امریکہ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر سرخ قالین بچھایا گیا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مہمان، چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ کھڑے تھے۔ کیمروں کی نگاہیں دونوں رہنماؤں پر جمی تھیں کہ اچانک امریکی فوجی طیاروں کی گرج نے فضا کو ہلا دیا۔ طیارے استقبال کیلئے اوپر سے گزرے تو ٹرمپ نے طیاروں کی گرجدارآواز پر چہرہ سکیڑا اور لمحہ بھر کیلئے سر جھکا لیا۔ مگر ان کے پہلو میں کھڑےمضبوط اعصاب کے مالک چینی صدر شی جن پنگ کے چہرے پر ہلکی سی تبدیلی بھی نہ آئی۔جنگی جہازوں کاشور یوں خاموشی سے برداشت کرنا انکے مضبوط اعصاب کی نشانی ہے ، چینی صدر کے مضبوط اعصاب کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ کوئی بھی انکے چہرے اور آنکھوں سے یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں اور عنقریب وہ کیا فیصلہ کرنے والے ہیں ، بہر حال چینی صدر کے اس ردعمل نے مجھے انکی زندگی کے بارے میں مزید جاننے پر مجبور کردیا۔
شی جن پنگ 15 جون 1953 کو بیجنگ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شی ژونگ شُن چین کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ بچپن کے ابتدائی برس نسبتاً آسودہ گزرے، مگر پھر ملک میں ثقافتی انقلاب کا ہنگامہ اٹھا۔ والد سیاسی عتاب کا شکار ہوئے، خاندان کی زندگی بدل گئی اور تعلیم کا سلسلہ بھی متاثر ہوا۔ جس بچے نے بیجنگ میں آنکھ کھولی تھی، اسے کم عمری میں گھر سے دور ایک ایسے ماحول میں جانا پڑا جہاں آسائشیں بہت کم تھیں اور ہر دن اپنی الگ آزمائش رکھتا تھا۔
یہ جگہ شانشی صوبے کا گاؤں لیانگ جیاہے تھا۔ نوجوان شی وہاں کسانوں کے ساتھ رہے، کھیتوں میں کام کیا اور دیہی زندگی کی سختیاں دیکھیں۔ گاؤں میں گزارے گئے برس انکی زندگی کا محض ایک مشکل وقفہ نہیں تھےیہی وہ مقام تھا جہاں انہوں نے عام لوگوں کی ضروریات کو قریب سے دیکھا۔ آج جب انکی سیاسی شخصیت پر گفتگو ہوتی ہے تو بیجنگ کے ایوانوں سے پہلے اس گاؤں کا ذکر آتا ہے۔ اقتدار کی بلند ترین کرسی تک پہنچنے والے شخص نے اپنی جوانی کا ایک حصہ زمین پر محنت کرتے ہوئے گزارا تھا۔
1974 میں شی جن پنگ چین کی کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوئے اور گاؤں کی پارٹی شاخ کی ذمہ داری سنبھالی۔ اگلے سال وہ بیجنگ کی سنگھوا یونیورسٹی پہنچے، جہاں انہوں نے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے اسی یونیورسٹی سے مزید اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔ ان کی زندگی کا یہ موڑ کسی فلم کے منظر جیسا لگتا ہے: ایک طرف گاؤں کی کٹھن زندگی کی یادیں، دوسری طرف کتابیں، تجربہ گاہیں اور مستقبل کے نئے امکانات۔ مگر یونیورسٹی سے نکل کر بھی وہ سیدھے ملک کی اعلیٰ قیادت تک نہیں پہنچے۔
انہوں نے پہلے سرکاری ذمہ داریاں نبھائیں، پھر مقامی سیاست کا راستہ اختیار کیا۔ صوبہ ہیبے کے علاقے ژینگ دِنگ سے شروع ہونے والا انتظامی سفر فوجیان، ژی جیانگ اور شنگھائی تک پھیلا۔ ہر جگہ انہیں الگ مسائل، الگ لوگوں اور الگ فیصلوں کا سامنا ہوا۔ اسی طویل سفر کے بعد وہ 2012 میں کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور 2013 میں چین کے صدر بنے۔ گاؤں سے دارالحکومت تک پہنچنے میں انہیں چند مہینے نہیں، کئی دہائیاں لگیں۔
شی جن پنگ کے دور میں بدعنوانی کے خلاف بڑی مہم چلی، بنیادی ڈھانچے، صنعت اور ٹیکنالوجی پر توجہ بڑھی اور چین نے عالمی سطح پر اپنا کردار مزید نمایاں کیا۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے اس نے ایشیا سے افریقہ اور یورپ تک معاشی روابط بڑھانے کی کوشش کی۔ امریکہ کے ساتھ تجارت اور ٹیکنالوجی پر دباؤ کی کشمکش ہو یا تائیوان پر اختلاف، شی جن پنگ کو ایک ایسی طاقت کی قیادت کرنا پڑی جو اپنی ترقی بھی جاری رکھنا چاہتی ہے اور دنیا میں اپنے مفادات کا تحفظ بھی۔
پاکستانیوں کیلئے شی جن پنگ کی کہانی میں ایک اپنا باب بھی ہے۔ اپریل 2015 میں وہ پاکستان آئے، پارلیمان سے خطاب کیا اور پاک چین دوستی کو نئی معاشی قوت دینے کا عزم ظاہر کیا۔ ان کے دور میں سی پیک کے تحت توانائی، سڑکوں اور دیگر منصوبوں میں سرمایہ کاری ہوئی۔ چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق 2024 کے اختتام تک سی پیک پاکستان میں تقریباً 25.93 ارب ڈالر کی براہِ راست سرمایہ کاری لا چکا تھا۔ گوادر میں بندرگاہ کے ساتھ ہوائی اڈے، اسپتال اور دوسرے منصوبوں نے ترقی کے امکانات بڑھائے۔ دفاع میں چین پاکستان کا پرانا شراکت دار ہے، جبکہ اب دو پاکستانی امیدوار چین میں خلا بازوں کی تربیت حاصل کر رہے ہیں تاکہ ان میں سے ایک مستقبل میں چینی خلائی اسٹیشن کے مشن میں شریک ہو سکے۔
اس تعاون کو آگے بڑھانے میں پاکستان کی قیادت اور اداروں کا حصہ بھی اہم ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سی پیک کے اگلے مرحلے اور چین کے ساتھ معاشی روابط کے تسلسل پر زور دیا ہے۔ وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے منصوبوں کی نگرانی اور دونوں ملکوں کے درمیان رابطے میں نمایاں کام کیا؛ انہیں چین کی جانب سے ’’ہیرو آف سی پیک‘‘ بھی کہا گیا۔ اب اصل ذمہ داری یہ ہے کہ سرمایہ کاری کے ثمرات گوادر کے رہائشیوں، پاکستانی صنعتوں اور ملازمت کے منتظر نوجوانوں تک پہنچیں۔
میں پھر امریکہ کے اس ہوائی اڈے کا منظر یاد کرتا ہوں۔ جہاز گرجے اور گزر گئے۔ شی جن پنگ کے چہرے کی خاموشی نے مجھے ان کی زندگی کی طرف متوجہ کیا، مگر ان کی کہانی کا سبق اس ایک لمحے سے بڑا ہے: مشکل وقت میں کام سیکھنا، منزل کیلئے برسوں محنت کرنا اور منصوبوں کو حکومتوں کے بدلنے سے بچانا۔ پاکستان اگر چین کے تجربے سے مستقل مزاجی اور عمل درآمد کا یہ سبق بھی لے لے تو ترقی کی منزل اتنی دور نہیں رہے گی۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
حیرتوں والی زمین چین کا سفر
پاپولسٹ قیادت
تحریک انصاف آر یا پار!
رضوان پر بھینس چوری کا ہی الزام لگا دیتے!!
مسلم لیگ (ن) کی ’’تنہا پرواز‘‘
جماعت اسلامی کی آسان سیاست
مکہ کی طرف بڑھتا ڈرون!
مریم نواز کا بیان اور زمینی حقائق
پاکستان کرکٹ: نظام کٹہرے میں
ننگشیا ریجن کا میڈیا کلاؤڈ پلیٹ فارم
صوبے یا انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت
تازہ ترین
• 9 منٹ پہلے مضبوط اعصاب کے حامل چینی صدر شی جن پنگ
• 2 گھنٹے پہلے اماراتی پرواز میں کپتان پر چاقو سے حملہ کرنیوالا شریک پائلٹ برطانیہ میں پڑھا تھا: رپورٹ
اماراتی پرواز میں کپتان پر چاقو سے حملہ کرنیوالا شریک پائلٹ برطانیہ میں پڑھا تھا: رپورٹ
• 3 گھنٹے پہلے سعودی عرب اور یمن کی فوج نے حوثیوں کیخلاف فوجی کارروائی کا منصوبہ بنالیا: رپورٹ
سعودی عرب اور یمن کی فوج نے حوثیوں کیخلاف فوجی کارروائی کا منصوبہ بنالیا: رپورٹ
• 6 گھنٹے پہلے حکومت اور اپوزیشن کے درمیا ن جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے: ذرائع
حکومت اور اپوزیشن کے درمیا ن جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے: ذرائع
• 9 گھنٹے پہلے سہیل آفریدی کا آج لکی مروت سے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کرنے کا اعلان
سہیل آفریدی کا آج لکی مروت سے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کرنے کا اعلان
• 10 گھنٹے پہلے امریکی ریاست کیلیفورنیا میں 18سال سے کم عمر افراد کی شادی پر پابندی کا قانون منظور
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں 18سال سے کم عمر افراد کی شادی پر پابندی کا قانون منظور
• 10 گھنٹے پہلے شمالی کوریا کا ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ
شمالی کوریا کا ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ
• 03 اکتوبر ، 2026 برمودا سے مریض سمیت 6 افراد کو لیکر بوسٹن جانیوالا طیارہ لاپتہ ہوگیا
