر پاکستان کے اقتصادی اور سماجی مفادات پر بھی پڑسکتا ہے۔

پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا اس کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا فطری اظہار ہے، لیکن اس تعلق کی سب سے مضبوط صورت یہی ہوگی کہ پاکستان امن، استحکام اور ذمے دارانہ سفارت کاری کے لیے بھی اپنی آواز بلند کرے۔ مکہ مکرمہ کی حرمت کا تقاضا صرف حملے کی مذمت نہیں، بلکہ ایسے ماحول کے قیام کی کوشش بھی ہے جس میں کسی مقدس مقام، شہری آبادی یا ریاستی سرحد کو جنگی حساب کتاب کا ہدف نہ بنایا جاسکے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ طاقت کے بڑھتے ہوئے شور میں مذاکرات کی آواز دبنے نہ دی جائے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک اور جنگ نہیں، ایک قابلِ عمل امن درکار ہے۔

اس نازک مرحلے پر پاکستان کے لیے سب سے اہم امتحان یہی ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو محض عسکری یا سفارتی ضرورت کے دائرے تک محدود نہ رکھے بلکہ انھیں وسیع تر علاقائی امن کے لیے بروئے کار لائے۔ سعودی عرب کے ساتھ اعتماد، ایران کے ساتھ ہمسائیگی اور چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط پاکستان کو ایک ایسا سفارتی پل بننے کا موقع دیتے ہیں جو باہمی بداعتمادی کے ماحول میں رابطے کا راستہ کھول سکے۔ جنگ کے ہر نئے مرحلے کے ساتھ مسائل کی نوعیت پیچیدہ ہوتی جاتی ہے۔

اس لیے پائیدار حل بھی کثیرالجہتی کوشش ہی سے نکل سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور علاقائی قوتوں کو بھی اپنی ذمے داری ادا کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ، مقدس مقامات کی حرمت اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی، اگر موجودہ بحران کو مذاکرات کی طرف موڑنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تو آج کی تباہ کن کشیدگی کل کے سیاسی تصفیے کی بنیاد بن سکتی ہے، یہی وہ راستہ ہے جس سے خطہ مزید خونریزی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے