• ستمبر 19, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 19, 2026 2:38 صبح
  • پاکستان

پیٹرولیم کی مصنوعات میں ہوش ربا اضافے نے تمام اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے۔

پیٹرولیم کی مصنوعات میں ہوش ربا اضافے نے تمام اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں بھی مسلسل اضافہ اور دونوںکی لوڈ شیڈنگ نے ہر شخص کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ اور ان کے نرخوں میں مسلسل اضافے سے پرائیوٹ سیکٹر پہلے ہی متاثر تھا اور پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے نچلے طبقہ کا تو ذکر ہی کیا متوسط طبقے کی بھی کمر توڑ دی ہے۔

ایک طرف تو ملک کی آبادی کی اکثریت مہنگائی کے عذاب میں مبتلا ہے تو دوسری طرف ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ طلاق کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ،خودکشی کی وارداتوں میں اضافہ اور نوجوانوں کے جرائم کرنے کی شرح میں اضافے کی بنیادی وجہ بھی مہنگائی ہے۔ پرائیوٹ سیکٹر نے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے چھانٹیوں کی وارداتیں شروع کردی ہیں۔

مزدوروں کے تحفظ کے لیے رائج قوانین بھی نجی شعبے کو مزدوروں کی چھانٹی سے نہیں روک سکتے۔ ایک سروے کے مطابق نچلے طبقے کے بیشتر خاندان تین وقت کے کھانے سے محروم رہتے ہیں، دوسری طرف اشرافیہ کے لائف اسٹائل میں کوئی فرق نہیں آیا۔ حکمران خاندانوں میں شادیوں کے دوران قیمتی زیورات اور قیمتی ساڑھیوں کی نمائش، شدید گرمی میں ولایت کے تیار کردہ سوٹ ٹائی کا استعمال، کروڑوں روپے کی لاگت کی بڑی گاڑیوں اور حفاظتی عملہ کے ساتھ سڑکوں پر ان گاڑیوں کے دوڑنے سے عام آدمی کو ریاست سے مایوسی بڑھتی جارہی ہے، دوسری طرف پورا بلوچستان تاریخی بدنظمی کا شکار ہے۔

خیبر پختون خوا میں مکمل طور پر جنگجوؤں کی کارروائیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ سندھ میں مہنگائی اور نئے صوبوں کے قیام کے خلاف احتجاج کے لیے جلسے جلوس تو نکل رہے ہیں مگر ایک اجتماعی احتجاج کی صورت نظر نہیں آتی۔ سیاسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ منظم سیاسی کلچر ختم ہونے سے اجتماعی جدوجہد کا شعور معاشرہ میں ختم ہوگیا ہے۔

ماہرین سیاسیات کہتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق کے دور اقتدار میں سیاست دانوں کی کردار کشی کی منظم مہم شروع ہوئی۔ طالع آزما قوتوں کے دانشور اس مہم کو تقویت دیتے رہے جب کہ سیاسی جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے پر بدعنوان ہونے کے الزامات عائد کرتے رہے۔ اسی دور میں تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کا ادارہ ختم کردیا گیا، یوں نوجوان تعلیمی اداروں میں تنظیم سازی اور جمہوری رویوں کی کامیابی اور ناکامی کو برداشت کرنے کا سبق سیکھتے تھے اور اجتماعی جدوجہد کے شعور سے آگاہ ہوتے تھے وہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ صنعتی اداروں میں مزدور یونین کے ادارہ پر عملاً پابندی عائد ہوگئی۔

اب مزدور یونین کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کو ایک جرم سمجھا جانے لگا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور اقتدار میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کے اجتماعی شعور کا سبق کمزور ہوا۔ ایک جمہوری عمل میں ذات، برادری، فرقہ اور مذہب کو اہمیت دی جانے لگی۔ سول حکومتیں قائم ہوئیں ، ان حکومتوں کے رہنماؤں نے سادگی کے لفظ کو اپنی لغت (Dictionary) سے خارج کردیا۔ حکومتی وزراء کے شاہانہ اخراجات اور روزانہ ذرائع ابلاغ پر کئی محکموں میں کرپشن کے اسکینڈلز کے افشا ہونے سے حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ گئے، جب سوشل میڈیا کو مقبولیت حاصل ہوئی تو منتخب نمائندوں کی شاہ خرچیاں اسمبلیوں کی کینٹین میں انتہائی سستے کھانوں کی فہرستیں وائرل ہوئیں۔

بڑی بڑی گاڑیوں کی درآمد حتیٰ کہ حکمرانوں کے لیے قیمتی جہازوں کی خریداری جیسے منصوبوں کی سوشل میڈیا پر نمائش منتخب اسمبلیوں کے ہالز میں نصب صوفوں کا برطانیہ کی پارلیمنٹ میں اراکین کے لیے نصب بنچوں کی وڈیوز ، روزانہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نمائش نے عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیے۔دوسری طرف مہنگائی کے طوفان اور یوٹیلٹی سروس کے مہنگا ہونے کے کلچر میں عام آدمی پھنس کر رہ گیا۔ ملک بھر کے غریبوں کے علاقوں، پولیس والوں کی چیرہ دستیوں اور عدالتی نظام سے فوری طور پر انصاف نہ ملنے کی بناء پر عام آدمی کا اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے اجتماعی جدوجہد کا تصور ماضی کا حصہ بن گا۔ پہلے تو تحریک انصاف اور حکومت مخالف رہنما حکومت کو فارم 47 کی پیداوار قرار دیتے تھے، اب سیاسی ڈھانچے کے بڑے حصے دار پیپلز پارٹی کے وزراء بھی مسلم لیگ ن کے خلاف ایسے ہی بیان دے دیتے ہیں مگر پھر یہی پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کی قیادت کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لیے تعاون کا لائحہ عمل بھی تیار کرتی ہے۔

اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ سیاسی کلچر کو دوبارہ کیسے مستحکم کیا جائے؟ سیاسی کلچر کو تقویت دینے کے لیے ضروری ہے کہ اقتدار میں شامل تمام جماعتیں شفافیت کو لازمی امر قرار دیں اور اپنی صفوں میں بدعنوان عناصر کا حقیقی طور پر احتساب کریں ۔ تمام منتخب اراکین سادگی کو اپنا نصب العین قرار دیں۔ کوئی شخص ولایت سے سوٹ نہ خریدے ۔ حکومتی وزراء اور بیوروکریسی ایک ہزار سی سی سے زیادہ کی گاڑیاں استعمال کرنے سے اجتناب کریں ۔

تمام وزراء اعلیٰ اپنے ہوائی جہاز، ایمرجنسی سروس کے سپرد کردیں اور کوئی منتخب رکن سرکاری توشہ خانہ سے کوئی سامان نہ خریدے۔ سیاسی رہنما ایک دوسرے کی کردار کشی کی روایت کو ترک کردیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ یونین کا ادارہ قائم کیا جائے اور ہر صنعتی ادارے میں مزدور یونین کے قیام کو لازمی قرار دیا جائے۔

نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی ادارے قائم ہونے چاہئیں تاکہ عوامی نمائندے شہری مسائل کو اپنی سطح پر حل کرلیں۔ اس کے ساتھ ہی اسکول اور کالج کی سطح پر نصاب میں آمرانہ اداروں کی تاریخ کے ابواب شامل ہونے چاہئیں تاکہ عام طالب علم مارشل لاء ادوار کے ہونے والے نقصانات سے واقف ہوسکے۔ اس طرح کے اقدامات سے ایک دفعہ پھر سیاسی جدوجہد کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ مگر سیاسی جماعتوں نے شفاف جمہوری نظام اور نچلی سطح تک اختیارات کے نظام کی اہمیت کو محسوس نہ کیا تو اس کا سارا فائدہ غیر سیاسی قوتوں کو ہوگا۔

15 ستمبر کو جمہوریت کا عالمی دن منایا گیا۔دنیا بھر میں جمہوری استحکام کے انڈیکس میں 165 ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں پاکستان کا 124ویں نمبر ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پاکستان کے واحد رہنما ہیں جنہوں نے اس دن پر خصوصی پیغام جاری کیا۔ انھوں نے پیغام میں کہا کہ جمہوریت صرف ایک نظامِ حکومت کا نام نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق میں اپنے نمائندوں کو منتخب کرنے اور ان کے احتساب کا اختیار حاصل ہونا ضروری ہے۔ عوام آزادی سے اپنے نمائندوں کو منتخب اور ان نمائندوں کے احتساب کا فریضہ ایک مضبوط سیاسی کلچر میں ہی بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے