غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے 3 سال مکمل ہونے پر غزہ میں ہونے والی جانی اور مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کردی۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں 24 لاکھ سے زائد شہری گزشتہ تین سالوں سے بدترین نسل کشی، فاقہ کشی اور نسلی تطہیر کا سامنا کر رہے ہیں۔
قابض اسرائیلی فورسز کے مسلسل حملوں کے نتیجے میں غزہ میں 90 فیصد سے زائد رقبے پر مکمل تباہی پھیل چکی ہے۔ اسرائیل نے زمینی دراندازی، بمباری اور شہریوں کی جبری بے دخلی کے ذریعے غزہ کے 80 فیصد سے زائد رقبے پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
گزشتہ 3 سالوں میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر 2 لاکھ 30 ہزار ٹن سے زائد بارود برسایا جا چکا ہے جبکہ نام نہاد ’محفوظ انسانی زون‘ المواصی پر بھی 287 مرتبہ بمباری کی گئی۔
غزہ میڈیا آفس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک اسپتالوں میں لائے گئے شہدا کی کل تعداد 74 ہزار 250 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 9 ہزار 500 افراد تاحال لاپتا ہیں جن میں ملبے تلے دبے یا نامعلوم انجام والے افراد شامل ہیں۔
ان شہدا میں 55 فیصد تعداد بچوں، خواتین اور بزرگوں پر مشتمل ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اب تک 21 ہزار 976 بچے شہید ہو چکے ہیں جن میں ایک سال سے کم عمر کے 1125 شیر خوار بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 9 ہزار ماؤں سمیت 12 ہزار 500 خواتین بھی اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہید ہوئیں۔
اسرائیلی فورسز نے مخصوص طبقات کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 1723 طبی عملے کے اہلکار، سول ڈیفنس کے 149 اہلکار، 262 صحافی اور 4 میئرز سمیت 194 بلدیاتی اہلکار شہید ہوئے۔ امدادی سامان کی سکیورٹی پر مامور 2 ہزار 800 پولیس اہلکار اور کھیلوں سے وابستہ 928 افراد بھی جان کی بازی ہارگئے۔
غزہ میڈیا آفس کے مطابق اسرائیلی فورسز کی جانب سےکیےگئے قتل عام سے 39 ہزار 22 خاندان متاثر ہوئے جن میں سے 2700 خاندان ایسے ہیں جن کے تمام افراد کو شہید کرکے انہیں سول ریکارڈ سے مکمل طور پر مٹا دیا گیا جبکہ 6020 خاندانوں کو اس طرح ختم کیا گیا کہ ان میں صرف ایک فرد زندہ بچا۔
غزہ میں بمباری کے علاوہ بھوک اور غذائی قلت سے 460 افراد شہید ہوئے جن میں 164 بچے شامل ہیں، جبکہ فجا سے گرائےگئے امدادی سامان کی کی زد میں آ کر 23 افراد شہید ہوئے۔
کیمپوں میں سردی سے 25 بچوں سمیت 28 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ طبی سہولیات کے فقدان کے باعث گردے کے امراض میں مبتلا 43 فیصد مریض جان کی بازی ہار گئے اور 676 مریض صرف 3 اسپتالوں میں موجود 134 ڈائیلاسز مشینوں کے سہارے موت و حیات کی کشمکش میں ہیں۔
غزہ میڈیا آفس کے مطابق خوراک کی کمی سے حاملہ خواتین میں اسقاطِ حمل کے 12 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے۔ بند کراسنگز کے باعث علاج کے منتظر 2,027 مریض جاں بحق ہو گئے، جبکہ 5803 بچوں اور 4800 کینسر کے مریضوں سمیت 21 ہزار مریض بیرونِ ملک علاج کے لیے سفر کی اجازت کے منتظر ہیں۔
غزہ میڈیا آفس کے کہنا ہے کہ اسپتالوں میں لائے گئے زخمیوں کی کل تعداد ایک لاکھ 75 ہزار 278 ہے جن میں سے 19 ہزار سے زائد زخمیوں کو طویل مدتی بحالی کی ضرورت ہے۔
اعضا کٹنے کے 5400 کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں 18 فیصد بچے ہیں۔ اس کے علاوہ 1500 افراد فالج کا شکار ہوئے اور 1200 افراد بینائی سے محروم ہو گئے، جبکہ 433 صحافی بھی زخمی ہوئے۔ طبی عملے کے 362 ارکان کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 83 تاحال قید ہیں اور ڈاکٹر عدنان البرش، ڈاکٹر ایاد الرنتیسی اور ڈاکٹر زیاد الدلو سمیت 6 طبی اہلکار اسرائیلی جیلوں میں دورانِ حراست تشدد سے شہید ہوئے۔
جنگ کی وجہ سے 28 ہزار 560 خواتین بیوہ ہوئیں اور 62 ہزار 247 بچے یتیم ہو گئے، جن میں 2774 بچے دونوں والدین سے، 8394 بچے اپنی ماؤں سے اور 58 ہزار 875 بچے اپنے والد سے محروم ہوئے۔
غزہ میں جبری نقل مکانی کے باعث 21 لاکھ 42 ہزار سے زائد افراد مختلف وبائی امراض کا شکار ہوئے ہیں جبکہ ہیپاٹائٹس کے 71 ہزار 388 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
غزہ کے کل 38 اسپتالوں (5 سرکاری اور 14 نجی) میں سے اس وقت صرف 19 اسپتال انتہائی محدود صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ شمالی غزہ اور رفح میں طبی سہولیات کی فراہمی صفر ہو چکی ہے۔
اسپتالوں میں بستروں کی گنجائش 3412 سے کم ہو کر صرف 2623 رہ گئی ہے اور 96 ہیلتھ کیئر سینٹرز کو تباہ یا غیر فعال کر دیا گیا ہے۔
غزہ میڈیا آفس کے مطابق 80 فیصد ٹرانسپورٹ گاڑیاں غیر فعال ہو چکی ہیں اور 70 فیصد جنریٹرز ناکارہ ہو چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ جنریٹرز پرزوں کی عدم دستیابی کے باعث بمشکل چل رہے ہیں۔ سول ڈیفنس کے 18 مراکز مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے اور ان کی 84 ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں تباہ حالی کا شکار ہیں۔
غزہ میں بمباری کے نتیجے میں 97 فیصد اسکولوں کو نقصان پہنچا ہے اور 87 فیصد عمارتوں کو وسیع پیمانے پر بحالی کی ضرورت ہے۔ 80 فیصد اسکولوں پر براہِ راست بمباری کی گئی اور اعلیٰ تعلیم کے 17 اداروں کو بھی مکمل یا جزوی طور پر تباہ کیا گیا ہے۔
اساتذہ اور طلبا کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور 22 ہزار سے زائد طلبا، 1100 سے زائد اساتذہ اور 194 سے زائد ماہرینِ تعلیم و سائنسدان شہید ہو چکے ہیں۔
اس صورتحال کے باعث غزہ میں اسکول جانے والے 6 لاکھ 50 ہزار اور جامعات کے 90 ہزار سے زائد طلبا تعلیم سے مکمل طور پر محروم ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی حملوں میں غزہ کی 1275 میں سے 1076 مساجد کو مکمل طور پر شہید کردیا گیا ہے جبکہ 166 کو جزوی نقصان پہنچایا گیا جبکہ 3 گرجا گھروں کو بھی متعدد بار نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 330 آئمہ کرام، خطبا اور مبلغین شہید ہوئے جبکہ 38 لاپتا یا گرفتار ہیں۔
اسرائیلی حملوں میں کل 60 میں سے 40 قبرستانوں کو تباہ کر دیا گیا اور اسرائیلی فورسز نے 2450 سے زائد شہدا کی لاشیں چوری کیں۔ اسپتالوں کے اندر قابض فورسز کی جانب سے بنائی گئی 7 اجتماعی قبریں بھی دریافت ہوئیں جن سے 1850 شہدا کی لاشیں نکالی گئیں۔
رہائشی انفراسٹرکچر کی تباہی کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کُل 2 لاکھ 27 ہزار 703عمارتوں اور 5 لاکھ 10 ہزار رہائشی یونٹس کو نقصان پہنچا ہے۔ ان میں سے 3 لاکھ 35 ہزار عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ 75 ہزار ناقابلِ رہائش ہیں۔ ایک لاکھ رہائشی یونٹس جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں لیکن وہ قابلِ رہائش ہیں۔
اس وقت 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد خاندانوں کو پناہ درکار ہے اور 2 لاکھ 70 ہزار خیموں میں سے ایک لاکھ 62 ہزار خیمے بوسیدہ ہو کر ناقابلِ رہائش ہو چکے ہیں۔ جبری بے دخلی کے باعث 20 لاکھ سے زائد شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے 5 لاکھ سے زائد امدادی اور ایندھن کے ٹرکوں کا غزہ میں داخلہ روک کر فاقہ کشی کی پالیسی کو فروغ دیا۔ اس پالیسی کے تحت 48 لنگر خانوں، 64 امدادی مراکز اور امدادی قافلوں پر 128 مرتبہ حملے کیے گئے جن میں 556 امدادی کارکن شہید ہوئے۔
نام نہاد ’امریکی/اسرائیلی امدادی مراکز‘ کے جال میں پھنس کر امداد کے منتظر 2605 افراد شہید، 19124 زخمی اور 200 سے زائد لاپتا ہوئے۔
خوراک کی کمی کے باعث 6 لاکھ 50 ہزار بچے اور 40 ہزار شیر خوار بچے موت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث کینسر کے 12 ہزار 500مریض اور 3 لاکھ 50 ہزار دائمی امراض کے شکار افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔
اسرائیل نے غزہ میں عوامی سہولیات کو بھی منظم انداز میں تباہ کیا، جس میں 725 پانی کے کنویں اور 134 میٹھے پانی کے منصوبے غیر فعال کر دیے گئے۔
بجلی کے نظام کی 5080 کلومیٹر لائنیں، 2285 ٹرانسفارمرز اور 2 لاکھ 35 ہزار میٹرز تباہ کیے گئے، جس سے غزہ 2.123 ارب کلو واٹ بجلی سے محروم رہا۔ اس کے علاوہ 7 لاکھ میٹر پانی کی لائنیں، 7 لاکھ میٹر سیوریج کا نظام اور 30 لاکھ میٹر طویل سڑکیں تباہ کر دی گئیں۔
غزہ میں 253 سرکاری دفاتر، 292 کھیلوں کے میدان اور 208 آثارِ قدیمہ کے مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ زراعت کے شعبے میں 87 فیصد زرعی اراضی، 8700 کنویں، 3828 تالاب، 9 ہزار 992 مویشی فارمز اور 87 فیصد گرین ہاؤسز تباہ کیے گئے۔ جنگ کے دوران 69 ہزار سے زائد جانور ہلاک کیے گئے جبکہ فش فارمنگ کو 90 فیصد اور روایتی ماہی گیری کو 84.6 فیصد نقصان پہنچا۔
غزہ میڈیا آفس کے مطابق نسل کشی کی اس 3 سالہ جنگ کے مجموعی براہِ راست نقصانات کا ابتدائی تخمینہ 80 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔ مختلف شعبوں میں ہونے والے نقصانات کی تفصیل کے مطابق سب سے زیادہ نقصان ہاؤسنگ سیکٹر کو ہوا جو کہ 34 ارب ڈالر ہے۔
اس کے بعد صحت اور بلدیاتی شعبوں کو 6،6 ارب ڈالر جبکہ تجارتی اور گھریلو اشیا (فرنیچر وغیرہ) کے شعبوں کو 5،5 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔
صنعتی، زرعی اور تعلیم کے شعبوں میں سے ہر ایک کو 4،4 ارب ڈالر کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یو اے ای میں پیک شدہ غذاؤں میں نمک، چینی اور چکنائی کی مقدار کے استعمال کی حدود طے
یوکرین کا روس کی جانب سے اب تک کے سب سے بڑے حملے کا دعویٰ، 11 افراد ہلاک
جعلی افسر بن کر سیاسی رہنما سے شادی کرنیوالی خاتون زیورات و قیمتی سامان لے کر فرار
بھارتی ریاست گجرات میں تیز رفتار گاڑی کھڑے ٹریلر سے ٹکرا گئی، 7 افراد ہلاک
ایران کیخلاف جنگ کے دوران کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا، رپورٹ
معاہدے کیلئے تیار ہیں لیکن ایران کو جوہری افزودگی کی صلاحیت کم کرنا ہوگی: امریکی نائب صدر
امریکا نے ممکنہ ایرانی ڈرون حملے کی انٹیلیجنس رپورٹس پر برطانیہ سے اپنے بمبار طیارے منتقل کیے: امریکی اخبار
جرمنی کے سابق انٹیلیجنس سربراہ جاسوسی اور غداری کے الزامات میں گرفتار
بھارت: اپوزیشن کا الیکشن کمیشن کیخلاف احتجاج، پولیس نے راہول گاندھی کو حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا
ٹرمپ نے سابق امریکی میجرکو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا حکم دے دیا
نائیجیریا میں فوجی طیارہ گرنے سے تمام 32 افراد ہلاک
فرانس کے واحد نیوکلیئر پاورڈ طیارہ بردار جہاز چارلس ڈی گال پر آگ بھڑک اٹھی
تازہ ترین
• 7 منٹ پہلے غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کے 3 سال مکمل، تباہی و بربادی کے ہولناک اعداد و شمار سامنے آگئے
• 36 منٹ پہلے بیشتر افراد کی پسندیدہ وہ غذا جو گردوں کے تکلیف دہ امراض کا شکار بنا دیتی ہے
بیشتر افراد کی پسندیدہ وہ غذا جو گردوں کے تکلیف دہ امراض کا شکار بنا دیتی ہے
• 52 منٹ پہلے پورے صوبےکو یرغمال نہیں بنایا جاسکتا، حکومت کے پی میں گورنر راج سمیت تمام آئینی اور قانونی آپشنز پر غورکررہی ہے: خواجہ آصف
پورے صوبےکو یرغمال نہیں بنایا جاسکتا، حکومت کے پی میں گورنر راج سمیت تمام آئینی اور قانونی آپشنز پر غورکررہی ہے: خواجہ آصف
• 60 منٹ پہلے عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے، محمود خان اچکزئی
عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے، محمود خان اچکزئی
• 2 گھنٹے پہلے ملک میں فی تولہ سونا 3100 روپے سستا ہوگیا
ملک میں فی تولہ سونا 3100 روپے سستا ہوگیا
• 2 گھنٹے پہلے پاک بحریہ کی بحیرہ عرب میں کارروائیاں، کروڑوں ڈالر مالیت کی منشیات برآمد
پاک بحریہ کی بحیرہ عرب میں کارروائیاں، کروڑوں ڈالر مالیت کی منشیات برآمد
• 2 گھنٹے پہلے کیا ریاضی کی اس پہیلی کو حل کرسکتے ہیں؟
کیا ریاضی کی اس پہیلی کو حل کرسکتے ہیں؟
• 2 گھنٹے پہلے خطے کے 48 فیصد غریب پاکستان میں آباد، یومیہ آمدنی 850 روپے سے بھی کم: ورلڈ بینک کی ہوشربا رپورٹ
