اسلام آباد میں محبت کی یادگار، صوبیہ محل کی دلچسپ داستان
سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل
چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل
دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا
بھارت میں نریندر مودی کے دورِ اقتدار میں مسلمانوں کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو ایک منظم منصوبے کے تحت مٹانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کی ایک تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متنازع ‘وقف ترمیمی ایکٹ 2025’ کو مسلم شناخت مٹانے اور اسلامی وقف املاک پر قبضہ کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کی املاک کی مسماری اور ان پر ناجائز قبضے کی کارروائیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران ملک بھر میں مجموعی طور پر 861 مساجد، مزارات، مدارس اور عیدگاہوں کو مسمار کیا جا چکا ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 5 ستمبر 2026 کو سہارنپور کی ایک قدیم مسجد کو شہید کیا گیا۔ اس کے علاوہ تاریخ کی حامل 700 سالہ قدیم مسجد اور 200 سالہ ازغیب مسجد کو بھی منہدم کر دیا گیا ہے، جبکہ 1000 سال پرانی تاریخی ‘گنج شہیدہ مسجد’ کو مسلمانوں کے شدید احتجاج کے باوجود انہدام کا نوٹس جاری کیا جا چکا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی مذہبی و تاریخی عمارات کے خلاف یہ کارروائیاں اتراکھنڈ، اتر پردیش، دہلی، راجستھان، گجرات، مہاراشٹر، ہریانہ، آسام اور مدھیہ پردیش میں کی گئی ہیں۔
اتراکھنڈ میں 572 مزارات کو منہدم کیا گیا، جبکہ اتر پردیش میں 35 مساجد، 225 مدارس، 25 مزارات اور 6 عیدگاہوں کو بابلاڈوز کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر میں 5، گجرات میں 4، راجستھان میں 5 اور آسام میں 5 مساجد کو شہید کیا گیا۔
رپورٹ کے اہم انکشافات کے مطابق مسلم مذہبی و تاریخی عمارات اور املاک کو نشانہ بنانے اور منہدم کرنے کی یہ تمام کارروائیاں خاص طور پر ان بھارتی ریاستوں میں ہو رہی ہیں جہاں بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت قائم ہے۔
