• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 8:19 شام
  • پاکستان

جیل میں بلیاں بھی سیکیورٹی گارڈ بن گئیں، لارنس بشنوئی کے ساتھی کی جان بھی بچائی!

صرف ڈیڑھ گھنٹہ سوئیں اور لکھ پتی بن جائیں! دنیا کا انوکھا مقابلہ

خاتون کی جعلی افسر بن کر سیاستدان سے شادی، گھر کا صفایا کر کے فرار

برازیلین اسٹار فٹبالر ونیشیئس جونیئر اصلی نہیں بلکہ ہم شکل یا ’’کلون‘‘ ہیں؟

اسلام آباد : بیرون ملک ملازمت کرنے والے تارکین وطن (مائیگرینٹ ورکرز) کے بنیادی حقوق لیبر قوانین اور میزبان ملک کے قوانین کے تحت طے کیے جاتے ہیں۔

کوئی غیر ملکی اپنا پاسپورٹ آجر کو مستقل دینے کا پابند نہیں، کیونکہ پاسپورٹ کی مستقل تحویل ملازمت کی لازمی شرط نہیں ہوتی، تارکین وطن اپنے حقوق سے آگاہ رہیں۔

اس سلسلے میں بہت سی غلط فہمیاں ہیں جن پر لوگ باآسانی یقین کرلیتے ہیں لیکن ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

غلط فہمی : ملازمت کی پوری مدت کے لیے پاسپورٹ آجر کے حوالے کرنا ایک معمول کی شرط ہے اور تارکِ وطن کارکن کو اس کی تحویل پر سوال اٹھانے یا واپسی کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔

حقیقت کیا ہے؟ پاسپورٹ شناخت اور بین الاقوامی سفر کی ایک بنیادی دستاویز ہے، اسے طویل عرصے تک یا زبردستی روک کر رکھنا کارکن کی نقل و حرکت محدود کرسکتا ہے، ضروری خدمات تک رسائی میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور بدسلوکی یا استحصال کی صورت میں مدد حاصل کرنا یا وہاں سے نکلنا مشکل بنا سکتا ہے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے بیرونِ ملک ملازمت کے خواہش مند اور تارک وطن کارکنوں کے لیے اہم رہنمائی سامنے آئی ہے جس کے مطابق ملازمت کی پوری مدت کے دوران پاسپورٹ آجر کے پاس رکھوانا کوئی معمول یا لازمی شرط نہیں، جبکہ کسی کارکن کو اس کی بنیادی سفری دستاویز کی واپسی کے مطالبے سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

اعلامیے کے مطابق پاسپورٹ کی تحویل سے متعلق قوانین اور طریقۂ کار مختلف ممالک میں مختلف ہوسکتے ہیں، اس لیے بیرونِ ملک ملازمت کے لیے روانگی سے قبل متعلقہ ملک کے قوانین سے آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے۔

بیورو آف امیگریشن نے تارک وطن کارکنوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پاسپورٹ، ویزا، ملازمت کے معاہدے، شناختی دستاویزات اور ہنگامی رابطوں کی محفوظ کاغذی اور الیکٹرانک نقول اپنے پاس رکھیں۔ اسی طرح پاسپورٹ کی تحویل کی اجازت دینے والی کسی بھی دستاویز کو پڑھے اور سمجھے بغیر اس پر دستخط نہ کیے جائیں۔

رہنمائی میں مزید کہا گیا ہے کہ قرض، بھرتی کے اخراجات یا کسی ذاتی ذمہ داری کی ضمانت کے طور پر پاسپورٹ کسی غیر رسمی ایجنٹ یا درمیانی شخص کے حوالے کرنے سے گریز کیا جائے۔

اگر کسی کارکن کا پاسپورٹ غیر قانونی طور پر روک لیا جائے یا بار بار مطالبے کے باوجود واپس نہ کیا جائے تو اسے متعلقہ معاملے کے تمام شواہد محفوظ رکھنے چاہییں۔ ایسی صورت میں متعلقہ لیبر یا امیگریشن اتھارٹی، ضرورت کے مطابق مقامی پولیس، یا پاکستان کے قریبی سفارت خانے اور قونصل خانے سے رہنمائی اور معاونت حاصل کی جاسکتی ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے